چاچڑاں سے کوٹ مٹھن تک حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی لازوال داستان،تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ
نقطہ نظر
سرائیکی وسیب کی مٹی نے صدیوں سے ایسے اہلِ دل پیدا کیے ہیں جنہوں نے اپنی محبت، فکر، علم اور روحانی تجربے سے پورے خطے کو روشن کیا۔ انہی درخشاں ناموں میں سلطان العاشقین، معروف صوفی بزرگ اور شاعرِ ہفت زبان حضرت خواجہ غلام فرید کوریجہ رحمۃ اللہ علیہ کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ آپ کی آواز میں روہی کے ریگزار کی وسعت بھی ہے، دریائے سندھ کی روانی بھی، فطرت کی خوب صورتی بھی اور عشقِ حقیقی کی وہ تڑپ بھی جو انسان کو اپنے خالق کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ 26 نومبر 1845ء، بروز منگل، ریاست بہاولپور کے قصبہ چاچڑاں شریف میں پیدا ہوئے۔ بعض سوانحی ماخذ آپ کی تاریخِ ولادت 23 ذوالحجہ 1261ھ بیان کرتے ہیں۔ آپ کے والد محترم حضرت خواجہ خدا بخش المعروف محبوبِ الٰہی تھے۔ آپ کا خاندان کوریجہ کے نام سے معروف تھا اور روایتی شجرۂ نسب حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ آپ کی والدہ محترمہ کا انتقال آپ کی کم سنی میں ہوگیا، جبکہ والد محترم بھی آپ کے بچپن ہی میں وفات پا گئے۔ یوں زندگی کے ابتدائی دور ہی میں یتیمی کا دکھ آپ کے حصے میں آیا۔ آپ کی پرورش اور تربیت آپ کے بڑے بھائی حضرت خواجہ فخر جہاںؒ نے کی، جو بعد میں آپ کے مرشد بھی بنے۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ غیر معمولی علمی ذوق رکھنے والے بزرگ تھے۔ آپ نے قرآن مجید اور دینی علوم کی تعلیم حاصل کی اور فارسی، عربی، اردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی اور برج بھاشا سمیت متعدد زبانوں پر دسترس حاصل کی۔ کم عمری میں آپ کی علمی تربیت کے لیے آپ کو بہاولپور کے شاہی ماحول میں بھی رہنے کا موقع ملا۔ سرکاری ماخذ کے مطابق نواب صادق محمد خان پنجم کا ذکر اس سلسلے میں ملتا ہے، جبکہ مقامی و سوانحی روایات میں نواب صادق محمد خان رابع عباسی کا تذکرہ حضرت خواجہ صاحب کے قریبی روحانی تعلق کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ تاریخی حوالوں میں نام اور ادوار کے بیان میں فرق ملتا ہے، تاہم یہ بات متعدد ماخذ میں موجود ہے کہ بہاولپور کے عباسی حکمران خاندان سے حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا گہرا علمی اور روحانی تعلق تھا۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ نے اپنے بڑے بھائی حضرت خواجہ فخر جہاںؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی۔ بھائی ہی آپ کے مرشد اور روحانی رہنما تھے۔ ان کے وصال کے بعد حضرت خواجہ غلام فریدؒ سجادہ نشین ہوئے اور لوگوں کی روحانی رہنمائی کا سلسلہ آگے بڑھایا۔ آپ کی شخصیت میں علم، عبادت، سخاوت، عاجزی اور انسان دوستی کا حسین امتزاج نظر آتا تھا۔ آپ کا تعلق چشتی نظامی سلسلے سے بیان کیا جاتا ہے۔ آپ کے پاس آنے والے لوگوں میں امیر و غریب کی تفریق نہ تھی۔ آپ کی خانقاہ کا دروازہ ہر ضرورت مند کے لیے کھلا رہتا تھا اور لنگر و خیرات کے ذریعے غرباء کی مدد آپ کی زندگی کا نمایاں پہلو تھی۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی شخصیت اور شاعری کو روہی سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ آپ نے چولستان کے وسیع ریگزار میں طویل عرصہ گزارا۔ معتبر سرکاری تعارف کے مطابق آپ تقریباً اٹھارہ برس روہی میں رہے۔ یہی وہ سرزمین تھی جہاں ریت کے ٹیلے، تنہائی، چرواہوں کی زندگی، صحرائی پودے، بارش کی آس اور دور تک پھیلا ہوا آسمان آپ کے شعری احساس کا حصہ بن گئے۔ آپ کی شاعری میں روہی صرف ایک صحرا نہیں بلکہ ایک روحانی استعارہ بن کر سامنے آتی ہے۔ کہیں یہ محبوب کی تلاش ہے، کہیں انسان کے باطن کا سفر اور کہیں دنیا کی بے ثباتی کا احساس۔ اسی لیے خواجہ فریدؒ کا کلام پڑھتے ہوئے قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر ریت کے ذروں، ہوا کے جھونکوں اور دور افق کے ذریعے دل کی کوئی پوشیدہ بات بیان کر رہا ہو۔ نواب صادق محمد خان عباسی اور حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا تعلق محض درباری یا رسمی نوعیت کا نہیں تھا۔ سوانحی روایات میں نواب صادق محمد خان رابع عباسی کو حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا مریدِ خاص بیان کیا گیا ہے۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت خواجہ صاحب نے نواب کو حکمرانی میں نرمی اور عاجزی اختیار کرنے کی نصیحت فرمائی۔ اسی روحانی تعلق کی ایک خوب صورت مثال یہ بیان کی جاتی ہے کہ حضرت خواجہ غلام فریدؒ نے نواب صاحب کو سختی کے بجائے نرمی اختیار کرنے کی تلقین کی۔ یہ واقعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خواجہ فریدؒ کے نزدیک اقتدار کی اصل خوب صورتی رعایا کے ساتھ حسنِ سلوک، عاجزی اور انصاف میں تھی۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ نے ازدواجی زندگی بھی گزاری۔ دستیاب سوانحی روایات کے مطابق آپ کی اولاد میں ایک صاحبزادے حضرت خواجہ محمد بخش المعروف نازک کریم اور ایک صاحبزادی تھیں۔ آپ کی زندگی کا بڑا حصہ عبادت، علم، روحانی تربیت، خانقاہی خدمت، سفر اور روہی کی خلوتوں میں گزرا۔ آپ دنیاوی آسائشوں کے بجائے سادگی، قناعت اور خدمتِ خلق کو اہمیت دیتے تھے۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ بنیادی طور پر سرائیکی وسیب کے عظیم شاعر ہیں اور ان کا سب سے معروف کلام سرائیکی و ملتانی روایت میں محفوظ ہے۔ آپ کو شاعرِ ہفت زبان اس لیے کہا جاتا ہے کہ آپ نے متعدد زبانوں میں اظہارِ خیال کیا۔ آپ عربی، فارسی، اردو، پنجابی، سندھی، سرائیکی اور برج بھاشا سے واقف تھے، جبکہ مختلف ماخذ آپ کے اردو، فارسی، سندھی، ہندی، پوربی اور عربی کلام کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ آپ کی شاعری میں کافیاں خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ سرائیکی دیوان میں 272 کافیاں بیان کی جاتی ہیں۔ آپ نے دوہے اور دیگر شعری اصناف میں بھی اظہار کیا۔ آپ کے کلام کا بنیادی موضوع عشق ہے، لیکن یہ عشق صرف دنیاوی محبت تک محدود نہیں رہتا۔ اس میں عشقِ حقیقی، فراق، وصال، انسانی بے بسی، معرفت، فطرت، روہی، محبوبِ حقیقی کی جستجو اور دنیا کی ناپائیداری سب ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواجہ فریدؒ کا کلام صدیوں بعد بھی دل پر اثر کرتا ہے۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا سب سے معروف شعری مجموعہ دیوانِ فرید ہے، جس میں ان کا بڑا حصۂ کلام محفوظ ہے۔ آپ کی معروف تصانیف میں مناقبِ محبوبیہ اور فوائدِ فریدیہ بھی شامل ہیں، جو فارسی نثر سے متعلق ہیں۔ بعض ماخذ مثنوی معدنِ عشق کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ ان تصانیف اور شعری مجموعوں نے نہ صرف آپ کی فکری شخصیت کو محفوظ کیا بلکہ سرائیکی اور وسیبی ادب کے لیے بھی ایک ایسا سرمایہ چھوڑا جس کی اہمیت وقت گزرنے کے ساتھ مزید نمایاں ہوئی۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کو حجِ بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ پنجاب اوقاف کے سرکاری تعارف کے مطابق آپ نے 1876ء میں حج ادا کیا۔ زندگی بھر علم، عبادت، محبت اور خدمت کا چراغ روشن رکھنے والے اس عظیم صوفی شاعر کا وصال 24 جولائی 1901ء کو چاچڑاں شریف میں ہوا۔ متعدد سوانحی ماخذ آپ کی تاریخِ وصال 7 ربیع الثانی 1319ھ بیان کرتے ہیں۔ آپ کی عمر تقریباً 56 برس تھی۔ آپ نے اپنی آخری سانسیں اسی چاچڑاں شریف کی سرزمین پر لیں جہاں آپ نے جنم لیا تھا۔ بعد ازاں آپ کو کوٹ مٹھن شریف میں سپردِ خاک کیا گیا۔ یوں آپ کی زندگی کا آغاز چاچڑاں شریف سے ہوا اور مزارِ مبارک کوٹ مٹھن شریف میں مرجعِ عقیدت بنا۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا مزارِ اقدس کوٹ مٹھن شریف، ضلع راجن پور میں واقع ہے۔ پنجاب اوقاف کے سرکاری ریکارڈ میں بھی آپ کا مزار کوٹ مٹھن کے اہم مزارات میں شامل ہے۔ آج بھی پاکستان بھر سے عقیدت مند آپ کے آستانے پر حاضری دیتے ہیں۔ کوٹ مٹھن کی فضائیں ہر سال عرس کے موقع پر ذکر، درود، فاتحہ، محافل اور عقیدت مندوں کی آمد سے آباد ہوجاتی ہیں۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا سالانہ عرس عموماً 5، 6 اور 7 ربیع الثانی کو منعقد کیا جاتا ہے۔ 2024ء میں آپ کا 127واں تین روزہ عرس منعقد ہوا اور 2025ء میں 128واں عرس ہوا۔ موجودہ سال 2026ء میں 5 ربیع الثانی 1448ھ 17 ستمبر کو آرہی ہے، اس حساب سے آج سے شروع ہونے والی تین روزہ تقریبات 129ویں سالانہ عرسِ مبارک کے طور پر شمار ہوتی ہیں، جو 5، 6 اور 7 ربیع الثانی کے مطابق 17، 18 اور 19 ستمبر 2026ء بنتی ہیں۔ قمری تاریخوں میں مقامی رویتِ ہلال کے سبب ایک دن کا فرق ممکن ہوتا ہے۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی سب سے بڑی میراث صرف ان کا دیوان نہیں بلکہ ان کا وہ پیغام ہے جس میں محبت، برداشت، عاجزی، انسان دوستی، رواداری اور عشقِ حقیقی نمایاں ہیں۔ ان کی شاعری ہمیں بتاتی ہے کہ صوفیانہ فکر صرف خانقاہ کی چار دیواری تک محدود نہیں ہوتی بلکہ وہ انسان کے رویے، معاشرے اور پوری زندگی کو متاثر کرتی ہے۔ خواجہ فریدؒ نے روہی کے خاموش ریگزار کو زبان دی، فطرت کو شعر بنایا اور انسانی دل کی بے قراری کو کافیاں عطا کیں۔ ان کے ہاں ریت کا ذرہ بھی معنی رکھتا ہے اور محبوب کی یاد بھی۔ ان کے ہاں ہجر صرف جدائی نہیں بلکہ تلاش ہے، اور عشق صرف جذبات نہیں بلکہ اپنے آپ کو پہچاننے کا سفر ہے۔ اسی لیے آج بھی جب روہی کی ہوا ریت کے ٹیلوں سے گزرتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اس خاموش فضا میں کہیں دور سے وہی آواز آ رہی ہو جس نے صدیوں کے فاصلے کو مٹا دیا ہے۔ چاچڑاں شریف کا یہ فرزند کوٹ مٹھن میں آرام فرما ہے، مگر اس کا کلام آج بھی وسیب کے دل میں زندہ ہے۔ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کا نام سرائیکی ادب، صوفیانہ شاعری اور وسیب کی تہذیبی تاریخ میں ہمیشہ ایک روشن چراغ کی مانند قائم رہے گا۔ ان کا کلام آنے والی نسلوں کو بھی محبت، معرفت اور انسانیت کا راستہ دکھاتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کی تعلیماتِ محبت، عاجزی اور خدمتِ خلق کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔





