Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بیوہ، مطلقہ اور بڑی عمر کی خواتین کی شادیاں ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

ہمارے معاشرے کی منافقت کا اس سے بڑا کوئی ثبوت نہیں ہو سکتا کہ جہاں مساجد کے منبروں سے لے کر ڈرائنگ رومز کی محفلوں تک دین کی پیروی کے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں، وہیں عملی زندگی میں ہمارا طرزِ عمل خالصتاً جاہلانہ اور بے حس روایات کے تابع رہتا ہے۔ جب ہم اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو قدم قدم پر ایک ایسا خاموش المیہ چیختا ہوا محسوس ہوتا ہے جس پر پورے سماج نے مجرمانہ چپ سادھ رکھی ہے۔ یہ المیہ ان لاکھوں خواتین کا ہے جو بیوہ ہو چکی ہیں، طلاق کی تلخی جھیل چکی ہیں، یا محض سالوں کی گرد چڑھ جانے کے سبب تیس اور چالیس کی دہلیز پار کر چکی ہیں۔ ان کے مقدر میں تنہائی، محرومی، طعنے اور معاشرتی بے دخلی لکھ دی گئی ہے، گویا جوانی کا ڈھل جانا یا کسی حادثے کا شکار ہو جانا عورت کے لیے جیتے جی مر جانے کے مترادف ہو۔


اس پورے بحران میں اگر کسی فریق کو اپنی سمت درست کرنے اور تاریخی کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے، تو وہ ہمارا مرد ہے۔ صدیوں سے ہمارے خطے پر راج کرنے والے غیر مسلم ہندوانہ اثرات نے ہمارے مرد کی سوچ کو اس قدر زنگ آلود کر دیا ہے کہ وہ بیوہ کو منحوس اور طلاق یافتہ کو خاندان کے ماتھے کا داغ سمجھنے لگا ہے۔ آج کا مرد چاہے خود پچاس سال کا ہو جائے، پہلی یا دوسری شادی کے لیے اس کی نظر صرف اٹھارہ یا بیس سال کی کنواری لڑکی پر ہی جمتی ہے۔ یہ سوچ نہ صرف انتہائی خود غرضانہ ہے بلکہ انسانی وقار کی بھی بدترین توہین ہے۔ جس مذہب کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں، اس کے سب سے بڑے رہبر، سرورِ کونین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے پچیس سال کے بھرپور شباب میں چالیس سالہ بیوہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ سے نکاح کر کے رہتی دنیا تک مردانگی کا ایک نیا اور درخشاں معیار قائم فرمایا تھا۔ بعد ازاں آپ ﷺ نے سیدہ عائشہؓ کے علاوہ جن پاکیزہ ہستیوں کو اپنے عقد میں لیا، وہ سب کی سب بیوہ یا مطلقہ تھیں۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں تو یہ سوچ سرے سے موجود ہی نہ تھی کہ بیوہ عورت کو گھر میں بٹھا دیا جائے؛ وہاں تو عدت ختم ہوتے ہی بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ ان کے گھروں پر نکاح کے پیغامات بھیجتے تھے کیونکہ وہ نکاح کو شہوت کا کھیل نہیں بلکہ ایک بے آسرا وجود کو عزت، تحفظ اور باوقار رفاقت فراہم کرنے کی نبوی سنت سمجھتے تھے۔


آج ہمارے مرد کو اس فرسودہ ذہنیت کے حصار کو توڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔ بالخصوص وہ نوجوان مرد جو باشعور ہیں، تعلیم یافتہ ہیں اور خود کو عملی مسلمان کہلواتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ پہلی شادی کے لیے محض نو عمر لڑکیوں کی دوڑ میں شامل ہونے کے بجائے بڑی عمر کی سلجھی ہوئی، یا کسی آزمائش سے گزری ہوئی باوقار بیوہ اور مطلقہ خاتون کا ہاتھ تھامنے کا اخلاقی حوصلہ پیدا کریں۔ شادی کا مقصد محض شکل و صورت کی نمائش نہیں بلکہ دو روحوں کی رفاقت، ذہنی ہم آہنگی اور نسلِ انسانی کا باوقار تسلسل ہے۔ ایک تیس یا پینتیس سالہ خاتون جس نے زندگی کی دھوپ چھاؤں دیکھی ہو، وہ ایک کچے ذہن کی کم عمر بچی کے مقابلے میں کہیں زیادہ فہم و فراست کے ساتھ ایک مستحکم گھر کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ اس سوچ کو عام کرنا کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مردوں کا اخلاقی امتحان ہے۔


اسی طرح وہ مرد جو صاحبِ استطاعت ہیں اور حالات کے تحت دوسری شادی کے خواہشمند ہیں، ان کے لیے بھی یہ ایک کڑا لمحہ ہے۔ وہ دوسری شادی کو محض تفریح، خفیہ عیاشی یا اپنی جھوٹی انا کی تسکین کا ذریعہ نہ بنائیں، اور نہ ہی ان دکھیاری خواتین کو مفت کی آیا، بیمار ساس سسر کی نرس یا گھریلو خادمہ کے طور پر اپنے گھر لائیں۔ اگر وہ قدم بڑھاتے ہیں تو کھلے دل، مکمل علانیہ وقار اور قرآنی عدل کے ساتھ ان بے آسرا خواتین کو اپنے گھر کی مالکن بنائیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر ان خواتین کے ساتھ ان کے معصوم بچے بھی ہیں، تو ان بچوں کو بوجھ سمجھ کر چھٹکارا پانے کی گھناؤنی شرطیں لگانا بند کی جائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں میرے ساتھ ایسے ہوگا جیسے شہادت اور بیچ کی انگلی آپس میں جڑی ہوتی ہیں۔ کسی مجبور بیوہ کے یتیم بچوں کے سر پر دستِ شفقت رکھ کر انہیں اپنے بچوں کی طرح گلے لگانا مردانگی کا وہ اعلیٰ ترین درجہ ہے جس کی توفیق صرف بلند ظرف انسانوں کو نصیب ہوتی ہے۔


وقت آ گیا ہے کہ مرد برادری کی جھوٹی ناک، دوستوں کے طعنوں اور گھر والوں کے غیر شرعی دباؤ کو جھٹک کر دینِ فطرت کے اصولوں کو سینے سے لگائیں۔ جب تک مرد اس منافقت کے خلاف عملی ڈھال بن کر سامنے نہیں آئے گا، تب تک ہمارے گھروں میں معصوم بہنیں اور بیٹیاں سسک سسک کر بوڑھی ہوتی رہیں گی اور ہمارا معاشرہ اخلاقی گراوٹ کی دلدل میں مزید دھنستا چلا جائے گا۔ تاریخ اب مرد کے الفاظ نہیں، بلکہ اس کا عمل دیکھنا چاہتی ہے۔