لکھاری صرف کہانیاں نہیں لکھتے… باغی رائیٹرز فورم نے ثابت کر دیا,تحریر : دانش رحمان
نقطہ نظر
لکھاری کو اکثر معاشرے میں صرف ایک تخلیق کار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ اس کا کام کاغذ پر خوبصورت الفاظ بکھیرنا کہانیاں لکھنا اور جذبات کا اظہار کرنا ہے۔ یہ تصور جزوی طور پر درست ہے مگر مکمل حقیقت نہیں۔ ایک ذمہ دار لکھاری قوم کا ضمیر ہوتا ہے اس کی آواز ہوتا ہے اور مثبت تبدیلی کا اہم ذریعہ بنتا ہے۔ وہ صرف کہانیاں نہیں لکھتا بلکہ معاشرتی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے اور قومی بیانیے کو مضبوط کرتا ہے۔ باغی رائیٹرز فورم نے حال ہی میں لاہور جم خانہ کلب میں منعقدہ اپنی تعارفی نشست کے ذریعے یہ بات عملاً ثابت کر دی کہ لکھاری صرف کاغذ تک محدود نہیں رہتے۔
لاہور جم خانہ کلب کے پُر وقار ماحول میں باغی رائیٹرز فورم کے معزز اراکین کی تعارفی نشست ایک عام ادبی محفل سے بڑھ کر ایک بامعنی کاوش تھی۔ اس نشست میں فورم کے سرپرستِ اعلیٰ سینئر صحافی اینکر پرسن اور باغی ٹی وی کے سی ای او محترم مبشر لقمان صاحب کی موجودگی نے اسے خاص اہمیت بخشی۔ نشست میں سابقہ ڈائریکٹر جنرل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی جنرل سیکرٹری پاکستان برج فیڈریشن اور انٹرنیشنل برج پلیئر چوہدری غالب علی بندیشہ سمیت متعدد لکھاری صحافی اور دانشور موجود تھے۔ چوہدری غالب علی بندیشہ صاحب نے کھیلوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں صرف جسمانی کھیلوں پر انحصار کافی نہیں بلکہ ذہنی کھیلوں یعنی مائنڈ گیمز پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ذہنی کھیلوں کے باقاعدہ مقابلوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ ہماری نوجوان نسل ذہنی طور پر بھی مضبوط اور باصلاحیت بن سکے۔ یہ محفل صرف تعارف تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں ادب صحافت اور قومی ذمہ داریوں پر کھل کر بات چیت ہوئی۔ لکھاریوں نے اپنے تجربات شیئر کیے اور اس بات پر زور دیا کہ آج کے دور میں لکھاری کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
باغی رائیٹرز فورم کا قیام اس احساس کے تحت عمل میں آیا کہ لکھاریوں کو ایک منظم پلیٹ فارم درکار ہے جہاں وہ نہ صرف اپنی تخلیقات پیش کریں بلکہ قومی اور معاشرتی مسائل پر بھی سنجیدگی سے غور کر سکیں۔ آج جب معاشرہ متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے تو لکھاری کا خاموش رہنا ممکن نہیں وہ معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کرے مثبت سوچ کو فروغ دے اور قوم کو صحیح سمت کی طرف رہنمائی کرے۔ باغی رائیٹرز فورم نے اسی سوچ کو آگے بڑھایا ہےفورم کے پلیٹ فارم پر لکھاری قومی بیانیے کی تعمیر میں بھی اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
اس نشست میں یومِ دفاع کے تناظر میں اعزازات کی تقسیم نے بھی ایک اہم پیغام دیا۔ یہ اعزازات اس بات کی یاد دہانی تھے کہ لکھاری قومی جذبے اور دفاعی شعور کو بھی اپنی تخلیقات کا حصہ بناتے ہیں قوم صرف میدان جنگ میں نہیں لڑتی بلکہ قلم کے میدان میں بھی اپنی بقا اور تشخص کی جنگ لڑتی ہے۔ لکھاری اس جنگ کا اہم حصہ ہوتا ہے۔
لکھاری کا اصل کام صرف خوبصورت الفاظ کا انتخاب نہیں بلکہ حقیقت کو سامنے لانا اور معاشرے کے دکھ درد کو محسوس کر کے اسے الفاظ کا روپ دینا ہے۔ باغی رائیٹرز فورم نے اس حقیقت کو عملی شکل دینے کی کوشش کی ہے۔ فورم کے اراکین سماجی مسائل قومی تشخص نوجوانوں کے مسائل اور مثبت تبدیلی جیسے موضوعات پر لکھتے ہیں۔ یہ فورم اس بات کا ثبوت ہے کہ لکھاری اگر منظم ہو جائیں تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔
آج کے دور میں میڈیا اور سوشل میڈیا کی موجودگی نے لکھاری کے کردار کو اور بھی اہم بنا دیا ہے۔ جعلی خبریں اور گمراہ کن بیانیے عام ہیں ایسے میں لکھاری ہی حقیقت کو سامنے لا سکتا ہے اور قوم کو صحیح سمت دکھا سکتا ہے۔ باغی رائیٹرز فورم نے لکھاریوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ اپنی آواز کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھا سکتے ہیں۔
لکھاری صرف ماضی کی باتیں نہیں کرتا بلکہ مستقبل کی تعمیر میں بھی حصہ لیتا ہے۔ وہ نوجوان نسل کو مثبت سوچ دیتا ہے اور انہیں ذمہ دار شہری بننے کی ترغیب دیتا ہے۔ باغی رائیٹرز فورم کی یہ کاوش اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔
آخر میں یہ کہنا مناسب ہے کہ لکھاری صرف کہانیاں نہیں لکھتے۔ وہ قوم کا ضمیر ہوتے ہیں اور مثبت تبدیلی کے علمبردار ہوتے ہیں باغی رائیٹرز فورم نے لاہور جم خانہ کلب کی اس نشست کے ذریعے یہ بات واضح کر دی کہ لکھاری اگر چاہے تو صرف کاغذ تک محدود نہیں رہتا بلکہ قوم کی خدمت بھی کر سکتا ہے۔ اس فورم کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں اور امید ہے کہ مستقبل میں بھی یہ پلیٹ فارم لکھاریوں کو قومی ذمہ داری ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا رہے گا۔
لکھاری کی اصل کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب اس کے الفاظ معاشرے میں شعور بیدار کریں اور قوم کو صحیح سمت کی طرف گامزن کریں۔ باغی رائیٹرز فورم اسی مقصد کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ فورم ثابت کر رہا ہے کہ لکھاری صرف کہانیاں نہیں لکھتے بلکہ قوم کی تعمیر میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں





