کچھ کہانیاں لکھی نہیں جاتیں،
وہ دل پر لکھی جاتی ہیں۔۔۔
اور پھر عمر بھر مٹتی نہیں۔
کچھ چیخیں ایسی ہوتی ہیں جو کانوں سے نہیں، روح سے سنی جاتی ہیں۔ کچھ آنکھیں ایسی ہوتی ہیں جن میں آنسو ختم ہو جاتے ہیں، مگر سوال باقی رہتے ہیں۔ اور کچھ بچیاں ایسی ہوتی ہیں جو دنیا سے رخصت ہو کر بھی ہمارے معاشرے کے ضمیر کے دروازے پر دستک دیتی رہتی ہیں۔
ماہم بھی ایک ایسی ہی دستک ہے۔
وہ کم عمر تھی۔ اس عمر میں جب ایک بچی کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے، آنکھوں میں خواب ہونے چاہئیں اور دل میں آنے والے کل کی خوشیاں، ماہم کے حصے میں خوف، اذیت اور تنہائی آئی۔
جس گھر کی دہلیز پر اسے تحفظ ملنا چاہیے تھا، وہی دہلیز اس کے لیے خوف کی علامت بن گئی۔ جس چھت کے نیچے اسے اپنائیت ملنی چاہیے تھی، اسی چھت کے نیچے مبینہ طور پر اس پر ایسے مظالم ڈھائے گئے جنہیں سوچ کر بھی انسان کا دل دہل جاتا ہے۔
وہ بھاگتی تھی۔۔۔
لوگ شاید کہتے ہوں گے کہ لڑکی گھر سے کیوں بھاگتی ہے؟
کسی نے یہ سوال کیوں نہ پوچھا کہ وہ گھر سے بھاگنے پر مجبور کیوں ہوتی ہے؟
کبھی کبھی ایک بچی کا گھر سے نکل جانا بدتمیزی نہیں ہوتا، بغاوت نہیں ہوتا، کردار کی خرابی نہیں ہوتا۔۔۔
وہ صرف اپنی جان بچانے کی آخری کوشش ہوتی ہے۔
ماہم بھی شاید یہی کوشش کرتی رہی۔
وہ جاتی، کچھ دن بعد واپس آ جاتی۔۔۔
شاید اس امید پر کہ اب حالات بدل گئے ہوں گے۔
شاید اسے یقین ہوتا ہوگا کہ اب کوئی اسے گلے لگا کر کہے گا:
"بیٹی! ڈرو نہیں، اب تم محفوظ ہو۔"
مگر اگر تفتیش میں سامنے آنے والی باتیں درست ثابت ہوتی ہیں تو اس معصوم کے لیے گھر واپسی تحفظ کی واپسی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے دائرے میں دوبارہ داخل ہونا تھا جہاں اس کی آواز بار بار دبائی گئی۔
پھر ایک دن وہی بچی، جس کی چیخیں مبینہ طور پر محلے تک سنائی دیتی تھیں، خاموش ہو گئی۔
ہمیشہ کے لیے۔
اسے اسپتال لایا گیا۔ ڈاکٹروں نے دیکھا تو زندگی اس کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔ پولیس کو اطلاع دی گئی۔ جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ ایک معصوم وجود، جو کبھی ماں کی گود میں کھیلتا ہوگا، اب بے جان پڑا تھا۔
ذرا تصور کیجیے۔۔۔
ایک ماں ہوتی تو شاید اپنے بچے کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھتی:
"میری بچی، تمہیں کس نے مارا؟"
مگر ماہم کی ماں تو برسوں پہلے دنیا سے جا چکی تھی۔
وہ بچی جسے ماں کی آغوش کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، شاید زندگی کے آخری لمحوں تک اسی آغوش کو ترستی رہی۔
یہاں دل صرف ماہم کے لیے نہیں روتا، اس سوال پر بھی روتا ہے کہ اس کے آس پاس اتنے لوگ تھے، مگر اسے بچانے والا کوئی کیوں نہ تھا؟
رپورٹس کے مطابق پولیس نے ماہم کے اہلِ خانہ سے پوچھ گچھ کی، بیانات میں تضادات سامنے آئے اور بعد ازاں متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ پولیس تفتیش کے مطابق گھر کے اندر ہونے والے مبینہ تشدد اور دیگر سنگین الزامات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
لیکن ایک بات ایسی ہے جس پر ہمیں تفتیش کے اختتام کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
وہ بات یہ ہے کہ بچوں کی خاموشی کو ہمیشہ خاموشی نہ سمجھا جائے۔
اگر کوئی بچہ اچانک خوفزدہ رہنے لگے، گھر جانے سے گھبرائے، بار بار گھر سے نکلنے کی کوشش کرے، جسم پر زخم ہوں، رویہ بدل جائے یا وہ کسی خاص فرد سے خوف کھانے لگے تو یہ معمولی بات نہیں۔
یہ شاید مدد کی پکار ہو۔
ہمیں اپنی بیٹیوں کو یہ نہیں سکھانا کہ ظلم سہہ کر خاموش رہو تاکہ گھر کی عزت بچی رہے۔
ہمیں انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ تمہاری جان، تمہاری عزت اور تمہاری سلامتی کسی بھی نام نہاد سماجی دباؤ سے زیادہ قیمتی ہے۔
ماہم شاید بولنا چاہتی رہی ہوگی۔
شاید اس نے کسی سے کہا بھی ہوگا۔
شاید اس نے اپنی بڑی بہن سے مدد مانگی ہوگی۔
اور اگر واقعی ایسا ہوا تو اس لمحے اسے نصیحت نہیں، پناہ چاہیے تھی۔
اسے یہ سننے کی ضرورت تھی کہ:
"تم قصوروار نہیں ہو۔"
"تم اکیلی نہیں ہو۔"
"ہم تمہیں بچائیں گے۔"
مگر اگر اس کے بجائے اسے خاموش رہنے کو کہا گیا، تو یہ صرف ایک بچی کی آواز کو دبانا نہیں تھا؛ یہ اس کے آخری سہارا چھین لینا تھا۔
آج ماہم نہیں ہے۔
اس کے کمرے میں شاید خاموشی ہوگی۔
اس کے کپڑے شاید کسی کونے میں پڑے ہوں گے۔
اس کی کوئی کتاب، کوئی دوپٹہ، کوئی چھوٹی سی چیز شاید اب بھی گھر کے کسی کونے میں موجود ہو۔
مگر وہ خود نہیں ہے۔
وہ ہاتھ جو کبھی کسی کے لیے پانی کا گلاس اٹھاتے تھے، اب ساکت ہیں۔
وہ آنکھیں جن میں شاید مستقبل کے خواب تھے، اب ہمیشہ کے لیے بند ہیں۔
وہ ہونٹ جو شاید بار بار مدد کے لیے پکارے ہوں گے، اب خاموش ہیں۔
اور شاید اس خاموشی میں ایک سوال چھپا ہے:
"میں تو چلی گئی۔۔۔ کیا اب بھی تم خاموش رہو گے؟"
ایس پی سدرہ خان کے مطابق، مقدمے میں مرکزی ملزمان گرفتار ہیں اور تفتیش جاری ہے۔ پولیس نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا ہے کہ تحقیقات کے دوران جو شخص بھی ملوث پایا گیا، اسے قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔
ہمیں بھی اب ایک معاشرے کی حیثیت سے اپنے اندر ایک تفتیش شروع کرنی ہوگی۔
یہ تفتیش کسی تھانے میں نہیں،
اپنے ضمیر میں۔
ہمیں پوچھنا ہوگا کہ ماہم جیسی بچیاں مدد کے لیے کہاں جائیں؟
کیا خاندان ان کے لیے محفوظ ہے؟
کیا پڑوسی ان کی چیخ سن کر دروازہ کھٹکھٹائیں گے؟
کیا معاشرہ متاثرہ بچی کو الزام دینے کے بجائے اس کا ہاتھ تھامے گا؟
اور کیا ہم "لوگ کیا کہیں گے" سے اوپر اٹھ کر "بچی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے" پوچھ سکیں گے؟
ماہم واپس نہیں آئے گی۔
لیکن اگر اس کی موت ہمیں جگا دے، اگر اس کی داستان کسی ایک بچی کو بچا لے، اگر کسی ایک شخص کو یہ احساس دلا دے کہ تشدد دیکھ کر خاموش رہنا حل نہیں، تو شاید اس کی خاموش زندگی کی آخری صدا بے معنی نہیں جائے گی۔
ماہم کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت یہ نہیں کہ ہم چند دن افسوس کریں، سوشل میڈیا پر چند جملے لکھیں اور پھر اگلے واقعے کا انتظار کرنے لگیں۔
اس کے لیے اصل خراجِ عقیدت یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں کو بچوں کے لیے واقعی محفوظ بنائیں۔
کیونکہ گھر صرف اینٹوں، دیواروں اور چھت کا نام نہیں۔
گھر وہ جگہ ہے جہاں ایک بچی خوف کے بغیر سو سکے۔
جہاں بیٹی کو اپنی عزت بچانے کے لیے گھر سے بھاگنا نہ پڑے۔
جہاں بہن کی چیخ کو شکایت نہیں، مدد کی پکار سمجھا جائے۔
اور جہاں کسی ماہم کو اپنی آخری سانس تک یہ سوچنے پر مجبور نہ ہونا پڑے کہ:
"کیا مجھے اس دنیا میں محفوظ رہنے کی کوئی جگہ بھی ملے گی؟"
ماہم چلی گئی۔۔۔
مگر اس کی کہانی ہمارے درمیان رہ گئی ہے۔
ایک سوال بن کر۔۔۔
ایک آنسو بن کر۔۔۔
اور ایک ایسی خاموش چیخ بن کر،
جو شاید آج بھی ہماری اجتماعی بے حسی کے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔
خدارا۔۔۔ اس دستک کو سن لیجیے۔
اس سے پہلے کہ کسی اور ماہم کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے۔
مزید پڑھیں






