تم نے سنوارا گل کو شگوفوں کو خار کو
تم نے حیات بخشی ہے فصلِ بہار کو
استاد کی توقیر اور قدرومنزلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ استاد کو قوم کے معمار اور روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے۔ ہماری تاریخ کی روشن گواہی موجود ہے کہ خلیفۂ وقت کے شہزادے بھی استاد کی جوتیوں کو اٹھانا فخر سمجھتے تھے۔ تمام پیغمبر چونکہ استاد تھے، اس لیے استاد کے پیشے کا تعلق پیغمبری سے ہے۔ استاد کی شان کا اگر اندازہ کرنا ہو تو باب العلم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ کا قول بہترین رہنما ثابت ہو سکتا ہے، جس میں آپ نے فرمایا کہ ”جس نے مجھے ایک لفظ پڑھایا، اس نے مجھے اپنا غلام بنا لیا“۔
استاد نسلِ نو کی تربیت کا اہم کام انجام دیتا ہے۔ ہر قوم و مذہب میں استاد کو اس کے پیشے کی عظمت کی وجہ سے اہمیت حاصل ہے۔ استاد طلبا کو نہ صرف مختلف علوم و فنون کا علم دیتا ہے بلکہ اپنے ذاتی کردار کے ذریعہ ان کی تربیت کا کام بھی انجام دیتا ہے۔ معاشرے کی ذمہ داریاں سنبھالنے والے افراد خواہ وہ کسی بھی شعبے اور پیشے سے وابستہ ہوں، اپنے استاد کی تربیت کے عکاس ہوتے ہیں۔ استاد کا اہم اور بنیادی فریضہ انسان سازی ہوتا ہے۔ اگرچہ اس کام میں نصابِ تعلیم اور تعلیمی اداروں کے اثرات بھی شامل ہوتے ہیں، لیکن یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پورے تعلیمی نظام کا مرکز و محور ایک استاد ہی ہوتا ہے۔ نصابِ تعلیم جو بھی ہو، لیکن استاد اسے جس طرح چاہے پڑھا سکتا ہے۔
معلمین کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتے ہیں۔ استاد کی تربیت وہ آبِ حیات ہے جس پر انسان کی صفات کا ہی نہیں بلکہ ساری زندگی کا دارومدار ہے۔ استاد ہی ہے جس نے طالب علم کو زندگی کا سلیقہ اور مقصد سکھایا، سوچ اور فکر کی راہیں متعین کیں، اعتماد دیا، زندگی کی گتھیاں سلجھانے کے گر بتائے، محبتوں کے ساتھ پہلا سبق پڑھایا، اور بادشاہ نہ ہوتے ہوئے بادشاہ بننے کے گر سکھائے۔
اساتِذہ کا شمار قوم کے باشعور طبقے میں ہوتا ہے۔ تعمیرِ قوم، کردار سازی، تزکیۂ نفس، قیادت کی تیاری، طلبہ کو اعلیٰ نظریات سے روشناس کروانا، حق و باطل، جائز و ناجائز اور حلال و حرام کا شعور بیدار کرنا اساتِذہ کے فرائضِ منصبی میں شامل ہیں۔ انہی اہم ذمّہ داریوں کی وجہ سے دینی اُستاد کو روحانی باپ کا درجہ دیا گیا۔
کہتے ہیں کہ استاد دراصل قوم کے مُحافِظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انہیں کے سپرد ہے۔ سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے اساتذہ کی ہے۔ استاد و معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے کیونکہ تمام قسم کی اَخلاقی، تَمَدُّنی اور اُخروی نیکیوں کی چابی اس کے ہاتھ میں ہے اور ہمہ قسم کی ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔ استاد ہونا بہت عزّت و شرف کی بات ہے، اللہ پاک کے آخری نبی حضرت محمد مصطفےٰ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً یعنی مجھے مُعلّم بنا کر بھیجا گیا۔ (ابنِ ماجہ)
استاد کا کردار ایک ہیرا تراشنے والے جیسا ہوتا ہے کہ اس کی صحبت سے معاشرے کی کردار سازی ہوتی ہے۔ چونکہ استاد علم کے حصول کا براہِ راست ذریعہ ہے، اس لیے استاد کی تکریم کا حکم دیا گیا ہے۔ جو لوگ اپنے استاد کا احترام نہیں کرتے، وہ زندگی کے کسی بھی میدان میں ترقی نہیں کر سکتے اور وہ ہمیشہ اپنی منزل سے دور ہی رہتے ہیں۔
اچھے استاد کسی بہترین معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔ اچھے اساتذہ کے بغیر کوئی بھی نظامِ تعلیم اپنے مقاصد میں کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا۔ لیکن اس کھوکھلے اور زوال پذیر معاشرے میں استاد کو پہلے اپنے اندر اسلاف کی سی خوبیاں پیدا کرنا ہوں گی۔ اپنی اصلاح کے عملی اقدام کے بعد ہی استاد تعمیرِ کردار کا فریضہ سر انجام دے سکتا ہے۔
استاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ تعمیرِ انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے۔ استاد اپنے شاگردوں کی تربیت میں اس طرح مگن رہتا ہے جیسے ایک باغبان ہر گھڑی اپنے پیڑ پودوں کی نگہداشت میں مصروف رہتا ہے۔ تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ اساتذہ کو انبیاء کا علمی وارث تصور کیا جاتا ہے۔ اس مقام کی قدر و منزلت پہچاننے اور اس فریضہ کو احسن انداز سے سر انجام دینے کے لیے انہیں معلمِ انسانیت ﷺ کے اسوۂ حسنہ سے راہ نمائی حاصل کرنی چاہیے۔
ہم بھی بحیثیتِ قوم اگر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر حال میں استاد کو وہ مقام دینا ہو گا جس کا وہ حق دار ہے۔ اس کا وقار بلند کرنا ہو گا تاکہ ہمارا معاشرہ اچھے اساتذہ پیدا کر سکے۔ تبھی ہم اچھے ڈاکٹرز، سیاست دان، انجینئر اور سب سے بڑھ کر اچھے شہری بن سکیں گے۔
انسان کی علمی پرورش کرنے اور میراثِ انبیاء کا فریضہ نبھانے کی عملی کوشش کرنے والے، علم کی روشنی سے جہالت کے اندھیرے کو ختم کرنے والے سب معتبر اساتذہ کو سلام۔ شمعِ علم سے عقل و شعور کو پروان چڑھانے والے سب اساتذہ کے لیے ڈھیروں دعائیں۔ علم کی قندیلوں سے دیار روشن و منور کرنے والے سب اساتذہ کو اللہ سلامت رکھے جو دنیا میں انسانیت، محبت، امن اور اخوت کا پرچار کرتے ہیں۔ یہ سب خوبیاں اس بات کی متقاضی ہیں کہ استاد کی توقیر کو کسی معاشرے کے ستون جیسی اہمیت حاصل ہونی چاہیے کیونکہ مثل مشہور ہے۔ ہم اپنے اساتذہ کا احسان کبھی نہیں بھلا سکتے۔ اللہ رب العزت سے دعاگو ہوں کہ میری بے کار اور کچی مٹی کو انسان بنانے والے میرے اساتذہ دنیا و آخرت میں سرخرو رہیں۔ آمین۔
تمھاری آنکھوں کی روشنی سے ہمارے دل بھی ہوئے منور۔
تمھارے لفظوں کے سچے موتی ہمارے دامن میں بھر گئے ہیں۔
تمھارے دم سے یہ کھوٹے سکے چمک گئے ہیں۔
تمھارے دم سے یہ بگڑے نقشے سنور گئے ہیں۔
مزید پڑھیں






