Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اسکرین کے سائے میں پلتا بچپن اور مصنوعی ذہانت کا دور،تحریر: مریم خان

نقطہ نظر

بچپن کبھی مٹی کے کھلونوں، کاغذ کی کشتیوں، گلیوں کی رونقوں اور صحن میں گونجتی قہقہوں سے پہچانا جاتا تھا۔ بچے اپنی تخیل کی دنیا خود آباد کرتے، کبھی گڑیا سے باتیں کرتے تو کبھی لکڑی کے ٹکڑے کو گاڑی بنا کر گھنٹوں کھیلتے رہتے۔ مگر اب بچپن کی اس دنیا میں ایک نیا کردار داخل ہو چکا ہے، جس کا نام اسمارٹ فون ہے۔ یہ کردار کبھی بچے کا کھلونا بنتا ہے، کبھی استاد، کبھی دوست اور کبھی اس کی تنہائی کا ساتھی۔ سوال یہ ہے کہ اس نئی دنیا میں ہمارا بچپن کہاں کھو گیا ہے؟

ہماری نسل نے ٹیکنالوجی کو قدم بہ قدم اپنی زندگی میں داخل ہوتے دیکھا ہے۔ بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی ویژن سے رنگین ٹی وی تک، وی سی آر اور وی سی پی سے کیبل نیٹ ورک تک، گھومنے والے ڈائل فون سے موبائل اور پھر اسمارٹ فون تک کا سفر ہماری آنکھوں کے سامنے طے ہوا۔ ہم نے وہ زمانہ بھی دیکھا جب کسی عزیز کی آواز سننے کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا، خط لکھے جاتے تھے اور ملاقاتیں خوشی کا باعث بنتی تھیں۔ آج ہماری نئی نسل ایک ایسی دنیا میں آنکھ کھول رہی ہے جہاں چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی کونے سے رابطہ ممکن ہے اور مصنوعی ذہانت انسانی ذہانت کے کئی کاموں میں معاون بن چکی ہے۔

یہ تبدیلی محض سہولتوں تک محدود نہیں رہی، اس نے ہمارے طرزِ زندگی، سوچنے کے انداز اور باہمی تعلقات کو بھی متاثر کیا ہے۔ خصوصاً بچوں کا بچپن اس ڈیجیٹل انقلاب کی زد میں ہے۔ پہلے بچے گھر کے صحن، گلیوں اور میدانوں میں اپنی دنیا آباد کرتے تھے، اب ان کی ایک بڑی تعداد موبائل کی چھوٹی سی اسکرین میں پوری دنیا تلاش کر رہی ہے۔ والدین کی مصروفیت، گھریلو ذمہ داریوں اور روزمرہ کی بھاگ دوڑ نے بھی اسکرین کو بچوں کو مصروف رکھنے کا ایک آسان ذریعہ بنا دیا ہے۔ بچہ روئے تو موبائل، کھانا نہ کھائے تو کارٹون، ضد کرے تو ویڈیو، اور والدین کو اپنا کام کرنا ہو تو اس کے ہاتھ میں اسمارٹ فون تھما دیا جاتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ سہولت ایک معمول بن جاتی ہے اور بچے کی توجہ کا مرکز حقیقی دنیا سے زیادہ مجازی دنیا بننے لگتی ہے۔

اس تبدیلی کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اب بعض بچے کاغذ پر بنی تصویر کو بڑا کرنے کے لیے بھی انگلیاں پھیرنے لگتے ہیں۔ انہیں شاید یہ اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ کاغذ پر موجود تصویر کو اس طرح بڑا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ چھوٹا سا واقعہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جس ماحول میں بچے پروان چڑھتے ہیں، وہی ماحول ان کی عادات اور توقعات تشکیل دیتا ہے۔ جب ہر چیز ایک لمس پر دستیاب ہو تو انتظار، جستجو اور خود کوشش کرنے کی عادت پیدا کرنا بھی ایک چیلنج بن سکتا ہے۔

یہاں مسئلہ صرف اسمارٹ فون کے استعمال کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ بچے کی زندگی میں اس کا مقام کیا ہے۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری؛ اس کا اثر اس کے استعمال، وقت اور مقصد سے وابستہ ہے۔ انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت بچوں کے لیے علم کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔ وہ مختلف زبانیں سیکھ سکتے ہیں، دنیا بھر کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔ مگر جب یہی سہولتیں غیر متوازن استعمال کا سبب بن جائیں تو بچے کے لیے جسمانی سرگرمی، براہِ راست گفتگو، مطالعے اور آزادانہ کھیل کے مواقع کم ہو سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے اس دور میں ایک اور اہم سوال بھی ہمارے سامنے ہے: کیا ہم بچوں کو صرف معلومات حاصل کرنا سکھا رہے ہیں یا انہیں سوچنا، سوال کرنا اور اپنی رائے قائم کرنا بھی سکھا رہے ہیں؟ آج ایک بچہ چند لمحوں میں کسی سوال کا جواب حاصل کر سکتا ہے، مضمون لکھوا سکتا ہے یا کسی مشکل موضوع کی وضاحت لے سکتا ہے۔ لیکن معلومات تک آسان رسائی اور علم حاصل کرنے کے عمل میں فرق ہے۔ بچے کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ اے آئی سے ملنے والی ہر بات درست نہیں ہوتی، اس لیے تحقیق، مشاہدے اور تنقیدی سوچ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

والدین اور اساتذہ کے لیے بھی اب تربیت کے روایتی طریقوں پر نظرثانی ضروری ہو گئی ہے۔ بچوں کو محض موبائل سے دور رکھنے کی تلقین کافی نہیں، انہیں اس کے ذمہ دارانہ استعمال کا شعور دینا بھی ضروری ہے۔ گھر میں مطالعے کا ماحول، کھیل کے لیے مناسب وقت، خاندان کے ساتھ گفتگو اور تخلیقی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی بچوں کی متوازن نشوونما میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس کے ساتھ والدین کو بھی اپنی ڈیجیٹل عادات کا جائزہ لینا ہوگا، کیونکہ بچے اکثر نصیحت سے زیادہ اپنے بڑوں کے طرزِ عمل سے سیکھتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر بچہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کسی بچے کے لیے ٹیکنالوجی سیکھنے اور تخلیق کا ذریعہ بن سکتی ہے، تو کسی دوسرے کے لیے ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم توجہ اور روزمرہ معمولات میں مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ اسی لیے ہر گھر میں عمر، ضرورت اور حالات کے مطابق واضح حدود اور مناسب رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اصل مقصد ٹیکنالوجی سے خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ بچوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اس کے فوائد سے مستفید ہوں اور اس کے ممکنہ نقصانات سے بھی آگاہ رہیں۔

آنے والا زمانہ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظاموں کے پھیلاؤ کا زمانہ ہو سکتا ہے۔ آج کے بچے کل کے محقق، استاد، ڈاکٹر، انجینئر اور تخلیق کار ہوں گے۔ انہیں جدید ٹیکنالوجی سے واقف ہونا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ انسانی احساس، اخلاقی شعور، برداشت اور تخلیقی سوچ بھی ان کی شخصیت کا حصہ ہونی چاہیے۔ کیونکہ مشینیں معلومات فراہم کر سکتی ہیں، مگر انسانی رشتوں کی گرم جوشی، محبت، احساس اور ہمدردی کی جگہ نہیں لے سکتیں۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں سے صرف یہ نہ پوچھیں کہ انہوں نے موبائل پر کیا دیکھا، بلکہ یہ بھی جانیں کہ انہوں نے آج کیا پڑھا، کیا سوچا، کیا تخلیق کیا اور کس کے ساتھ وقت گزارا۔ ان کے ہاتھوں میں جدید ٹیکنالوجی ضرور دیں، مگر ان کے قدموں سے مٹی کا لمس، آنکھوں سے قدرت کا مشاہدہ اور دل سے انسانی رشتوں کی قدر نہ چھینیں۔

بچپن کو صرف جدید بنانے کی نہیں، اسے مکمل بنانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی ایک بچے کی سب سے بڑی ضرورت انسان سے انسان کا تعلق، اپنی سوچ کی آزادی اور وہ حقیقی دنیا ہے جس میں وہ صرف اسکرین پر نہیں بلکہ زندگی میں بھی مسکرانا سیکھتا ہے۔