میرے اساتذہ، میرے محسن، میرا فخر،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری
نقطہ نظر
انسان کی زندگی میں کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کا احسان کبھی چکایا نہیں جا سکتا۔ والدین ہمیں دنیا میں لاتے ہیں، ہماری پرورش کرتے ہیں اور زندگی کی پہلی تربیت دیتے ہیں، جبکہ استاد ہمیں زندگی کو سمجھنے، علم حاصل کرنے، سوچنے اور اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کا ہنر سکھاتا ہے۔ میرے لیے میرے اساتذہ صرف پڑھانے والے افراد نہیں بلکہ میرے محسن، میرے رہنما اور میری زندگی کے انمول کردار ہیں۔ میرے اساتذہ میرے محسن ہیں، میرا فخر ہیں۔
آج جب میں اپنی زندگی کے سفر پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے وہ کلاس روم، وہ بلیک بورڈ، وہ کتابیں اور اپنے اساتذہ کے چہرے یاد آتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتاب صرف نصاب نہیں ہوتی تھی بلکہ اس میں ہماری پوری زندگی کا سبق پوشیدہ ہوتا تھا۔ کبھی ڈانٹ کر، کبھی سمجھا کر اور کبھی حوصلہ دے کر انہوں نے ہمیں یہ سکھایا کہ ناکامی زندگی کا اختتام نہیں بلکہ دوبارہ کوشش کرنے کا موقع ہے۔
استاد وہ شخصیت ہے جو طالب علم میں چھپی ہوئی صلاحیت کو اس وقت پہچان لیتا ہے جب خود طالب علم بھی اس سے واقف نہیں ہوتا۔ ایک اچھا استاد صرف سوالوں کے جواب نہیں دیتا بلکہ انسان کے اندر سوال پیدا کرتا ہے۔ وہ صرف ڈگری حاصل کرنے کا راستہ نہیں دکھاتا بلکہ کردار بنانے کا ہنر سکھاتا ہے۔
میری زندگی میں میرے اساتذہ کی محنت کا حصہ ناقابلِ فراموش ہے۔ انہوں نے مجھے صرف کتابوں کا علم نہیں دیا بلکہ گفتگو کا سلیقہ، بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے محبت، وقت کی قدر، محنت کی اہمیت اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ بھی دیا۔ آج میری جو بھی شناخت ہے، میرے اساتذہ کی دعاؤں، رہنمائی اور محنت کا اس میں ایک خوبصورت حصہ شامل ہے۔
بدقسمتی سے آج ہم کامیابی ملنے کے بعد ان ہاتھوں کو بھول جاتے ہیں جنہوں نے ہمیں چلنا سکھایا تھا۔ ہم اپنی منزل دیکھ کر خوش ہوتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری رہنمائی کرنے والا استاد کتنی محنت سے ہمیں منزل تک پہنچنے کے قابل بناتا رہا۔ ایک شاگرد کی کامیابی دراصل استاد کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہوتی ہے۔
استاد کا احترام صرف ایک دن منانے کا نام نہیں۔ یومِ اساتذہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ہمارے کردار، علم اور کامیابی میں ان لوگوں کا کتنا بڑا حصہ ہے جنہوں نے ہمیں تعلیم دی۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اساتذہ کی زندگی میں بھی ان کی قدر کریں، ان سے رابطہ رکھیں، ان کی دعائیں لیں اور اپنی کامیابیوں میں انہیں یاد رکھیں۔
استاد کی عزت صرف یومِ اساتذہ پر پھول دینے، سوشل میڈیا پر ایک خوبصورت پوسٹ لگانے یا ’’استاد قوم کا معمار ہے‘‘ لکھ دینے سے بحال نہیں ہوگی۔ اگر ہم واقعی استاد کا مقام بلند کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں نعروں سے نکل کر عمل کی طرف آنا ہوگا۔
سب سے پہلے گھر سے آغاز کرنا ہوگا۔ والدین کو بچوں کے سامنے استاد کی تضحیک، اس کی شکایت یا اس کے فیصلوں کو معمولی انداز میں رد کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔ اگر والدین ہر غلطی پر بچے کے سامنے استاد کو قصوروار ٹھہرائیں گے تو بچہ احترام کیسے سیکھے گا؟ بچے کو یہ سمجھانا ہوگا کہ استاد سے اختلاف ممکن ہے، مگر بدتمیزی قابلِ قبول نہیں۔
دوسرا کام تعلیمی اداروں کا ہے۔ استاد کو صرف حاضری لگانے والا ملازم نہ سمجھا جائے۔ اسے مناسب تربیت، باوقار ماحول، ضروری وسائل اور اپنے فیصلے کرنے کی مناسب آزادی دی جائے۔ جو معاشرہ استاد سے بہترین نسل کی توقع رکھتا ہے، اسے استاد کو بھی بہترین ماحول دینا
شاگرد کو کامیاب ہونے کے بعد اپنے استاد کو تلاش کرنا چاہیے، نہ کہ استاد کو اپنے کامیاب شاگرد تک پہنچنے کے لیے راستے تلاش کرنے پڑیں۔ سال میں ایک بار نہیں، کبھی کبھی صرف خیریت پوچھنے کے لیے فون کیا جائے۔ استاد زندہ ہے تو اس کی قدر کی جائے؛ دنیا سے چلا گیا ہے تو اس کے لیے دعا اور اس کے علم کو آگے منتقل کیا جائے۔
چوتھا قدم معاشرے کا ہے۔ ہمیں کامیابی کا معیار صرف دولت، عہدہ اور شہرت نہیں بنانا چاہیے۔ جس شخص کا نام بڑے عہدے کے ساتھ لیا جائے، اس کے کردار کی بھی بات ہونی چاہیے۔ اپنے محسنوں کو یاد رکھنا بھی کامیابی کا حصہ سمجھا جائے۔
پانچواں اور شاید سب سے مؤثر حل یہ ہے کہ اسکولوں میں صرف نصابی کتابیں نہ پڑھائی جائیں بلکہ احترام، شکرگزاری، اخلاق اور محسن شناسی کو بھی عملی تربیت کا حصہ بنایا جائے۔ طلبہ کو اپنے سابق اساتذہ سے ملنے، ان کے تجربات سننے اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے مواقع دیے جائیں۔
اور ایک بات استاد کو بھی یاد رکھنی چاہیے: عزت صرف مانگی نہیں جاتی، کردار سے کمائی بھی جاتی ہے۔ استاد اگر خود وقت کی پابندی، انصاف، دیانت، علم اور اخلاق کی مثال بنے گا تو شاگرد کے دل میں اس کا مقام خود بنے گا۔ استاد کا مقام صرف عہدے سے نہیں بلکہ اس کے عمل سے بھی بلند ہوتا ہے۔
اصل تبدیلی اس وقت آئے گی جب ہم بچوں سے یہ سوال پوچھنا شروع کریں
’’اور جو لوگ تمہیں بڑا بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں گے، تم انہیں کیسے یاد رکھو گے؟‘‘
ہمیں ایسی نسل تیار کرنی ہے جو صرف کامیاب ہونا نہ جانتی ہو بلکہ کامیابی کے بعد شکر گزار رہنا بھی جانتی ہو۔
کیونکہ استاد کی عزت کسی ایک دن کا موضوع نہیں؛ یہ معاشرے کے اخلاقی معیار کا امتحان ہے۔
اگر استاد کی عزت ہوگی تو علم کی عزت ہوگی۔
اگر علم کی عزت ہوگی تو کردار کی قدر ہوگی۔
اور اگر کردار کی قدر ہوگی تو کامیاب انسان صرف بڑے عہدوں پر نہیں بیٹھے گا، بڑا انسان بھی بنے گا۔
میرے وہ اساتذہ جو آج اس دنیا میں موجود ہیں، اللہ تعالیٰ انہیں صحت، سلامتی، عزت اور خوشیوں بھری طویل زندگی عطا فرمائے۔ اور جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبروں کو نور سے بھر دے اور انہیں اپنی رحمت کے سائے میں جگہ عطا فرمائے۔
آخر میں میں اپنے تمام اساتذہ کرام کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔ آپ نے جو چراغ ہمارے ہاتھوں میں تھمایا، ہم کوشش کریں گے کہ اسے آگے آنے والی نسلوں تک پہنچائیں۔
میرے اساتذہ میرے محسن ہیں،
میرے اساتذہ میرے رہنما ہیں،
اور میرے اساتذہ ہمیشہ میرے لیے باعثِ فخر رہیں گے۔
مزید پڑھیں





