Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

میرے بابا جان: یادوں میں زندہ ایک کردار،تحریر: مبراء عبدالقیوم

نقطہ نظر
mubarra qayoum


کچھ رشتے ہماری زندگی سے چلے جانے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے ہیں۔ وہ ہماری یادوں، ہماری باتوں اور ہمارے رویّوں میں کہیں نہ کہیں زندہ رہتے ہیں۔ میرے لیے میرے ابو جان بھی ایسا ہی ایک رشتہ ہیں۔ آج انہیں ہم سے بچھڑے تقریباً دس برس گزر چکے ہیں، مگر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ابھی کسی کرسی پر بیٹھے ہوں گے، چہرے پر وہی مسکراہٹ لیے کسی آنے والے کو آواز دے رہے ہوں گے۔

میرے ابو جان، میاں عبدالقیوم، 258 رب پھرالہ، تحصیل و ضلع فیصل آباد کے نمبردار تھے۔ لیکن میری نظر میں ان کی اصل پہچان نمبرداری نہیں تھی، بلکہ لوگوں کے کام آنا تھی۔

ان کے پاس کوئی بھی آتا، وہ اسے خالی ہاتھ واپس نہیں بھیجتے تھے۔ کسی نے مالی مدد مانگی تو یہ نہیں دیکھا کہ جیب میں کتنے پیسے ہیں۔ پہلے اسے بٹھاتے، چائے پلاتے، کھانا کھلاتے اور پھر اپنی استطاعت کے مطابق اس کی مدد کر دیتے۔ بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ کئی لوگوں کی ضرورت کے مطابق زمین کے ٹکڑے بھی ان کے نام کیے ہوئے تھے۔ ان کے لیے یہ سوچ زیادہ اہم تھی کہ کسی کا کام ہو جائے، نہ کہ یہ کہ میرے پاس کیا باقی رہے گا۔

ابو جان کے انتقال کے بعد بہت سے لوگوں کو روتے ہوئے یہ کہتے سنا کہ "ہم آج یتیم ہو گئے ہیں۔" تب ہمیں اندازہ ہوا کہ ابو جان صرف ہمارے والد نہیں تھے، بہت سے لوگوں کے لیے سہارا بھی تھے۔

گھر کے باہر جب ابو جان کرسی پر بیٹھتے تو آس پاس تین چار کرسیاں ضرور ہوتی تھیں۔ جو شخص گزرتا، اسے آواز دے کر اپنے پاس بٹھا لیتے۔ پھر اس کے لیے چائے بنواتے، کسی کو چائے پلائے بنا جانے نہیں دیتے تھے۔ کبھی کبھی ہمیں لگتا کہ ابو جان ہر آنے جانے والے کے لیے چائے کیوں بنواتے ہیں۔ ہماری اس بات پر وہ مسکرا کر کہتے:

"شکر کیا کرو کہ ہمارے دروازے پہ کوئی آتا ہے، ہمیں خدمت کا موقع ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اگر ہمیں کسی کی خدمت کے لیے چنا ہے تو یہ شکر کی بات ہے۔"

اس وقت شاید ہم ان کے اس جملے کی گہرائی کو پوری طرح نہیں سمجھتے تھے مگر آج محسوس ہوتا ہے کہ ابو جان نے زندگی کا کتنا بڑا سبق ہمیں کتنے سادہ لفظوں میں دے دیا تھا۔ کسی کی مدد کرنا صرف سامنے والے پر احسان نہیں، کبھی کبھی یہ خود ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک موقع ہوتا ہے۔

ابو جان دوسروں کے لیے جتنے بڑے دل کے مالک تھے، اپنی اولاد کے لیے اتنے ہی حساس تھے۔ میری ان سے ایک الگ ہی دوستی تھی۔ اسکول سے واپس آتی تو سب سے پہلے ان کے پاس بیٹھتی اور پورے دن کی باتیں انہیں سناتی تھی۔ مجھے ان کے پاس بیٹھنا اور ان کے بچپن کے قصے سننا بہت اچھا لگتا تھا۔

ان کی ایک بات آج بھی میرے دل میں ویسے ہی محفوظ ہے:

"مبرا، پریشان نہ ہوا کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔"

شادی کے بعد جب کبھی مجھے روتے دیکھتے تو کہتے،

"تم پہلے جیسی کیوں نہیں ہو جاتی ہو؟ تم نا اس طرح اچھی نہیں لگتی، روئی ہوئی… ویسے ہی بن جاؤ، دوسروں سے لڑنے والی، اپنے لیے بولنے والی۔"

وہ ہم بہنوں کے آنسو نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ان کا بس یہی کہنا ہوتا کہ رونا نہیں ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا۔

ان کی محبت صرف بڑی باتوں میں نہیں تھی، چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بھی نظر آتی تھی۔ ایک مرتبہ میں بہت بیمار ہوئی، تیز بخار تھا اور گھر پر ڈرِپ لگی ہوئی تھی۔ ابو جان گھر آئے تو میرے لیے مرنڈا کی بوتل لائے، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ بیماری میں میں پانی نہیں پی سکتی اور مرنڈا مجھے پسند ہے۔ آج سوچتی ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ باپ کی محبت شاید یہی ہوتی ہے، اولاد کی چھوٹی سے چھوٹی پسند بھی یاد رکھنا۔

ابو جان صرف اپنے گھر والوں کا خیال رکھنے والے نہیں تھے۔ بلکہ دوسروں کی ذمہ داری بھی محسوس کرتے تھے۔ میٹرک کے امتحان تھے سینٹر میں پیپر کے بعد وہ مجھے لینے آتے تھے۔ ایک دن ایک لڑکی وہاں اپنے بھائی کا انتظار کر رہی تھی۔ میں بھی پاس کھڑی ہوگئی کیونکہ اب سکول خالی ہو چکا تھا، اور کافی دیر ہو چکی تھی۔ ابو جان نے پوچھا تو میں نے بتایا کہ یہ چیچہ گاؤں کی ہے اور ابھی اسے لینے کوئی نہیں آیا ہے۔ ابو جان نے فوراً کہا کہ اسے گاڑی میں بٹھاؤ، اسے گھر چھوڑ کر آئیں گے۔ اس سے اس کے والد کا نمبر لیا، بات کی اور اسے بحفاظت گھر پہنچایا، اور تب تک مغرب کی اذان بھی ہو چکی تھی۔

یہ تھے میرے ابو جان۔ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا ان کی عادت تھی۔

ان کی زندگی میں آزمائشیں بھی کم نہیں آئیں۔ ایک مرتبہ وہ بہت زیادہ بیمار ہوئے اور ہسپتال لے جائے گئے۔ ڈاکٹرز ان کی حالت دیکھ کر آپس میں انگریزی میں بات کر رہے تھے۔ ابو جان نے کہا:

"آپ اردو میں بات کر لیں، مجھے انگریزی بھی سمجھ آ رہی ہے۔ اگر کوئی ایسی ویسی بات ہے تو مجھے بتا دیں، میں گھر والوں کو وصیت کر دوں۔ شاید میں بچ جاؤں مگر میرے گھر والے نہیں بچیں گے اس لیے اپنے گھر والوں کو یہ خبر میں خود دوں گا۔"

ڈاکٹر حیران ہوئے کہ یہ مریض اتنے حوصلے سے کیسے بات کر رہا ہے۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ ابو جان پڑھے لکھے ہیں تو شاید ان کی حیرت اور بھی بڑھ گئی۔

ایک مرتبہ ان کا شدید ایکسیڈنٹ بھی ہوا۔ ٹانگ بری طرح متاثر ہوئی۔ تین مرتبہ آپریشن ہوئے، پہلے پلیٹیں ڈالیں، پھر مسئلہ ہوا تو وہ نکالیں، بعد میں راڈ ڈالا گیا اور اسے بھی دوبارہ درست کرنا پڑا۔ حادثے کے وقت ان کے ساتھ موجود شخص بتایا کرتا تھا کہ ابو جان خون میں لت پت سڑک پر پڑے تھے، خون دور تک بہہ رہا تھا، مگر کوئی گاڑی رکنے کو تیار نہیں تھی۔ بڑی مشکل سے انہیں ہسپتال پہنچایا گیا۔

ڈاکٹرز نے کہا کہ بہت زیادہ خون ضائع ہو چکا ہے اور بچنا مشکل ہے۔ مگر جسے اللہ زندگی دینا چاہے، اسے دنیا کی کوئی طاقت موت نہیں دے سکتی ہے۔

بعد میں ابو جان کے دل کا مسئلہ بھی بہت بڑھ گیا۔ ڈاکٹرز نے دل کی سرجری کا مشورہ دیا اور کہا کہ شاید چند ماہ یا زیادہ سے زیادہ ایک سال زندگی باقی ہو۔ ابو جان نے آپریشن نہیں کروایا۔ ان کا یقین تھا:

"جو زندگی اللہ تعالیٰ نے لکھی ہے، اسے کوئی ختم نہیں کر سکتا، اور اگر نہیں لکھی تو کوئی اسے بڑھا نہیں سکتا۔"

اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت دیکھیے کہ وہ اس کے بعد بھی سات سال ہمارے درمیان رہے۔ ہنستے مسکراتے، چلتے پھرتے، لوگوں کے کام آتے رہے اور آخرکار اسی رب کے پاس چلے گئے جس پر انہیں ہمیشہ بھروسا رہا تھا۔

ابو جان کے چہرے پر تقریباً ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی۔ اپنی پریشانی دوسروں پر ظاہر نہیں کرتے تھے۔ میں نے انہیں بہت کم روتے دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو بھی شاید صرف اس وقت آئے جب میرے چچا جان عبدالسلام کا انتقال ہوا تھا۔ تب مجھے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ جس شخص کو ہم ہمیشہ مضبوط دیکھتے رہے، اس کے دل میں بھی کتنے دکھ چھپے ہوئے تھے۔

آج ابو جان کو ہم سے بچھڑے تقریباً دس سال ہو گئے ہیں مگر ان کی یاد ابھی بھی لوگوں کے دلوں میں موجود ہے۔ آج بھی کوئی ان کا ذکر کرتا ہے تو یہی کہتا ہے:

"اس جیسا بندہ کوئی نہیں تھا۔"

اور شاید یہی کسی انسان کی اصل میراث ہوتی ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی لوگ اسے یاد کریں، اس کی باتیں سنائیں اور اس کے لیے دعا کریں۔

آج میرے پاس ابو جان کی بہت سی یادیں ہیں۔ ان کی آواز، ان کی مسکراہٹ، ان کے قصے، ان کی نصیحتیں، میرے لیے لائی ہوئی مرنڈا کی بوتل، گرم جلیبیوں کا وہ لفافہ، اور وہ جملہ جو شاید میری زندگی بھر میرے ساتھ رہے گا:

"مبرا، پریشان نہ ہوا کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔"

اب جب بھی زندگی مشکل لگتی ہے تو دل چاہتا ہے ابو جان کہیں سے آ جائیں، میرے پاس بیٹھیں اور پھر وہی کہیں۔

اللہ تعالیٰ میرے ابو جان کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کی دی ہوئی تربیت، خدمت اور اللہ پر یقین کے اس سبق کو اپنی زندگی میں زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔