موبائل ہاتھ میں، کتاب الماری میں،تحریر: محمد ہشام علی ہاشمی
نقطہ نظر
کبھی وقت تھا جب کمرے میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے نظر اس طاقچے یا الماری پر پڑتی تھی جہاں کتابیں سلیقے سے چنی ہوتی تھیں۔ ان کتابوں کے اوراق سے اٹھنے والی مخصوص مہک کسی پرانے، مخلص اور دانا دوست کی خوشبو جیسی ہوتی تھی۔ مگر آج، ذرا اپنے اردگرد نظر دوڑائیے، منظر مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ اب ہمارے ہاتھوں میں ہر وقت ایک چمکتی ہوئی سکرین ہوتی ہے اور وہ مخلص دوست الماریوں میں قید، گرد کی چادر اوڑھے خاموشی سے ہماری راہ تک رہے ہیں۔
یہ سچ ہے کہ ٹیکنالوجی نے فاصلے سمیٹ کر دنیا کو ہماری مٹھی میں کر دیا ہے، مگر اس ڈیجیٹل ہجوم میں ہم نے اپنا اندرونی سکون کہیں کھو دیا ہے۔ ہم موبائل فون کی سکرین پر روزانہ ہزاروں الفاظ پڑھتے ہیں، بے شمار تصویریں دیکھتے ہیں اور درجنوں لوگوں سے رابطے میں رہتے ہیں، لیکن سکرولنگ کی اس نہ ختم ہونے والی دوڑ میں دل میں کچھ نہیں اترتا۔ سکرین پر معلومات کا ایک شور ہے، ایک سیلاب ہے جو دماغ کو تھکا رہا ہے، مگر روح پیاسی کی پیاسی ہے۔
دوسری جانب وہ کتاب تھی، جسے جب ہم کھولتے تو وقت جیسے کچھ پل کے لیے تھم سا جاتا تھا۔ کسی خاص سطر کو پڑھ کر رک جانا، اسے بار بار دہرانا، اور پھر کسی گہری سوچ میں گم ہو جانا یہ وہ طلسماتی تجربہ ہے جو کوئی سکرین ہمیں نہیں دے سکتی۔ کتاب کے صفحات پلٹنے کی آواز میں جو سکون تھی، وہ اب نوٹیفکیشن کی بیپ میں کہیں دب گئی ہے۔ ہم نے عارضی لائکس اور کمنٹس کی دنیا میں اس گہرے مطالعے کو قربان کر دیا جو ہماری شخصیت اور کردار کی تعمیر کرتا تھا۔
ذرا سوچیے، جب ہم کسی کتاب کا صفحہ موڑ کر نشانی لگاتے تھے، یا کسی پسندیدہ جملے کے نیچے لکیر کھینچتے تھے، تو ہم دراصل اس کتاب کے ساتھ اپنا ایک جذباتی رشتہ جوڑ رہے ہوتے تھے۔ آج ہمارے موبائل میں پی ڈی ایف (PDF) فائلیں اور تحریریں تو ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں، مگر ان میں وہ احساس کہاں جو سرہانے رکھی ایک چھوٹی سی کتاب میں ہوتا تھا؟ وہ کتاب جو رات گئے تک جاگنے میں ہماری ساتھی ہوتی تھی، اور جسے سینے پر رکھ کر نیند کی وادیوں میں اتر جانا ایک الگ ہی سکون کا باعث تھا۔
ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ موبائل فون دورِ حاضر کی ضرورت ضرور ہے، مگر کتاب ہماری اساس ہے۔ سکرین ہمیں لمحاتی معلومات دے سکتی ہے، لیکن شعور، گہرائی اور زندگی کا اصل فہم صرف اور صرف کتاب کے اوراق میں پنہاں ہے۔ جب لفظ کاغذ پر چھپتا ہے تو وہ امر ہو جاتا ہے، اور جب وہ آنکھوں کے راستے دل میں اترتا ہے تو انسان کو اندر سے روشن کر دیتا ہے۔
آئیے! آج طاقچوں اور الماریوں پر پڑی اس اداس گرد کو صاف کریں۔ اس پرانے اور سچے دوست کو ایک بار پھر ہاتھ میں تھام کر دیکھیں، اس کے اوراق کی خوشبو کو محسوس کریں۔ یقین جانیے، آپ کو محسوس ہوگا کہ آپ نے زندگی کا کوئی بہت قیمتی اور بچھڑا ہوا حصہ واپس پا لیا ہے۔ کیونکہ جب تک کتاب الماری سے نکل کر دوبارہ ہمارے ہاتھوں میں نہیں آتی، ہماری سوچ اور روح کا یہ خالی پن کبھی نہیں بھر سکتا۔
مزید پڑھیں





