Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

موبائل اور ماں کی آنکھیں،تحریر :سدرہ قیوم

نقطہ نظر
mobile phone
مصنف:

لاہور کے ایک متوسط طبقے کے محلے میں عاصمہ بی بی اپنے اکلوتے بیٹے فیضان کے ساتھ رہتی تھیں۔ شوہر کے انتقال کے بعد انہوں نے سلائی کڑھائی کا کام شروع کر کے اپنے بیٹے کی پرورش کی۔ ان کی زندگی کا واحد مقصد یہی تھا کہ فیضان پڑھ لکھ کر اچھا انسان بنے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔

فیضان سولہ برس کا ہونہار لڑکا تھا۔ بچپن میں وہ کتابوں کا شوقین تھا، مگر جب سے والدہ نے اسے پڑھائی کی سہولت کے لیے سمارٹ فون لے کر دیا تھا، اس کی زندگی یکسر بدل گئی تھی۔ پہلے پہل وہ فون پر اسکول کا کام دیکھتا، مگر آہستہ آہستہ سوشل میڈیا اور آن لائن گیمز کی دنیا نے اسے اپنی گرفت میں لے لیا۔

اسکول سے واپسی پر وہ سیدھا اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیتا۔ کھانا بھی کمرے میں منگواتا، دوستوں سے ملنا چھوڑ دیا، اور رات دیر گئے تک سکرین کی روشنی میں ڈوبا رہتا۔ اس کی آنکھوں کے گرد حلقے پڑنے لگے اور صحت پر بھی برا اثر پڑنے لگا۔

عاصمہ بی بی یہ سب خاموشی سے دیکھتیں اور دل ہی دل میں کڑھتیں۔ کئی بار سمجھایا: "بیٹا فیضان، تھوڑی دیر کے لیے باہر نکلو، اپنے کزنز سے ملو، محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلو، یا کوئی اچھی کتاب پڑھو۔" مگر فیضان ہر بار وہی گھسا پٹا جواب دیتا: "بس امی، بس تھوڑی دیر اور، ابھی یہ لیول ختم کرتا ہوں۔"

وقت گزرتا رہا اور فیضان کے سالانہ امتحانات قریب آ گئے۔ عاصمہ بی بی نے کئی بار یاد دہانی کرائی کہ تیاری شروع کرے، مگر فیضان ہمیشہ "کل سے شروع کروں گا" کہہ کر ٹالتا رہا۔ امتحان سے عین ایک رات پہلے، جب اسے سنجیدگی سے کتاب کھولنی چاہیے تھی، اس کے دوستوں نے ایک نئی آن لائن گیم کا ٹورنامنٹ رکھا۔ لالچ اور دوستوں کے دباؤ میں آ کر فیضان نے ساری رات جاگ کر گیم کھیلی، یہ سوچ کر کہ "صبح جلدی اٹھ کر تھوڑا بہت دیکھ لوں گا۔"

مگر صبح ہوئی تو وہ اتنا تھکا ہوا تھا کہ آنکھیں مشکل سے کھلیں۔ دماغ بوجھل، ذہن منتشر وہ اس حالت میں پرچہ دینے چلا گیا۔ جو سوالات وہ آسانی سے حل کر سکتا تھا، نیند کی کمی اور ذہنی تھکاوٹ کی وجہ سے الجھ گیا۔ نتیجہ آیا تو فیضان فیل ہو چکا تھا۔

نتیجہ دیکھ کر فیضان کمرے میں بند ہو گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اسے احساس ہوا کہ اس کی محنتی ماں کا کتنا نقصان ہوا جو اس کے مستقبل کے لیے دن رات محنت کرتی تھیں۔

عاصمہ بی بی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر آ کر بیٹے کے پاس بیٹھ گئیں۔ انہوں نے اسے ڈانٹا نہیں، بلکہ نرمی سے اس کا سر اپنے کندھے پر رکھ لیا اور کہا: "بیٹا، رونے سے کچھ نہیں ہوگا۔ غلطی ہو گئی، اب سبق سیکھو۔ یہ موبائل فون تمہارا دشمن نہیں، مگر جب انسان کسی چیز کا غلام بن جائے تو وہی چیز نقصان دہ بن جاتی ہے۔ زندگی میں ہر کام کا ایک وقت مقرر کرنا ضروری ہےپڑھائی کا وقت، کھیل کا وقت، آرام کا وقت اور اپنوں کے ساتھ وقت گزارنے کا وقت۔"

فیضان نے پہلی بار اپنی ماں کی بات کو دل سے محسوس کیا۔ اس رات اس نے فیصلہ کیا کہ اب سے وہ اپنی زندگی میں توازن لائے گا۔ اگلے دن سے اس نے اپنے لیے ایک ٹائم ٹیبل بنایا: صبح کی سیر، دن میں پڑھائی کے مقررہ اوقات، شام کو تھوڑی دیر موبائل کا استعمال، اور رات کو جلدی سونا۔

شروع میں یہ سب مشکل لگا، پرانی عادت بار بار کھینچتی، مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔ ماں کی حوصلہ افزائی اور اپنی محنت سے چند ہی مہینوں میں اس کی صحت بھی بہتر ہوئی اور پڑھائی میں بھی نمایاں بہتری آئی۔ سالانہ امتحان میں فیضان نے پوری کلاس میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔

جب استاد نے اس کامیابی کا راز پوچھا تو فیضان نے مسکرا کر جواب دیا: "کامیابی کا راز یہ نہیں کہ ہم جدید ٹیکنالوجی سے دور بھاگیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم اسے اپنا غلام بنائیں، خود اس کے غلام نہ بنیں۔ میری ماں نے مجھے یہ سبق سکھایا۔"

سبق: جدید دور کی سہولتیں اللہ کی نعمت ہیں، مگر بے اعتدالی اور بے احتیاطی انہیں زحمت اور نقصان کا باعث بنا دیتی ہے۔ زندگی میں توازن اور نظم و ضبط ہی حقیقی کامیابی کی کنجی ہے، اور والدین کی نرم اور مخلصانہ رہنمائی انسان کو صحیح راستے پر لے آتی ہے۔