Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

موسمِ سرما کی آمد ،تحریر:ایس اے شازم

نقطہ نظر
s a shazim

موسموں کی تبدیلی قدرت کے حسین نظام کا ایک ایسا دلکش پہلو ہے جو انسانی زندگی میں تنوع، تازگی اور نیا احساس پیدا کرتا ہے۔ کبھی بہار کی رنگینیاں دل کو مسرور کرتی ہیں، کبھی گرمی کی تپش انسان کو بے چین کر دیتی ہے، تو کبھی خزاں کی اداسی فضا پر خاموشی طاری کر دیتی ہے۔ انہی موسموں کے درمیان موسمِ سرما اپنی منفرد خصوصیات، دل کش مناظر اور مخصوص طرزِ زندگی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔

سردی کا موسم اپنے ساتھ جہاں ایک خوشگوار تبدیلی لاتا ہے، وہاں یہ ہماری طرزِ زندگی، لباس اور صحت میں بھی بڑی تبدیلیاں مانگتا ہے۔ جیسے ہی فضا میں خنکی بڑھتی ہے، خشک ہوا اور گرتے درجہ حرارت کے باعث انسانی جسم کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جوں ہی اکتوبر کی آمد کے ساتھ فضا میں خنکی بڑھنے لگتی ہے، سردیوں کی ہلکی پھلکی دستک محسوس ہونے لگتی ہے۔ صبح کے وقت ہلکی دھند کی چادر، گھاس پر شبنم کے موتیوں جیسے قطرے اور درختوں کے پتوں پر ٹھہری نمی قدرت کے حسن کو مزید نکھار دیتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں برف باری کا منظر دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے جبکہ میدانی علاقوں میں سرد ہوائیں اور دھند موسم کی شدت کا احساس دلاتی ہیں۔

موسمِ سرما صرف قدرتی مناظر کی خوب صورتی کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی معمولات میں تبدیلی کا موسم بھی ہے۔ گرم کپڑے، نرم رضائیاں، انگیٹھی کی تپش اور اہلِ خانہ کے ساتھ بیٹھ کر چائے پینے کی محفلیں اس موسم کی خاص پہچان ہوا کرتے تھے۔ آج کل گرم رضائیوں کی جگہ نرم کمبلوں نے لے لی، انگیٹھی کی جگہ ہیٹر کی تپش اور اہلخانہ کے ساتھ بیٹھ کر سوپ پینے کے بجائے سوشل میڈیا پر وی لاگز بنا کر برانڈڈ جوتوں، جیکٹس اور انواع و اقسام کے کھانوں کی نمائش کرنا، ایک مشغلہ بن گیا ہے۔ گاجر کا حلوہ، مونگ پھلی، خشک میوہ جات، سوپ، یخنی اور گرم گرم پکوان سردیوں کی رونق میں اضافہ کرتے ہیں۔ بظاہر یہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہیں لیکن یہی لمحات زندگی کو خوب صورت اور یادگار بناتے ہیں۔

تاہم موسمِ سرما کا ایک دوسرا رخ بھی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں صاحبِ حیثیت افراد گرم لباس، ہیٹر اور آرام دہ کمروں میں سردیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، وہیں معاشرے کا ایک بڑا طبقہ سردی کی شدت سے بچنے کے لیے بنیادی سہولتوں کا محتاج رہتا ہے۔ فٹ پاتھوں پر رات گزارنے والے افراد، کچی آبادیوں میں رہنے والے خاندان اور گرم کپڑوں سے محروم بچے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ موسم کی سختی سب کے لیے یکساں نہیں مگر اس کے اثرات برداشت کرنے کی صلاحیت ہر ایک میں برابر نہیں ہوتی۔

ایسے میں ہماری اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اردگرد ضرورت مند افراد کا خیال رکھیں۔ گرم کپڑوں کی فراہمی، کمبلوں کی تقسیم اور مستحق خاندانوں کی مدد محض نیکی کے کام نہیں بلکہ انسانیت کی حقیقی خدمت ہیں۔ اسلام بھی ضرورت مندوں کی مدد، ہمدردی اور ایثار کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہم اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کر لیں تو سردیوں کی شدت کسی حد تک کم کی جا سکتی ہے۔

اس موسم میں صحت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ نزلہ، زکام، کھانسی اور دیگر موسمی بیماریوں سے بچنے کے لیے مناسب گرم لباس پہننا، صفائی کا خیال رکھنا، متوازن غذا استعمال کرنا اور ضرورت کے مطابق پانی پینا مفید عادات ہیں۔ بالخصوص بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کو سردی سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی توجہ درکار ہوتی ہے۔

المختصر، موسمِ سرما قدرت کا ایک خوب صورت تحفہ ہے، جو ہمیں زندگی کے مختلف رنگوں سے روشناس کراتا ہے۔ یہ موسم جہاں راحت، سکون اور خوش ذائقہ پکوانوں کی خوشیاں لاتا ہے، وہیں ہمیں دوسروں کے دکھ درد محسوس کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ حقیقی معنوں میں موسم کی خوب صورتی اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب اس کی خوشیاں معاشرے کے ہر فرد تک پہنچیں۔

آئیے! اس موسمِ سرما میں اپنے گھروں کی گرمائش کے ساتھ اپنے دلوں میں بھی محبت، ہمدردی اور احساسِ ذمہ داری کی شمع روشن کریں، کیونکہ انسانیت کی حرارت ہی وہ روشنی ہے جو سرد ترین موسم میں بھی زندگی کو گرم جوشی عطا کرتی ہے۔