مبشر لقمان صاحب سے ایک یادگار ملاقات،تحریر:سید علی جبران نقوی
نقطہ نظر
صحافت محض الفاظ کو کاغذ پر منتقل کرنے یا کسی واقعے کو خبر کی صورت میں بیان کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کا تعلق براہِ راست معاشرے، ریاست اور عام انسان کے مسائل سے ہوتا ہے۔ ایک صحافی کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب اسے یہ فیصلہ کرنا ہو کہ وہ طاقتور کے بیانیے کو دہراتا ہے یا خاموش اور بے آواز شہری کی آواز بننے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی احساسِ ذمہ داری کے ساتھ محترم و مکرم مبشر لقمان صاحب سے ہونے والی میری حالیہ ملاقات میرے لیے محض ایک ملاقات نہیں بلکہ ایک فکری اور صحافتی تجربہ ثابت ہوئی۔
محترم مبشر لقمان صاحب پاکستان کے معروف صحافی، اینکر پرسن اور تجزیہ کار ہیں۔ ان کے ساتھ ملاقات کے دوران پاکستان کے موجودہ سیاسی و سماجی حالات، ملکی و عالمی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں، بدلتے ہوئے جیوپولیٹیکل منظرنامے، میڈیا کے کردار اور موجودہ دور میں صحافت کو درپیش چیلنجز سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی اور دلچسپ گفتگو ہوئی۔ گفتگو کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ آج کے پیچیدہ دور میں کسی بھی واقعے کو صرف سرخی کی حد تک دیکھنے کے بجائے اس کے پس منظر، محرکات اور ممکنہ اثرات کو سمجھنا کس قدر ضروری ہے۔
مبشر لقمان صاحب کا صحافتی سفر مختلف ادوار اور شعبوں پر محیط رہا ہے۔ انہوں نے فلم اور ٹیلی ویژن پروڈکشن سے لے کر صحافت، تحقیقاتی اور موجودہ امور کی نشریات تک مختلف میدانوں میں کام کیا۔ ان کا بے باک اندازِ گفتگو اور مختلف قومی و سیاسی معاملات پر اپنی رائے کا کھل کر اظہار انہیں پاکستانی میڈیا کے نمایاں چہروں میں شمار کرتا ہے۔ ان کا پروگرام ’’کھرا سچ‘‘ بھی پاکستانی موجودہ امور کی نشریاتی صحافت میں ایک معروف حوالہ رہا ہے۔
ملاقات کے دوران ایک ایسا پہلو بھی سامنے آیا جس نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا۔ محترم مبشر لقمان صاحب نے بطور صحافی، اینکر پرسن اور کالم نگار میرے لیے اس امر پر زور دیا کہ صحافت کا بنیادی مقصد عام پاکستانی شہری کے مسائل اور بنیادی حقوق کی آواز کو ریاستی اداروں اور حکومتی ایوانوں تک پہنچانا ہونا چاہیے۔ ان کی گفتگو کا مرکزی پیغام یہی تھا کہ صحافت کو صرف سیاسی بحث، شخصیات اور اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ عام انسان کی زندگی، اس کے مسائل، مشکلات، آئینی و قانونی حقوق اور بنیادی ضروریات بھی صحافتی ترجیحات کا حصہ ہونی چاہئیں۔
یہ بات میرے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ میں محترم مبشر لقمان صاحب کی سرپرستی میں باغی رائٹرز فورم کا باقاعدہ رکن ہوں اور مختلف قومی و بین الاقوامی موضوعات پر حقائق اور معلومات کی بنیاد پر کالمز لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرے لیے یہ رکنیت صرف ایک فورم کا حصہ ہونا نہیں بلکہ اپنے قلم کے ذریعے معاشرے میں مثبت اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی ایک ذمہ داری بھی ہے۔
ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو نے ایک بار پھر یہ احساس اجاگر کیا کہ صحافت میں اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن حقائق، تحقیق، آئینی حقوق، انسانی وقار اور عوامی مفاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ ایک ذمہ دار صحافی کا قلم کسی فرد، جماعت یا ادارے کا ترجمان بننے کے بجائے عوامی مفاد اور سچائی کا امین ہونا چاہیے۔
مبشر لقمان صاحب کے ساتھ یہ ملاقات میرے لیے ایک خوشگوار، فکری اور یادگار تجربہ رہی۔ ایسی ملاقاتیں انسان کو نہ صرف نئے خیالات سے روشناس کراتی ہیں بلکہ اپنے پیشہ ورانہ کردار اور ذمہ داریوں پر ازسرِنو غور کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔
امید ہے کہ مستقبل میں بھی ایسی فکری اور صحافتی نشستوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور ہم مل کر اس کوشش کو آگے بڑھائیں گے کہ پاکستان کے عام شہری کی جائز آواز مؤثر انداز میں متعلقہ حلقوں تک پہنچے، تاکہ صحافت معاشرے میں محض خبر رسانی نہیں بلکہ اصلاح، آگاہی اور عوامی خدمت کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکے۔
اللہ تعالیٰ محترم مبشر لقمان صاحب کو صحت، سلامتی اور کامیابی عطا فرمائے اور ہم سب کو اپنے قلم اور کردار کے ذریعے پاکستان اور پاکستانی عوام کے لیے مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی توفیق دے۔
آمین یا رب العالمین بحقِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام۔
مزید پڑھیں





