اکتوبر سے جڑی تلخ یادیں ،تحریر : عابد محمود عابد
نقطہ نظر
اکتوبر 2005 والا مہینہ میری زندگی کا تلخ ترین اور ناخوشگوار مہینہ تھا کہ جس میں دو نہایت ہی تکلیف دہ واقعات رونما ہوئے ، ایک پورے پاکستان خصوصی طور پر آزاد کشمیر کے لوگوں کو بہت زیادہ دکھی کرگیا اور دوسرے کا تعلق میرے اپنے خاندان سے تھا اور وہ بھی ہمارے لیے کسی زلزلے سے کم نہ تھا ، اس تحریر میں اپنی زندگی کے ان دونوں تلخ ترین واقعات کا احاطہ کرنے کی کوشش کروں گا ، یادرہے کہ اس وقت رمضان المبارک بھی چل رہا تھا ،
ان دنوں میں ایک انٹرنیٹ کیفے چلایا کرتا تھا جو اندرون شہر کی ایک مصروف سڑک پر واقع بلڈنگ کی فرسٹ فلور پر تھا ، میں 8 اکتوبر کی صبح ابھی اپنے انٹرنیٹ کیفے میں پہنچا ہی تھا اور میرا 12 سال کا بھتیجا عمیر بھی میرے ہمراہ تھا ، ابھی کوئی کسٹمر وغیرہ نہیں آئے تھے کہ اچانک ایسے لگا کہ جیسے سب چیزیں زور زور سے ہلنے لگی ہیں ، پہلے تو میں کچھ حیران سا ہوگیا لیکن پھر مجھے سمجھ آگئی کہ یہ زلزلہ آگیا ہے ، میں نے فوری طور پر اپنے بھتیجے کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر تیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا اور جب ہم باہر سڑک پر آئے تو دیکھا کہ ساتھ واقع بنک کا سارا عملہ اور سب دوکاندار اور دیگر لوگ بھی باہر روڈ پر کھڑے ہوکر توبہ استغفار کر رہے تھے ، کافی دیر بعد جب آہستہ آہستہ لگا کہ اب سب کچھ معمول پر آگیا ہے تو سب لوگ اپنے روز مرہ کے کاموں میں مصروف ہوگئے لیکن بتدریج خبروں سے پتہ چلنے لگا کہ اس زلزلے سے پاکستان بھر اور خصوصی طور پر آزاد کشمیر میں بہت زیادہ تباہی آئی ہے کیونکہ اس زلزلے کا مرکز مظفر آباد تھا ، ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ، بڑی بڑی عمارتیں تباہ و برباد یوگئیں ، بہت ساری اموات ہوئیں اور کتنے سارے بچے یتیم ہوگئے ، کشمیر کے علاوہ اور جگہوں پر بھی بہت نقصانات ہوئے ، کئی چلتی گاڑیاں الٹ جانے سے بھی کئی اموات ہوئیں اور بہت زیادہ لوگ زخمی ہوئے ، اس زلزلے نے پورے پاکستان کو ہلا کر رکھ دیا ، اسکے اثرات کئی سالوں تک رہے اور امدادی کاموں میں بھی کئی ماہ و سال لگ گئے ،
اب میں اسی اکتوبر 2005 میں پیش آنے والے دوسرے واقعہ کا بھی تذکرہ کروں گا جو ہمارے خاندان کے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھا ،
17 اکتوبر 2005 کی صبح سحری کرنے اور فجر کی نماز پڑھنے کے بعد ہم سب گھر والے سوئے ہوئے تھے کہ اچانک دروازے پر زور سے دستک ہونے لگی ، میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو ایک محلے دار کھڑا تھا اس نے بتایا کہ آپکے جو بھائی سعودیہ میں ہیں انکی طبیعت اچانک بہت زیادہ خراب ہوگئی ہے ، آپ کسی کو فون کرکے پتہ کر لیں ، اتنی دیر میں سب گھر والے اٹھ چکے تھے ، ہم نے گلی کے ایک اور آدمی کا فون نمبر حاصل کیا جو بسلسلہ روزگار میرے بھائی کے ساتھ سعودیہ میں ہی تھا ، فون کیا تو اس نے بتایا کہ آپکے بھائی کی حالت بہت سیریس ہے اور وہ اس وقت ہسپتال میں ہیں ، ہمارے کئی دوسرے محلے دار بھی وہاں تھے ، آہستہ آہستہ انکے گھر والوں کے ذریعے یہ بات کھلنے لگی کہ میرے بھائی اصل میں سحری کرتے وقت ہارٹ اٹیک سے وفات پاچکے ہیں ، یہ خبر ہمارے لیے کسی قیامت سے کم نہ تھی اور ہمیں ایسا لگا کہ ہمارے اوپر ایک اور زلزلہ آگیا ہے اور اس سے بھی بڑھ کر تکلیف دہ بات یہ تھی کہ سعودیہ کے سخت قوانین اور تکنیکی مشکلات کی وجہ سے بھائی کی میت پاکستان آنے میں پورا ایک ماہ لگ گیا ، اس دوران عید بھی آئی جو ہماری زندگی کی تلخ ترین اور انتہائی دکھ بھری عید تھی ، عید کا دن بھی گھر کے سب افراد نے روتے ہوئے گذار دیا ، عید کے پندرہ دن بعد بھائی کی میت پاکستان آئی اور تدفین ہوئی تو پھر دلوں کچھ صبر ملا ،
مذکورہ بالا دو وقعات کی وجہ سے 2005 کا یہ اکتوبر ہمیشہ دلوں میں دکھ اور تلخیاں بکھیرتا رہے گا اور کبھی بھول نہ پائے گا ،
مزید پڑھیں





