پاکستان کا رواج: جوائنٹ فیملی سسٹم،تحریر: سائرہ علی
نقطہ نظر
ہمارے ہاں جب کسی بچی کی پیدائش ہوتی ہے تو اسے بچپن سے ہی ایک خواب دکھایا جاتا ہے کہ ایک دن تم نے اپنا گھر چھوڑ کر دوسرے گھر کو اپنا بنانا ہے۔ اسے سکھایا جاتا ہے صبر کرنا، برداشت کرنا، سب کو خوش رکھنا۔ لیکن کوئی اسے یہ نہیں سکھاتا کہ جب سب کو خوش رکھنے کی کوشش میں وہ خود ٹوٹ جائے گی تو اسے کون جوڑے گا؟ پاکستان میں جوائنٹ فیملی سسٹم کو ہماری ثقافت، ہماری روایت اور ہمارا فخر سمجھا جاتا ہے۔ بڑے بزرگ کہتے ہیں کہ اکٹھے رہنے میں برکت ہے، اور یقیناً ہے بھی۔ لیکن جب یہی نظام رواج، ضد اور انا کا مسئلہ بن جائے تو یہ برکت نہیں، ایک ایسی آزمائش بن جاتا ہے جس کی سب سے بڑی قیمت عورت ادا کرتی ہے۔ اس کالم کا مقصد جوائنٹ فیملی سسٹم کو برا کہنا نہیں، بلکہ اس کے اس بھیانک روپ کو دکھانا ہے جو آج ہمارے معاشرے میں عام ہو چکا ہے۔
عورت پر دباؤ — ایک بیوی، ایک بہو، ایک ملازمہ؟
ہمارے ہاں شادی کے بعد ایک لڑکی سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایک دم سے سب کچھ بن جائے۔ وہ ایک فرمانبردار بیوی بھی ہو، ایک خدمت گزار بہو بھی ہو، ایک اچھی بھابھی بھی ہو، اور اگر گھر میں دیور، نندیں ہیں تو ان کی بھی خدمت گزار ہو۔ صبح سب سے پہلے اٹھنا اس کی ذمہ داری، رات کو سب کے کھانے کے بعد کھانا اور برتن سمیٹنا بھی اس کی ذمہ داری۔
سسرال میں اکثر اسے یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ "ہمارے گھر کا یہ رواج ہے"۔ رواج کے نام پر اس کی ذاتی زندگی، اس کی پسند ناپسند، اس کے آرام، سب کو ختم کر دیا جاتا ہے۔ وہ بیمار بھی ہو تو اسے آرام کا حق نہیں، کیونکہ اگر وہ لیٹ گئی تو "بہو سست ہے" کا لیبل لگ جائے گا۔ وہ اپنے میکے جانا چاہے تو
اجازت لینی پڑے گی، وہ کچھ پہننا چاہے تو سوچنا پڑے گا کہ ساس کیا کہے گی، نند کیا کہے گی۔ یہ مسلسل "لوگ کیا کہیں گے" اور "سب کو خوش رکھنا ہے" کا دباؤ عورت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ وہ ذہنی طور پر تھک جاتی ہے۔ وہ ہنستی ہے، سب کے سامنے خوش دکھتی ہے، لیکن رات کو اکیلے میں اس کا دل روتا ہے۔ یہ ذہنی دباؤ، یہ Anxiety، یہ ڈپریشن آج ہماری 80 فیصد بہوؤں کا مقدر بن چکا ہے، لیکن اس پر بات کوئی نہیں کرتا۔
مرد حضرات کے لیے آزمائش، دو کشتیوں کا سوار
ہم صرف عورتوں کی بات کرتے ہیں، لیکن اس نظام میں پسنے والا دوسرا فریق مرد بھی ہے۔ وہ بیچارہ صبح سے شام تک باہر محنت کرتا ہے، اور گھر آ کر اسے جج بننا پڑتا ہے۔ ایک طرف ماں ہے جو کہتی ہے "تیری بیوی میری نہیں سنتی"، دوسری طرف بیوی ہے جو روتے ہوئے کہتی ہے "تمہاری ماں نے آج پھر یہ کہا"۔ وہ مرد کس کو خوش رکھے؟ اگر وہ ماں کی سنے تو بیوی ناراض، اگر بیوی کی سنے تو ماں کہتی ہے "بیوی نے قابو کر لیا ہے"۔ یہ مرد بیچارہ ساری زندگی اسی guilty میں گزار دیتا ہے کہ وہ ایک اچھا بیٹا نہیں بن سکا یا ایک اچھا شوہر نہیں بن سکا۔ اس کا اپنا کوئی سکون نہیں رہتا۔ وہ گھر آنے سے بھی ڈرنے لگتا ہے کہ آج پھر کوئی نیا مسئلہ کھڑا ہوگا۔
اس مسلسل کھینچا تانی سے میاں بیوی کا وہ خوبصورت رشتہ جو محبت اور اعتماد پر بننا تھا، وہ ساس بہو کے جھگڑوں کی نذر ہو جاتا ہے۔
سب سے بڑا نقصان — بچوں کی تباہ ہوتی تربیت اور اس ساری جنگ میں اگر کوئی سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے تو وہ معصوم بچے ہیں۔ جب ماں سارا دن ذہنی دباؤ، کام اور لڑائی جھگڑوں میں الجھی رہے گی تو وہ بچے کو کیا وقت دے گی؟ بچہ رو رہا ہے، لیکن ماں کچن میں سب کے لیے کھانا بنا رہی ہے۔ بچہ ماں سے بات کرنا چاہتا ہے، لیکن ماں تھکن سے چور ہے۔ بچے کو ماں کی توجہ نہیں ملتی۔ پھر بچہ کیا سیکھتا ہے؟ وہ اسی ماحول میں بڑا ہوتا ہے جہاں ہر وقت طعنے، لڑائی، اونچی آوازیں اور نفرت ہے۔ وہ بچپن سے ہی دیکھتا ہے کہ اس کی ماں کو دبایا جا رہا ہے، اس کی بے عزتی ہو رہی ہے۔ اس کے دل میں یا تو اپنی ماں کے لیے نفرت پیدا ہوتی ہے یا پورے خاندان کے لیے۔ اس کی شخصیت میں اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔ وہ یا تو بہت ڈرپوک بن جاتا ہے یا بہت غصے والا۔ ہم کہتے ہیں آج کل کے بچے بگڑ گئے ہیں، لیکن ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان کی تربیت کے لیے
ماحول ہی کیسا دیا ہے۔ ایک پر سکون ماں ہی ایک پر سکون نسل پیدا کر سکتی ہے، اور جوائنٹ فیملی کا یہ زہریلا ماحول ماں سے اس کا سکون چھین لیتا ہے۔
لڑائی جھگڑے اور طلاق کی بڑھتی شرح
پہلے وقتوں میں برداشت تھا، لوگ صبر کر لیتے تھے۔ لیکن آج کی لڑکی پڑھی لکھی ہے، وہ شعور رکھتی ہے۔ وہ ساری زندگی ظلم برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ روز روز کے جھگڑے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے فساد۔ آج سالن میں نمک تیز کیوں ہے، سے بات شروع ہوتی ہے اور طلاق تک جا پہنچتی ہے۔ پاکستان میں طلاق کی شرح میں جو خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہی جوائنٹ فیملی کے مسائل ہیں۔ عدالتوں میں جائیں تو 70 فیصد کیسز میں وجہ ساس بہو کا جھگڑا اور جوائنٹ فیملی میں مداخلت نکلتی ہے۔
ایک ہنستا بستا گھر صرف اس "رواج" کی وجہ سے اجڑ جاتا ہے۔
دینی اور معاشرتی لحاظ سے صحیح کیا ہے؟
اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف کہ دین کیا کہتا ہے؟ ہمارا دین اسلام بہت خوبصورت اور متوازن دین ہے۔ اسلام میں جوائنٹ فیملی کا کوئی تصور نہیں۔ اسلام کہتا ہے کہ شادی کے بعد عورت کا نان نفقہ، رہائش مرد پر فرض ہے اور اسے علیحدہ رہائش دینا مرد کی ذمہ داری ہے تاکہ اس کی عزت، پردہ اور سکون محفوظ رہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ بہو پر ساس سسر کی خدمت فرض نہیں، اگر وہ کرے تو یہ اس کا احسان اور اخلاق ہے، فرض نہیں۔ اسلام عورت کو اتنی عزت دیتا ہے کہ اسے اپنی ذاتی زندگی، اپنا گھر اور اپنا سکون دیتا ہے۔ لیکن ہم نے دین کو چھوڑ کر رواج کو دین بنا لیا ہے۔ معاشرتی لحاظ سے بھی اگر دیکھیں تو اصل چیز محبت اور عزت ہے، اکٹھے رہنا نہیں۔ اگر آپ دو گھروں میں رہ کر بھی ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں، دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں، تو یہ اس جوائنٹ فیملی سے ہزار درجہ بہتر ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے رہ کر دل ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہوں۔ بزرگوں کا اکٹھے رہنا برکت ہے، لیکن اس برکت کے لیے ضروری ہے کہ ہر کسی کی پرائیویسی، عزت اور حد کا خیال رکھا جائے۔ بہو کو بہو نہیں، بیٹی سمجھا جائے۔ اسے طعنہ دینے کے بجائے اس کا سہارا بنا جائے۔ اور مرد کو بھی چاہیے کہ وہ بیلنس رکھے، نہ ماں باپ کو چھوڑے نہ بیوی پر ظلم ہونے دے۔
آخر میں بس یہی کہوں گی۔
خدارا اس رواج کو ختم کریں۔ اپنی بہوؤں پر رحم کریں۔ وہ بھی کسی کی بیٹیاں ہیں، وہ اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑ کر آپ کے بیٹے کے سہارے آئی ہیں۔ ان پر اتنا دباؤ نہ دیں کہ وہ اندر سے مر جائیں۔ یاد رکھیں، ایک خوشحال عورت ہی ایک خوشحال گھر بناتی ہے۔ اگر آپ اپنی نسل کو بہترین تربیت دینا چاہتے ہیں تو پہلے اس نسل کی ماں کو عزت اور سکون دیں۔ کیونکہ جب ماں خوش ہوگی تو پورا گھر خوش ہوگا، اور جب ماں ٹوٹے گی تو پورا خاندان بکھر جائے گا۔





