Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

پاکستان کا وقار،کوہاٹ یونیورسٹی کا فخر ،ایک عظیم استاد کا سفر،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

نقطہ نظر
nadeem yaqoob gohar

کسی بھی معاشرے کی اصل اساس وہ معلم ہوتے ہیں جو محض کتابی علم کا درس نہیں دیتے بلکہ نوجوان نسل کے دلوں میں سائنسی جستجو کی شمع روشن کرتے ہیں۔ ایک عام استاد وہ ہے جو صرف سلیبس مکمل کراتا ہے، مگر ایک سچا اور مربی استاد وہ بنتا ہے جو اپنے خونِ جگر سے طلبہ کے فکری پودوں کی آبیاری کرے اور انہیں تناور درخت بنا کر زمانے کے حوالے کر دے۔ پاکستان کے سائنسی اور تعلیمی افق پر کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ کے مایہ ناز فل پروفیسر، ڈاکٹر ریحان نعیم کی شخصیت ایک ایسے ہی بیدار مغز اور باکمال استاد کا استعارہ ہے۔ خیبر پختونخوا کے پسماندہ اور جغرافیائی اعتبار سے دور دراز سمجھے جانے والے علاقے کوہاٹ کے ماحول میں رہ کر، تمام تر روایتی وسائل کی کمی کے باوجود انہوں نے جس طرح جدید سائنسی تحقیق کا پرچم بلند کیا، وہ ان کے پختہ ارادے اور علمی دیانت داری کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ علم کا تعلق شاہانہ عمارات یا بڑے شہروں کی چکا چوند سے نہیں ہوتا، بلکہ یہ تو اس لگن اور سچی نیت کا نام ہے جو مٹی کے ذروں کو بھی کندن بنا دیتی ہے۔


ڈاکٹر ریحان نعیم کا اصل سرمایہ وہ بے مثال اور زرخیز ذہن ہیں جنہیں انہوں نے لیبارٹری کی خاموش دیواروں میں رات دن محنت کر کے تراشا ہے۔ کوہاٹ یونیورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دیتے ہوئے انہوں نے پی ایچ ڈی اور ایم فل کرنے والے درجنوں نوجوان محققین کی علمی رہنمائی کی اور ان کی فکری پیاس بجھائی۔ ان کی مربیانہ نگاہ اور ہمہ وقت معاونت کے طفیل پاکستان کو ایسے قابل اور باصلاحیت پی ایچ ڈی ڈاکٹرز میسر آئے جو آج مختلف سائنسی، تحقیقی اور تدریسی اداروں میں ملک کی زرعی اور حیاتیاتی تقدیر سنوارنے میں مصروف ہیں۔ وہ محض مقالے منظور کرانے والے نگراں نہیں رہے، بلکہ انہوں نے اپنے شاگردوں کو یہ سکھایا کہ کس طرح پودوں کے ڈی این اے اور جدید جینیاتی نقشہ سازی کے ذریعے ملک کے زمینی اور ماحولیاتی مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکتا ہے۔ ان کی یہی شفیق تربیت آج کوہاٹ یونیورسٹی کو ملک کے ممتاز علمی اداروں کی صفِ اول میں کھڑا کر رہی ہے۔


اس سے بھی بڑھ کر ان کے علمی وقار کا سنہرا باب وہ ہے جب وہ بین الاقوامی سطح پر چین کے سائنسی افق پر نمودار ہوئے۔ 2011 سے 2015 کے دوران چائنیز اکیڈمی آف سائنسز اور بیجنگ بوٹینیکل گارڈن میں جہاں وہ جدید پلانٹ جینیٹکس اور بائیو انفارمیٹکس کی اعلیٰ ترین مہارتیں حاصل کرنے گئے تھے، وہیں انہوں نے خود کو صرف ایک طالب علم یا محقق تک محدود نہیں رکھا۔ وہاں انہوں نے چینی ماہرین اور سائنسدانوں کے سامنے پاکستان کی زرعی خصوصیات، روایتی فصلوں کی مدافعت اور خطے کے حیاتیاتی تنوع کا جامع مقدمہ پیش کیا۔ چینی یونیورسٹیوں اور تحقیقی مراکز میں انہوں نے اپنے وسیع مطالعے اور علمی تجربے کی بدولت وہاں کے سائنسدانوں کو پاکستان کی زرعی زونز کی مہارتوں اور امکانات سے آگاہ کیا اور انہیں جینیاتی تنوع کے ایسے اسرار و رموز سکھائے جن کا اعتراف خود چینی ماہرین نے کھلے دل سے کیا۔ یہ ایک تاریخی لمحہ تھا جب پاکستان کے ایک دور دراز علاقے کی نمائندگی کرنے والے استاد نے چین کی جدید ترین لیبارٹریوں میں اپنی علمی برتری اور فکری بصیرت کا لوہا منوایا۔


ڈاکٹر ریحان نعیم نے بیک وقت دو محاذوں پر اپنے فن کا چراغ جلایا؛ ایک طرف انہوں نے بین الاقوامی سرحدوں کے پار جا کر پاکستان کا نام سائنسی دنیا میں روشن کیا اور دوسری جانب اپنے وطن کی مٹی میں آ کر نئی نسل کے ہاتھوں میں علم کا قلم تھما دیا۔ کوہاٹ جیسے نسبتاً پسماندہ اور خاموش شہر کو علمِ جینیات کے عالمی نقشے پر روشناس کروانا انہی کا تاریخی کارنامہ ہے۔ ان کا یہ سفر اس سچائی کو اجاگر کرتا ہے کہ سچے اساتذہ اپنے ماحول یا وسائل کا رونا رونے کے بجائے خود ایک عہد کی بنیاد بنتے ہیں۔ ڈاکٹر ریحان نعیم کی یہ علمی و تدریسی خدمات ہمیشہ اس بات کا ثبوت رہیں گی کہ اگر استاد خلوص اور عزم کے ساتھ آگے بڑھے، تو وہ دنیا کی بڑی طاقتوں سے بھی اپنے وطن کے علم کا اعتراف کروا سکتا ہے اور اپنے پسماندہ خطوں کو تحقیق کے اعلیٰ ترین مراکز میں بدل سکتا ہے۔

بیجنگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی  وہاں کے پروفیسرز اور محققین کے ساتھ

بیجنگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی وہاں کے پروفیسرز اور محققین کے ساتھ



بیجنگ بوٹینیکل گارڈن  سال 2011ء میں وہاں کے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں کے ساتھ

بیجنگ بوٹینیکل گارڈن سال 2011ء میں وہاں کے عالمی شہرت یافتہ سائنسدانوں کے ساتھ