جب ہماری باہمی گفتگو کا آغاز ہی منفی رویوں سے ہو اور مثبت فیصلوں کی توقع ہو تو یہ ایسا ہی ہوگا جیسے کہ چاول کی فصل بو کر گندم کی فصل کی توقع کرنا ۔ بات صرف سوچ کے زاویہ تک محدود ہو کہ سوچ تو انسان کے دل و دماغ کا معاملہ ہے لیکن اگر وہی ترجیحات اور سوچیں عملی شکل اختیار کر کے دوسروں کی زندگیوں کے بخیے ادھیڑ نے لگ جائیں پھر معاملہ گھمبیر ہو جاتا ہے۔ پھر فرسودہ نظام سے نکلنے کی باتیں ہونے لگتی ہیں۔ فرسودہ نظام کو برا بھلا کہا جاتا ہے اور ہر شخص یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ آخر میں ہی کیوں؟ ۔ آخر میں ہی کیوں غلط رویوں کو بھگتوں ؟ آخر میں ہی کیوں
نا انصافی کا شکار رہوں؟ آخر میں ہی کیوں محروم رہوں؟ اور آخر میں ہی کہوں ؟ میں ہی کیوں سنوں؟ سے لے کر میں کیا ، کب اور کیوں بولوں ؟ یہ سفر پیچیدہ شکل اختیار کر جاتا ہے۔ ذرا سوچیے آپ ایک ایسے پارک میں موجود ہیں جہاں ارد گرد بچوں کے ہنسنے کی آوازیں ،لوگوں کے آپس میں بات چیت کرنے کی اوازیں، چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں آ رہی ہوں اور بار بار اپ کے ضمیر کو جگا رہی ہوں اور آپ اپنی سوچوں سے باہر نکلنے کا نام ہی نہ لے رہے ہوں اور بار بار آپ کے ذہن میں ایک ہی بات آتی ہو کہ آخر میں ہر بات کو دل پر کیوں لے لیتا ہوں؟ آخر میں ہی کیوں ہر طرح کی ناانصافی کا شکار ہو جاتا ہوں؟ کسی کو میری پرواہ نہیں ہے بس میں ہی دوسروں کی خوشی کے لیے پریشان ہو جاتا ہوں مسئلہ یہاں سے شروع نہیں ہوتا بلکہ یہاں تک پہنچتے پہنچتے اچھا خاصا بگڑ چکا ہوتا ہے بچپن کی یاسیت، والدین کے لڑائی، جھگڑے، معاشی پریشانیوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی خواہشات جو کبھی حسرتیں بن کر سر اٹھاتی ہیں تو لامحالہ یہی نتیجہ نکلنے لگتا ہے۔ ایسا شخص یا تو ہر بات پر دوسروں کو مورد الزام ٹھہراتا ہے یا شدت پسند سوچ کا مالک بنتے ہوئے دوسروں کے گناہوں اور توپوں کا رخ بھی اپنی طرف کر لیتا ہے اور ہر بات پر خود کو ہی مورد الزام ٹھہرانے لگ جاتا ہے یہ دو انتہائی درجے کے رویے ہیں یا تو ہم یہ سوچیں کہ ہم سے غلط کام ہو ہی نہیں سکتا جو کہ ناممکن سی بات ہے آخر ہم فرشتے نہیں ہیں بلکہ انسان ہیں ۔ اس زعم میں مبتلا لوگ آج بھی پائے جاتے ہیں اور بڑے فخر سے زندگی بھر یہ بتاتے رہتے ہیں اور فخر سے لوگوں کو تعارف کرواتے ہیں کہ میں وہ ہستی ہوں جس نے آج تک کوئی غلطی نہیں کی۔میں وہ ہستی ہوں جس نے اپنے بچوں کی تربیت بے مثال اور اعلی پائے کی کی ہے۔ میرے جیسا کھانا کوئی بنا نہیں سکتا۔ جیسا میں پہنتا ہوں ویسے کوئی کپڑے پہن نہیں سکتا۔ جیسی میں گاڑی چلاتا ہوں ویسے کوئی گاڑی چلا نہیں سکتا ۔ جتنا علم کا ذخیرہ میرے پاس ہے اتنا کسی اور کے پاس کہاں۔ جب میں دفتر نہ اؤں تو دفتر کا کام رکنے لگ جاتا ہے اگر میں اس جگہ وقت پر پہنچ چکا ہوتا تو ایسا ہرگز نہ ہوتا اور آپ کو نقصان نہ اٹھانا پڑتا میجھ سے بہتر کوئی خریداری کر ہی نہیں سکتا آپ تو بہت مہنگے داموں اشیائے ضروریات خرید کر لاتے ہیں۔ میں تو بڑی بچت کے ساتھ خریدتا ہوں۔ جس گھر میں میں رہتا ہوں اس کا نقشہ میں نے بڑی سوچ سمجھ کر بنوایا اور ایسا گھر کہیں کسی اور کا نہیں ہے جیسی میری نیک اولاد ہے ویسے کسی اور کی نہیں جیسی مجھے شریک حیات ملی ویسے شریک حیات کسی اور کی نہیں وغیرہ وغیرہ ۔ اتنی بےشمار نعمتوں اور رحمتوں کے ہوتے ہوئے بھی ہم اس مزاج کے لوگوں سے یہ سن کر حیران پھر پریشان ہو جاتے ہیں کہ اخر ان کو شکایت کس سے ہے جب ان کے پاس دنیا کی ہر نعمت فراوانی موجود ہے تو پھر بھی اپ کو ایسے لوگ یہی کہتے ہوئے نظر ائیں گے اخر میں ہی کیوں؟ ۔
کہیں ایسا تو نہیں کہ انجانے میں ناشکری کی طرف پہلا قدم اٹھایا جا رہا ہو یہ معاشرتی المیہ ہماری زندگی میں پھیلتا جا رہا ہے یا تو بہت مجبور بے کس، لاچار، قسمت کا مارا تقدیر کا مارا شخص اگر یہ جملہ بولے آخر میں ہی کیوں؟ تو کچھ حد تک بات سمجھ بھی اتی ہے اور پھر ہم ایسے لوگوں کو تبدیل کے فیصلوں پر راضی رہنے اللہ تعالی سے توبہ استغفار کرنے دعا کرنے اور اپنی حالت کو بہتر کرنے کی تلقین کرتے ہیں اور لگتا ہے کہ معاشرے کا ہر شخص مجبور بے کس لاچار انسان کو دعاؤں اور اللہ کی رضا میں راضی رہنے کا درس دیتا دکھائی دیتا ہے۔۔
یہ المیاتی سوچ ہے اور اس کا عمل سے کوئی تعلق نہیں دعا ایک قدرتی امر ہے اور ہر شخص کو اللہ نے شعور دیا ہے کہ وہ اپنے لیے اپنے اہل خانہ کے لیے دعائے خیر کرے۔ دعائے خیر کرنا بھی توفیق من جانب اللہ ہے۔
لیکن اس سوچ کا شکار معاشرے میں موجود انتہائی دیانت دار اور فرض شناس اشخاص بھی ہو جاتے ہیں جب ان کی دیانت داری کی قدر نہ کی جائے اور کسی معیار کا خیال رکھے بغیر دیانت دار اور مخلص افراد کو ہر شعبہ حیات میں پیچھے ہٹنے پر اور پیچھے ہونے پر مجبور کر دیا جائے تو پھر وہ بھی اسی فکر اور انداز کو اپنا لیتے ہیں کہ اخر میں ہی کیوں آخر ہم ہی کیوں یہ سوچ اگر صرف سوچ تک ہی رہے تو صرف ایک شخص کےلئے ہی بہت سی ذہنی بیماریوں کا موجب بنتی ہے۔۔ لیکن اگر اس سوچ کو عمل کا لبادہ پہنایا جائے تو پھر اہستہ اہستہ معاشرتی بے چینی بڑھتے بڑھتے کسی بڑے المیہ کی طرف گامزن ہونے لگ جاتی ہے جو کہ قومی اور معاشرتی وقار اور سکون کے لیے بہت بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔ سمجھدار معاشرے ایسی سوچ کو پیدا ہوتے ہی دانشمندانہ فیصلوں اور معاشرتی مساوات اور معاشی مساوات کے قیام کے ذریعے پنپنےکا موقع میسر نہیں کرتے ورنہ معاشرے میں ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے جو کبھی پر کرنا انتہائی مشکل امر بن جاتا ہے۔
اخر میں ہی کیوں؟ جیسی سوچ کا علاج صرف اور صرف معاشی معاشرتی سماجی اخلاقی تربیت اور مساوات کی ترویج سے ہی ممکن ہے.
زندگی گل و گلزار تو نہیں لیکن اس کو گزارنے کے لیے آخر میں ہی کیوں؟ جیسے رویوں سے باہر نکلنا پڑتا ہے ورنہ خود کو بھی بڑی تکلیف ہوتی ہے اور دوسرے بھی اذیت میں پڑ جاتے ہیں اس لیے بہتر ہے کہ مثبت سوچے فکر اور مثبت انداز کو اپنی زندگی کا ساتھی رکھیں تاکہ المیاتی زندگی اور سوچ سے چھٹکارا ہو سکے اور زندگی کی خوشیوں کو اچھے طریقے سے جی سکیں۔
مزید پڑھیں






