کچھ مسکراہٹیں صبر کی راکھ سے ابھرتی ہیں،تحریر: زینب جہانزیب
نقطہ نظر
ہم اکثر چہروں کو دیکھ کر کہانیاں بنا لیتے ہیں۔ کسی کی مسکراہٹ ہمیں سکون، خوشی اور آسان زندگی کی علامت لگتی ہے۔ کسی کو ہنستا دیکھ کر ہم فوراً یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اس کے نصیب میں شاید کبھی اندھیرے آئے ہی نہیں، شاید اس نے کبھی وہ بوجھ محسوس ہی نہیں کیا جو ہم اپنے سینے میں اٹھائے پھرتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ جس شخص کے چہرے پر اطمینان ہے، اس کی زندگی بھی اطمینان سے بھری ہوگی، حالاں کہ چہرہ ہمیشہ دل کا ترجمان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات انسان اپنے چہرے پر وہی مسکراہٹ سجا لیتا ہے جس کے پیچھے اس کی روح تھکی ہوئی کھڑی ہوتی ہے۔
حقیقت اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ ہر مسکراہٹ کے پیچھے ایک خاموش جنگ بھی چھپی ہو سکتی ہے۔ کچھ لوگ ہنستے اس لیے نہیں کہ وہ ہر حال میں خوش ہیں، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے خود کو ٹوٹنے کی اجازت دینا چھوڑ دی ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر ایک لمحے کے لیے بھی خود کو کمزور پڑنے دیا، اگر خاموشی کو زبان دے دی، تو اندر برسوں سے جمع درد آنکھوں کے راستے بہہ نکلے گا۔ سو وہ ہنستے ہیں، باتیں کرتے ہیں، دوسروں کو حوصلہ دیتے ہیں اور یوں اپنے اندر کے شور کو دنیا سے چھپائے رکھتے ہیں۔
بس جو چہرے ہمیں روشن دکھائی دیتے ہیں، وہ ہمیشہ بےفکر نہیں ہوتے۔ بعض چہرے اس لیے روشن ہوتے ہیں کہ وہ اندھیروں سے گزر گزر کر روشنی کی قدر سیکھ چکے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ سب کو ہنستے ہوئے خوش دکھائی دیتے ہیں، مگر رات کی تنہائی میں وہی لوگ اپنے آنسوؤں سے گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ دن بھر دوسروں کے سوالوں کے جواب دینے والے لوگ کبھی کبھی رات کو اپنے ہی سوالوں کے سامنے خاموش کھڑے ہوتے ہیں۔ مگر ان کی خاموشی کو کون پڑھتا ہے؟ کون جانتا ہے کہ ایک پُرسکون دکھائی دینے والا انسان اپنے اندر کتنے طوفان دفن کیے بیٹھا ہے؟
اس لیے جب کسی کو مسکراتا دیکھو تو اُس کی خوشی سے حسد نہ کرو، بلکہ اُس کی ہمت کی قدر کرو۔ ممکن ہے وہ شخص زندگی کے اُن زخموں کے ساتھ جی رہا ہو جن کا آپ تصور بھی نہ کر سکتے ہوں۔ ممکن ہے جس سکون کو دیکھ کر آپ یہ سمجھ رہے ہوں کہ اس شخص کی زندگی کتنی آسان ہے، وہ سکون دراصل کئی بےسکون راتوں کے بعد نصیب ہوا ہو۔
ہم سب اپنی اپنی جنگوں کے سپاہی ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ لوگ اپنی تھکن چھپا کر مسکرانا سیکھ جاتے ہیں اور کچھ کے چہرے ان کی تھکن کا راز کھول دیتے ہیں۔ کوئی اپنے دکھ کو لفظ دے دیتا ہے، کوئی خاموشی میں دفن کر دیتا ہے، اور کوئی مسکراہٹ کو اپنی ڈھال بنا لیتا ہے۔ مگر درد اپنی نوعیت میں درد ہی رہتا ہے، چاہے وہ آنکھوں سے ظاہر ہو یا ہونٹوں کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپا رہے۔
اور ایک سچ یہ بھی ہے کہ کچھ مسکراہٹیں صرف صبر کا نتیجہ نہیں ہوتیں، بلکہ ایک طویل آزمائش کے بعد ملنے والا انعام ہوتی ہیں۔ وہ لوگ جو کبھی ایسے راستوں سے گزرے ہوں جہاں سانس لینا بھی بوجھ لگتا تھا، جہاں ہر دن ایک نئی آزمائش بن کر آتا تھا، جہاں امید بار بار ٹوٹتی تھی مگر وہ پھر بھی چلتے رہے، اگر آج خوش نظر آتے ہیں تو اُن کی خوشی کو محض خوش قسمتی کا نام دینا اُن کی پوری جدوجہد سے ناانصافی ہے۔
اگر آج ان کے چہروں پر اطمینان ہے تو یہ خوشی اچانک نہیں آئی۔ یہ اُن کے آنسوؤں، صبر، انتظار اور خاموش جدوجہد کی کمائی ہے۔ یہ وہ سکون ہے جس کے لیے انہوں نے اپنے اندر کے کئی طوفانوں کو خاموش کیا، کئی خواہشوں کو دفن کیا اور کئی بار خود کو ازسرِنو جوڑا۔ بعض خوشیاں بازار سے خریدی ہوئی چیزوں کی طرح نہیں ملتیں، انہیں انسان اپنی ذات کے ٹوٹے ہوئے حصوں سے تعمیر کرتا ہے۔
ہم اکثر اُس خوشی کو دیکھ کر بےصبرے ہو جاتے ہیں، جسے پانے کے لیے کسی نے برسوں کی راتیں جلائی ہوتی ہیں۔ ہمیں کسی کی منزل دکھائی دیتی ہے، مگر وہ راستہ دکھائی نہیں دیتا جس پر اس نے ننگے پاؤں سفر کیا ہوتا ہے۔ ہمیں اس کے چہرے کا سکون نظر آتا ہے، مگر وہ آنکھیں نہیں دکھائی دیتیں جنہوں نے کبھی بےشمار راتیں جاگ کر گزاری ہوتی ہیں۔ ہم نتیجہ دیکھ کر خواہش کرنے لگتے ہیں، مگر اس کے پیچھے چھپی قیمت ادا کرنے کے لیے شاید تیار نہیں ہوتے۔
اسی لیے کسی کی خوشی کو دیکھ کر حسد کرنے کے بجائے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ شاید وہ شخص اس خوشی کا حق دار بننے کے لیے اپنے حصے کے تمام دکھ جھیل چکا ہے۔ ہر انسان کی زندگی کا موسم الگ ہے۔ کسی کے ہاں بہار پہلے آ جاتی ہے اور کسی کے ہاں خزاں کچھ زیادہ ٹھہر جاتی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ خزاں میں جینے والے کے نصیب میں بہار نہیں۔ بعض بہاریں دیر سے آتی ہیں، مگر جب آتی ہیں تو انسان کو اپنے تمام صبر کا مطلب سمجھا دیتی ہیں۔
زندگی میں ہمیں دوسروں کے چہروں سے زیادہ اپنے سفر پر توجہ دینی چاہیے۔ ہر وقت یہ دیکھتے رہنا کہ دوسرے کے پاس کیا ہے اور ہمارے پاس کیا نہیں، انسان کو اپنی نعمتوں سے بھی بےخبر کر دیتا ہے۔ شاید جس زندگی کو ہم کامل سمجھ رہے ہیں، اس میں بھی ایسے خلا موجود ہوں جن کا ہمیں علم نہیں۔ اس لیے دوسروں کی خوشیوں کو اپنی محرومی کا پیمانہ بنانے کے بجائے انہیں امید کی علامت سمجھنا چاہیے۔
کسی کی مسکراہٹ دیکھ کر یہ نہ سوچیں کہ اسے کبھی دکھ نہیں ملا۔ شاید وہ دکھ سے گزر کر مسکرانا سیکھا ہے۔ کسی کے سکون کو دیکھ کر یہ نہ سمجھیں کہ اس نے کبھی بےچینی نہیں دیکھی۔ شاید وہ بےچینی کے طویل سفر کے بعد سکون تک پہنچا ہے۔ اور اگر کوئی آج خوش ہے تو اس کی خوشی سے جلنے کے بجائے دل میں یہ دعا پیدا کریں کہ اللہ ہمیں بھی اپنے حصے کی آزمائشوں سے گزرنے کا حوصلہ دے اور آخرکار ایسی مسکراہٹ عطا کرے جس کے پیچھے پچھلے تمام آنسو بےمعنی محسوس ہونے لگیں۔
کیونکہ بعض مسکراہٹیں چہرے پر نہیں، انسان کی پوری زندگی پر لکھی ہوتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ یہ شخص ٹوٹا ضرور تھا، مگر بکھرا نہیں؛ رویا ضرور تھا، مگر ہارا نہیں؛ تھکا ضرور تھا، مگر رکا نہیں۔ اور شاید یہی زندگی کا سب سے خوبصورت سبق ہے کہ انسان کی اصل طاقت اس بات میں نہیں کہ اسے کبھی دکھ نہ ملے، بلکہ اس بات میں ہے کہ دکھ کے باوجود وہ اپنے اندر کی روشنی کو بجھنے نہ دے۔
غموں کی دھوپ میں جل کر بھی جو مسکراتے ہیں
وہ اپنے صبر سے تقدیر کو سجاتے ہیں
نہ پوچھ زینب ان سے سفر میں گزرے کتنے عذاب
جو ٹوٹ جاتے ہیں، وہی خود کو پھر بناتے ہیں
مزید پڑھیں





