اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا کی ہیں۔ کبھی کبھار انسان اپنی ہی کوتاہیوں کی وجہ سے ان نعمتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ ہر نعمت ہمارے لیے اہمیت کی حامل ہے خواہ وہ کھانا، لباس، گھر، صحت، تعلیم، رشتے، حلال کمائی، اولاد یا والدین ہوں مگر افسوس ہم اپنی انا کی خاطر بہت کچھ کھو دیتے ہیں۔ شب و روز شکوے کرتے ہیں لیکن کبھی اپنے رب کا شکر ادا نہیں کرتے۔ رزق کی قدردانی صرف زبان تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے ساتھ نیت بھی صاف ہونی چاہیے۔ اگر آج ہمارے دسترخوان پر قسم قسم کے پکوان سجے ہوئے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم انہیں ضائع کر دیں بلکہ ہمیں ان غریب لوگوں کے بارے میں سوچنا چاہیے جنہیں دو وقت کی روٹی بھی نصیب نہیں ہوتی۔ ہمارے معاشرے میں تقریبات پر بڑی مقدار میں کھانا ضائع ہوتا ہے بعض اوقات کھانے کو مناسب طریقے سے استعمال بھی نہیں کیا جاتا لہذا ہر فرد کو چاہیے کہ ضرورت کے مطابق کھانا کھائے۔ چیزوں کو ضائع کرنے کے بجائے کسی ضرورت مند کو کھانا کھلا دینا زیادہ بہتر ہے۔ اس طرح ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کی قدر بھی کر سکتے ہیں اور کسی بھوکے کی ضرورت بھی پوری کر سکتے ہیں۔معاشرے میں ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں لیکن کسی بھی فرد کو کم تر نہیں سمجھنا چاہیے۔ جب ایک مزدور دن بھر محنت کرتا ہے اور اپنی اجرت ملنے پر اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے تو وہ اپنی محنت کی کمائی کو اللہ تعالیٰ کی عطا سمجھتا ہے۔ایک ماں کے لیے اولاد کی مسکراہٹ بھی رزق ہے، ایک بیمار انسان کا صحت یاب ہو جانا بھی رزق ہے اور ایک مخلص انسان کا ساتھ بھی رزق کی ایک خوب صورت شکل ہے۔ اسی طرح سکون، محبت، اچھے رشتے بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتیں ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے پاس موجود نعمتوں کی قدر کریں، فضول خرچی سے بچیں اور دوسروں کی ضرورت کا خیال رکھیں۔ رزق کی قدر کرنے والا انسان نہ صرف اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے بلکہ معاشرے میں محبت، ہمدردی اور احساسِ ذمہ داری کو بھی فروغ دیتا ہے۔ ہم ہر وقت اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرتے رہتے ہیں۔ کسی کے پاس بڑا گھر ہے، کسی کے پاس مہنگی گاڑی ہے اور کسی کی زندگی ہمیں اپنی زندگی سے زیادہ آسودہ دکھائی دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان اپنے پاس موجود نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور یہی سے ناشکری کا آغاز ہوتا ہے۔ رزق کی قدردانی کا تعلق حلال کمائی سے ہے۔ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ہمیشہ جائز راستہ اختیار کریں۔ حلال کمائی میں برکت ہوتی ہے جب کہ ناجائز کمائی بظاہر دولت میں اضافہ کرتی ہے مگر انسان کو سکونِ قلب نصیب نہیں ہوتا۔ ہمارے والدین اپنی اولاد کے لیے یہی دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں حلال اور بابرکت رزق عطا فرمائے کیوں کہ ناجائز طریقے سے پیسے کمانے والا انسان خسارے میں رہتا ہے۔ رزق کی بے قدری صرف کھانا ضائع کرنے تک محدود نہیں۔ پانی کا بے دریغ استعمال، بجلی کا غیر ضروری استعمال اور نت نئی اشیا کو صرف دکھاوے کے لیے خریدنا بھی نعمتوں کی ناقدری ہے۔ ضرورت پوری ہونے کے بعد اگر خواہش بڑھتی جائے تو انسان لالچی بن جاتا ہے۔ بعض اوقات انسان رزق کی قدر اس وقت کرتا ہے جب حالات بدل جاتے ہیں۔ شکر گزار انسان کی ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر اللہ نے اسے دولت دی ہے تو وہ ضرورت مند کی مدد کرتا ہے اور اگر علم دیا ہے تو اسے دوسروں تک پہنچاتا ہے۔ ایک شخص کے پاس اگر دو وقت کا کھانا ہے اور وہ کسی بھوکے انسان کو ایک وقت کا کھانا کھلا دے تو یہ بھی نیکی ہے۔ ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ہے لہٰذا لوگوں کو حقیر سمجھنے کے بجائے ان کی مدد کریں۔ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ آج ہمارے پاس سب کچھ ہے تو کل ہمیں کسی بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے دوسروں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں اور ان کا خیال رکھیں۔ قناعت انسان کو محرومی کے احساس سے بچاتی ہے اور شکر کرنے سے انسان میں شعور پیدا ہوتا ہے۔ بہتر مستقبل کے لیے منصوبہ بندی بھی کرنی چاہیے اور اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جائز ذرائع اختیار کرنے چاہییں۔ زندگی میں سکون حاصل کرنے کے لیے اپنی سوچ کو بدلیں، دعا کریں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز رہیں۔
مزید پڑھیں






