Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

سجدے کے اس پار،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

almas fatimah

کمرے کے اندھیرے میں موبائل کی نیلی روشنی صائمہ کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جہاں رات کے تین بج رہے تھے۔ انگلی مسلسل اسکرین کو اوپر کی طرف دھکیل رہی تھی—ایک ریل، پھر دوسری، پھر تیسری۔ وقت ریت کی طرح پھسل رہا تھا اور صائمہ اس دلدل میں دھنستی جا رہی تھی۔ اچانک اس کی نظر اسکرین کے اوپری کونے پر پڑی۔ تین بج کر بیس منٹ!

اس کے سینے میں ایک تیز ہوک سی اٹھی۔ پچھتاوے کا ایک جانا پہچانا زہر اس کی رگوں میں دوڑنے لگا۔ "آج پھر عشاء قضا ہو گئی..." اس نے دل میں سوچا، اور ایک گہری مایوسی نے اسے گھیر لیا۔ یہ پہلی بار نہیں تھا۔ ہر روز وہ خود سے وعدہ کرتی، اور ہر روز یہ جادوئی ڈبہ اس کے ارادوں کو نگل جاتا۔ وہ موبائل جو اس کی انگلیوں سے چپکا ہوا تھا، اب اسے ایک بھاری ہتھکڑی کی طرح لگ رہا تھا۔

اس نے ایک گہرا سانس لیا، موبائل کو بستر پر پٹخا اور کمبل سر تک تان لیا۔ لیکن نیند کہاں تھی؟ روح کی بے چینی نیند کو کوسوں دور بھگا چکی تھی۔

اگلی صبح جب سورج کی پہلی کرن کمرے میں داخل ہوئی، تو صائمہ کی آنکھیں پچھلی رات کے رونے سے سوجھی ہوئی تھیں۔ اس نے بستر پر پڑے موبائل کی طرف دیکھا، جو خاموش تھا مگر اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ صائمہ نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ کو پیچھے کھینچا۔ آج اس کے اندر کچھ ٹوٹ چکا تھا، یا شاید کچھ نیا جڑ رہا تھا۔

"نہیں... اب اور نہیں،" اس نے خود کلامی کی۔ "آج کا دن موبائل کے نام نہیں، خدا کے نام ہوگا۔"

اس نے بستر چھوڑا۔ وضو کے ٹھنڈے پانی نے اس کے چہرے کو چھوا تو دل کی تپش کچھ کم ہوئی۔ مصلّے پر کھڑے ہو کر جب اس نے نیت باندھی، تو اسے لگا کہ وہ برسوں بعد کسی طوفان سے نکل کر ساحل پر پہنچی ہے۔ لیکن امتحان تو اب شروع ہونا تھا، کیونکہ مصلّے پر کھڑے ہو کر بھی اس کا ذہن بار بار کمرے کے اس کونے کی طرف جا رہا تھا جہاں موبائل رکھا تھا...

جب صائمہ نے سجدے میں سر رکھا، تو شروع میں ذہن میں کئی وسوسے آئے۔ موبائل کی نوٹیفکیشن ٹونز جیسے اس کے کانوں میں گونج رہی تھیں، لیکن اس نے اپنی پوری طاقت سے ان خیالات کو جھٹک دیا اور اپنی پیشانی کو فرش پر ٹکا دیا۔ اس نے اپنے آنسوؤں کو بہنے دیا—وہ آنسو جو پچھتاوے کے بھی تھے اور شکر کے بھی۔

جیسے ہی اس نے نماز مکمل کی اور سلام پھیرا، کمرے کی فضا بدلی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ مصلّے پر ہی بیٹھی رہی۔ اس نے گہرا سانس لیا تو یوں لگا جیسے سینے پر رکھا ہوا کئی ٹن کا بوجھ اچانک ہٹ گیا ہو۔ یہ وہ سکون تھا جو اسے سوشل میڈیا کی ہزاروں ویڈیوز دیکھ کر بھی کبھی حاصل نہیں ہوا تھا۔

اس نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اپنے چہرے پر پھیرے۔ ایک عجیب سی ٹھنڈک اس کے وجود میں اتر گئی۔ وہ موبائل جو اب بھی میز پر رکھا ہوا تھا، اب اسے کوئی جادوئی کھلونہ نہیں بلکہ ایک بے جان مادی چیز لگ رہا تھا۔

صائمہ کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو بہہ نکلے۔ اسے اب پختہ یقین ہو چکا تھا کہ روح کی پیاس دنیا کے جھوٹے رنگوں سے نہیں، بلکہ اپنے خالق کے حضور جھکنے سے بجھتی ہے۔ سجدے کے اس پار قدم رکھتے ہی اسے سمجھ آ گیا تھا کہ اصل چین اور دلوں کا سکون صرف اور صرف اللہ کے ذکر میں ہے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL