انسان جب دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اسے طرح طرح کے چہروں اور رویوں کا سامنا ہوتا ہے۔ اس دورِ جاہلیتِ جدید میں اکثر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ دنیا منافقوں کی جنت ہے۔ یہاں بظاہر وہی شخص کامیاب دکھائی دیتا ہے جس کے پاس ہر موقع، فرد اور مفاد کے لیے الگ چہرہ ہو۔ جو سچ اور جھوٹ، اصول اور بے اصولی کے درمیان بڑی باریک بینی سے کھیل سکتا ہو۔ لیکن اگر بالغ نظری سے دیکھا جائے تو کیا یہ ظاہر داری اور کامیابی انسان کو باطنی اطمینان دے پاتی ہے؟
ہماری موجودہ معاشرتی بناوٹ میں منافقت کو حکمتِ عملی یا سمجھداری کا نام دے دیا گیا ہے۔ جس شخص کو بات بدلنا، فائدے کے لیے تعلقات بنانا اور توڑنا اور زبان پر کچھ اور دل میں کچھ رکھنا آتا ہو، اسے اکثر دنیا دار اور کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ وہ شخص محفلوں میں داد سمیٹتا ہے، اپنے مفادات حاصل کرتا ہے اور بظاہر دنیا کی ہر آسائش اور مرتبے تک پہنچ جاتا ہے۔
لیکن اس ظاہری چمک دمک کے پیچھے تلخ حقیقت چھپی ہوتی ہے۔ دو چہرے رکھنے والا انسان ہر وقت ڈرامے کا حصہ بنا رہتا ہے۔ اسے ہر لمحہ یہ یاد رکھنا پڑتا ہے کہ کس کے سامنے کون سا چہرہ پہننا ہے، کس سے کیا جھوٹ بولا تھا، اور کس کے ساتھ کیا اداکاری کی تھی۔ یہ مسلسل کشمکش اور اپنے ہی بُنے ہوئے جال کا خوف انسان کی روح کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
منافق انسان چاہے کتنا ہی کامیاب کیوں نہ نظر آئے، وہ اندر سے ہمیشہ بے چین اور مضطرب رہتا ہے۔ منافق انسان کو ہر وقت یہ ڈر لاحق رہتا ہے کہ کہیں اس کا اصل چہرہ لوگوں کے سامنے نہ آ جائے۔ یہ خوف اسے کبھی سکون سے سونے نہیں دیتا۔
جو شخص خود کسی کے ساتھ مخلص نہیں ہوتا، وہ کبھی دوسرے انسان پر اعتبار نہیں کر سکتا۔ اسے ہر شخص اپنے جیسا ہی دوغلا اور چالاک نظر آتا ہے۔ نتیجے کے طور پر، وہ سچے تعلقات اور باہمی اعتماد کی لذت سے ہمیشہ محروم رہتا ہے۔
انسان کا فطری ضمیر اسے بار بار اس کی منافقت پر ٹوکتا ہے۔ اگرچہ وہ اسے دبانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن باطنی جنگ اس کا سکون چھین لیتی ہے۔
یوں دوہرے چہرے والا شخص دنیاوی مال و دولت اور نام و نمود حاصل کر کے بھی باطنی جہنم میں زندگی گزارتا ہے، جہاں نہ ذہنی امن ہے اور نہ ہی قلبی سکون میسر ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، مخلص اور سچا انسان بالکل مختلف راہ کا مسافر ہوتا ہے۔ مخلص شخص کے پاس صرف ایک ہی چہرہ ہوتا ہے۔ وہی جو اس کے اندر ہے، وہی باہر ہے۔ وہ جو سوچتا ہے وہی کہتا ہے، اور جو کہتا ہے وہی کرتا ہے۔
تاہم، اس منافقانہ دنیا میں اخلاص کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ سچا اور مخلص انسان تنہا رہ جاتا ہے۔ لوگ اس کی سیدھی باتوں کو تلخی اور اس کے سچ کو ناگواری سے دیکھتے ہیں۔ چونکہ وہ مفاد پرستی، چاپلوسی اور جھوٹی تعریفوں کا فن نہیں جانتا، اس لیے وہ ان محفلوں اور گروہوں سے خارج کر دیا جاتا ہے جہاں منافقت کا دور دورہ ہو۔
اگرچہ مخلص انسان تنہا ضرور ہوتا ہے، لیکن وہ ہمیشہ پرسکون رہتا ہے۔ اس کا سکون اس بات کا مرہونِ منت ہوتا ہے کہ اسے اپنے کسی چہرے کے بے نقاب ہونے کا ڈر نہیں ہوتا۔ اس کا ظاہری اور باطنی وجود ایک ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ شفاف اور بے خوف زندگی گزارتا ہے۔ اس کے فکر، عمل اور زبان میں کوئی تضاد نہیں ہوتا۔ یہی ہم آہنگی انسان کے اندر قلبی اور روحی اطمینان پیدا کرتی ہے۔
مخلص انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق کی نظریں بدلتی رہتی ہیں، مگر خالق کی نظر ہمیشہ سچائی اور نیت پر ہوتی ہے۔ یہی یقین اسے انسانوں کی محتاجی اور ان کے دیے ہوئے زغموں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔
تنہائی اس کے لیے سزا نہیں بلکہ نعمت بن جاتی ہے، وہ اپنے آپ سے اور اپنے خالق سے جڑتا ہے۔ اس کی تنہائی میں سکون ہوتا ہے، جو منافقوں کی بھیڑ بھاڑ اور شور شرابے سے ہزار درجے بہتر ہے۔
کامیابی کا معیار کیا ہے؟ کیا چند دن کی ظاہری چمک، جھوٹی تعریفیں اور نام نہاد سستے تعلقات کامیابی ہیں؟ یا وہ باطنی اطمینان، بے خوفی اور پرسکون ضمیر کامیابی ہے جو انسان کو ہنس کر جینا اور سکون سے سونا سکھاتی ہے؟
یہ دنیا عارضی ہے۔ یہاں کا منافقانہ ڈراما اور ظاہری کامیابی وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ لیکن انسان کا اخلاص، اس کی سچائی اور اس کا پاکیزہ باطن ہی وہ اثاثہ ہے جو اس دنیا میں بھی اسے پرسکون رکھتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی سرخروئی کا باعث بنے گا۔
چنانچہ، منافقوں کی اس جنت میں تنہا رہ جانا نقصان کا سودا نہیں ہے۔ مخلص انسان کی تنہائی اس کی عزت اور اس کے پرسکون وجود کی گواہی ہے جبکہ منافق کی بھیڑ اس کے باطنی عذاب اور بے چینی کا اعتراف ہے۔
مزید پڑھیں






