شہید کا خاندان، فخرکی علامت،تحریر:عائشہ گُل
نقطہ نظر
ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
ترجمہ :(" اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہر گز انہیں مردہ خیال نہ کرنا، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں ،روزی پاتے ہیں")
(سورۃ آل عمران، آیت نمبر 169)
انبیاء کرام، صحابہ کرام،صدیقین، اولیاء کاملین، کے بعد اگر کوئی افضل ترین طبقہ ہے، تو وہ شہیدوں کا طبقہ ہوتا ہے۔ جو رب کی رضا کی خاطر اپنی جان، اپنے فرض پر قربان کر دیتے ہیں اور دائمی نعمتوں سے ہمیشہ لطف اندوز رہتے ہیں اگر ہم تاریک اسلام میں نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ شہادت کا سلسلہ بڑی مدت سے چلا آرہا ہے۔ شہید کا خون زمین پر نہیں گرتا، بلکہ قوم کی رگوں میں غیرت بن کر دوڑتا ہے۔ ان کی قربانیاں وقت کی دھول میں نہیں چھپتیں، بلکہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن جاتی ہیں۔ وہ چلے جاتے ہیں مگر ان کا حوصلہ قوم کی سانسوں میں زندہ رہتا ہے۔ اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک واقعہ قارئین کی نظر کرتی ہوں۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے: کہ سید دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:
" تمہارے بھائی احد میں شہید ہوئے اللہ تعالی نے ان کی ارواح کو سبز پرندوں کے قالب عطا فرمائے۔ وہ جنتی نہروں پر سیر کرتے پھرتے ہیں، جنتی میوے کھاتے ہیں، طلائی قندیلیں جو زیر عرش معلق ہیں ان میں رہتے ہیں، جب انہوں نے کھانے پینے اور رہنے کے پاکیزہ عیش پائے، تو کہا کہ ہمارے بھائیوں کو کون خبر دے کے ہم جنت میں زندہ ہیں تاکہ وہ جنت سے بے رغبتی نہ کرے، اور جنگ سے بیٹھ نہ جائے، اللہ تعالی نے فرمایا میں انہیں تمہاری خبر پہنچاؤں گا" (خزائن العرفان)
شہادت کوئی سانحہ نہیں ہے، یہ ایک انتخاب ہے وہ انتخاب جو صرف بہادر دل ہی کر سکتے ہیں۔ جو قومیں اپنے شہداء کو یاد رکھتی ہیں، وہ کبھی تاریخ سے مٹتی نہیں۔شہادت دراصل موت نہیں، حیاتِ جاوداں کا دروازہ ہے۔ پاکستان کے شہدا کی بات کی جائے تو ان کی قربانیاں ان کی شہادتیں ہمارے لیے باعث فخر ہیں، ان مجاہدوں کی وجہ سے ہی ہم اپنے گھروں میں پرسکون زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی عظمت و بہادری کے واقعات سے تاریک کے سنہری باب روشن ہیں۔۔۔۔۔۔ گزشتہ سال میں ایک ایسا ہی واقعہ رونما ہوا۔ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب رات کی تاریکی میں ہمارے بزدل دشمن بھارت نے پاکستان پر بزدلانہ حملہ کیا، اپنے دفاع کے لیے پاکستانی فوج نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے جوابی کاروائی کی، دشمن کی طرف سے کیے گئے حملے میں بہت سے معصوم مسلمان شہید ہوئے جن میں معصوم بچے بھی شامل تھے، دشمن نے خاص طور پر مساجد کو نشانہ بنایا۔ پاک فوج نے اس تاریک رات کو چاند رات بنا دیا اور بھرپور عزم و ہمت کے ساتھ ڈٹے رہے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دیا پاک فوج نے دشمن کے غرور کو خاک آلودہ کر دیا، بھارت کے رافیل طیارے تباہ و برباد کر دیے۔سرحدوں پر اگر یہ جانباز سپاہی اپنی ذمہ داری نہ نبھائیں، اپنی نیند کو قربان کر کے پہرا نہ دیں، اپنے سکون کی فکر کیے بغیر 24 گھنٹے ہما وقت کھڑے نہ رہیں، تو ہم میں سے کوئی بھی سکون کی نیند نہیں سو سکتا! ان کا جذبہ شہادت ہمارے لئے باعث راحت بن جاتا ہے۔ شہادت صرف ایک فرد کی قربانی نہیں ہوتی، یہ ایک پورے گھر کی آزمائش اور پوری قوم کی امانت ہوتی ہے۔ جب کوئی شہید اپنے خون سے وطن کی مٹی کو سیراب کرتا ہے تو اس کے گھر والے اپنے صبر سے اس قربانی کو دوام بخشتے ہیں۔ تاریخ صرف میدانِ جنگ میں لڑنے والوں کو ہی نہیں، بلکہ ان دروازوں پر کھڑے ان صابر چہروں کو بھی یاد رکھتی ہے جو سبز پرچم کو آنکھوں سے لگا کر کہتے ہیں: ہم نے اپنا سب کچھ وطن پر نچھاور کر دیا۔ آج اگر ہم اپنے گھروں میں محفوظ ہیں، بے خوف ہیں، تو یہ پاک فوج کی بدولت ہے۔ ورنہ بزدل دشمن تو ہر لمحہ تاک میں بیٹھے ہیں۔ںپاک فوج کے ہر سپاہی کی میں تہہ دل سے مشکور ہوں کہ یہ لوگ لکھاریوں کو اپنی جواں مردی اور ہمت کے قصائص قلم بند کرنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔اب ذرا ان جانبازوں کو جزبہ شہادت، جزبہ حب وطن دینے والے عظیم لوگوں کا ذکر کرتے ہی۔ایک ماں جب اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کرتی ہے تو دراصل وہ اپنی ممتا کو عظمت کا تاج پہنا دیتی ہے۔ شہید کی ماں آنسو ضرور بہاتی ہے مگر اس کے لہجے میں کبھی شکوہ نہیں ہوتا، شہیدا کے خاندان ہمیشہ سے ہی صبر و فخر کی اعلی مثال قائم کرتے رہے ہیں۔ہمارے معاشرے میں بیٹوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، بیٹا گھر کا محافظ، بن کر اپنے گھر والوں کے لیے راحت کا سبب بنتا ہے اور اگر یہی بیٹا پاکستان پر اپنی جان قربان کرنے کا جذبہ رکھتا ہو تو ماؤں کے دل بھی زرخیز زمین کی طرح ہو جاتے ہیں، شہید کی بیوی صرف شریکِ حیات نہیں، بلکہ شریکِ مقصد بھی ہوتی ہے۔ ماں اپنی زندگی کی جمع پونجی کو راہ حق میں شہید ہونے کے لیے پیش کر دیتی ہے اور لمحہ بہ لمحہ اپنے جگر گوشہ کے لیے دعا گو رہتی ہے، کہ اللہ تعالی میرے بیٹے کی حفاظت فرما، ایک بہن اپنے بھائی کو جب یہ جذبہ دیتی ہے تو وہ خود بھی پہاڑ کی مانند مضبوط چٹان کی طرح سینہ تان کے بھائی کو رخصت کرتی ہے، بھلے بھائی کو رخصت کرنے کے بعد کمرے میں چھپ کر رونا ہی کیوں نہ پڑے، شہید کا خاندان صبر فخر کی اعلی مثال قائم کرتا ہے یہ سب لوگ ہر وقت اپنے لخت جگر کے لیے دعا گو رہتے ہیں لیکن دل ڈرتا ہے کہ کبھی کوئی بری خبر نہ آ جائے اگر لمحہ بھر کے لیے رابطہ منقطعہ ہو جائے، تو ان کے کلیجے منہ کو آنے لگتے ہیں اور یہ خوف ہر وقت طاری رہتا ہے کہ کبھی سبز جھنڈے میں لپٹی میت ہمارے دروازے پر آن نا پہنچے، پھر جب کبھی شہید کو جوش و جذبہ دینے والے یہ سب گھر والے اس سبز جھنڈے میں لپٹی میت کو اپنے سامنے پاتے ہیں، تو سجدہ شکر بجا لاتے ہیں کہ رب نے ہماری قربانی کو قبول فرما لیا اور لمحہ بہ لمحہ صبر کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رکھتے ہیں، شہید مرنے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے، لیکن شہید کے سفر میں ہما وقت ساتھ رہنے والے یہ عظیم لوگ بھی کبھی مرتے نہیں، وہ ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں تاریخ کی کتب میں زندہ رہتے ہیں سلام ہیں ان تمام شہداء کے خاندان پر، سلام ایک عظیم ماں پر سلام ایک عظیم بہن پر، سلام ایک عظیم بیوی پر، جو شہید کو شہادت کے لیے تیار کر کے خود معاشرے کے لیے صبر و فخر کی علامت بن جاتی ہیں۔ سلام ہے ان گھروں پر جہاں سے جنازے نہیں، بلکہ فخر کے پرچم اٹھتے ہیں۔ یہ وہ خاندان ہیں جو ٹوٹتے نہیں، بلکہ قوم کو جوڑنے کا سبب بنتے ہیں۔ جب تک ایسے گھر آباد ہیں، پاکستان ہمیشہ سلامت رہے گا۔
(ان شاءاللہ عزوجل)
مزید پڑھیں




