وہ روزانہ ایک مقررہ وقت میں اس گلی سے گزرتا تھا۔
نہ کبھی جلدی نہ تاخیر۔
وہ ایک ہی انداز اور ایک ہی رفتار سے چلتا تھا جیسے اس راستے پر چلنا اس کی روزمرہ کی عادت بن چکا ہو۔ اور آنکھوں میں بے نیازی۔
گلی کے آخر میں ایک پرانا سا دروازہ تھا جس پر برسوں سے زنگ آلود تالا لٹک رہا تھا۔ دیواروں پر نمی کے داغ تھے اور دروازے کے اوپر ایک مٹا ہوا سا کتبہ جس پر لکھی تحریریں وقت کے ساتھ دھندلا چکی تھیں جیسے لفظ خود کو چھپا رہے ہوں۔وہ اکثر دل ہی دل میں کہتا:
“کچھ دروازے بس بند رہنے کے لیے ہوتے ہیں۔”
مگر آج کچھ مختلف تھا۔دروازہ کھلا ہوا تھا۔وہ ٹھٹھک گیا۔ قدم خود بخود رک گئے۔دل نےسرگوشی کی “آگے مت جاؤ… یہ جگہ تمہاری نہیں۔”
حیرت نے جواب دیا:
“بس ایک قدم اور… کیا بگڑ جائے گا؟”
اس نے اردگرد دیکھا۔کوئی تو وجہ ہوگی اس کے کھلنے کی…
یا شاید کوئی وجہ نہیں ۔
وہ اندر داخل ہو گیا۔نہ کوئی کمرہ تھا نہ چھت نہ دیواریں۔بس ایک وسیع خاموشی ایسی خاموشی جو بولتی تھی۔وہ گھبرا کر بولا:
یہ کیسی جگہ ہے؟
یہاں کچھ بھی کیوں نہیں؟
اس نے آواز بلند کی مگر جواب نہ آیا۔
اچانک اس کے سامنے ایک بوڑھا نمودار ہوا۔
چہرہ پرسکون آنکھوں میں عجیب سی روشنی۔
جیسے اس نے بہت کچھ دیکھ رکھا ہو۔بوڑھے نے نرمی سے پوچھا:
“کیا تم جانتے ہو یہ جگہ کیا ہے؟”
وہ جھجکا: نہیں… اور سچ کہوں تو جاننا بھی نہیں چاہتا۔
بوڑھا مسکرا دیا۔
“جو یہاں آتا ہے وہ یہی کہتا ہے۔”
وہ بے اختیار بول پڑا:
میں یہاں کیوں آیا ہوں؟
میں نے تو بس دروازہ کھلا دیکھا تھا۔
بوڑھا قریب آیا اور آہستہ سے کہا:
دروازہ سب دیکھتے ہیں مگر کھلا ہوا صرف وہی دیکھ پاتے ہیں جو اندر سے زندہ ہوں۔
وہ چونک گیا “
میں تو زندہ ہوں… سانس تو لے رہا ہوں۔
بوڑھے نے نرمی سے جواب دیا: سانس لینا اور زندگی کو محسوس کرنا، دو الگ باتیں ہیں۔کچھ دیر خاموشی رہی۔
پھر بوڑھے نے کہا: یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ اپنی کھوئی ہوئی حیرت دفن کر دیتے ہیں تاکہ سوال نہ رہیں اور زندگی آسان لگے۔
اس نے آہستہ سے پوچھا:
“اور اگر کوئی حیرت دفن نہ کرنا چاہے؟”
بوڑھے کی آنکھوں کی روشنی اور بڑھ گئی: تو وہ اس دروازے کو دیکھ ہی نہیں پاتا۔تم نے آج یہ دروازہ دیکھ لیا ہے…
اس کا مطلب ہے کہ تم نے ابھی حیران ہونا نہیں چھوڑا۔
وہ کچھ کہنا چاہتا تھا
مگر الفاظ ساتھ نہ دے سکے۔
اگلے ہی لمحے سب کچھ غائب ہو گیا۔وہ خود کو دوبارہ اسی گلی میں کھڑا پاتا ہے۔دروازہ بند تھا
اور تالا پہلے سے زیادہ زنگ آلود۔
وہ دیر تک وہیں کھڑا رہا۔پھر آہستہ سے خود سے کہا:
شاید مسئلہ زندگی میں نہیں تھا… مسئلہ مجھ میں تھا۔اسی لمحے اس نے اردگرد دیکھا۔
ہوا کی ہلکی ٹھنڈک
کسی دور بچے کی ہنسی
شام کی مدھم روشنی
یہ سب پہلے بھی تھا
مگر اس نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
اور پہلی بار اسے احساس ہوا
وہ زندگی میں چل تو رہا تھا
مگر دیکھ اور محسوس نہیں کر پا رہا تھا۔
ثوبیہ راجپوت
مزید پڑھیں






