کہتے ہیں کہ مینڈک کو سونے پر بٹھا دیجیے، اس کے لیے مخملی گدّے بچھا دیجیے، اس کے گرد محافظ کھڑے کر دیجیے اور اسے شاہی ضیافتیں پیش کیجیے، لیکن جب اسے چھلانگ لگانے کا موقع ملے گا تو ممکن ہے وہ پھر کسی گندے نالے ہی کا رُخ کرے۔ بظاہر یہ ایک مضحکہ خیز جملہ ہے، مگر اس کے اندر انسانی فطرت، کردار اور تربیت کے بارے میں ایک تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انسان مینڈک نہیں ہوتا، اس لیے اس کے کردار کو سمجھنے کے لیے تھوڑی سی احتیاط اور گہری نظر درکار ہوتی ہے۔
زندگی میں ہم ایسے بہت سے لوگوں سے ملتے ہیں جنہیں حالات نے عام مقام سے اٹھا کر خاص مقام عطا کیا۔ کسی کو دولت ملی، کسی کو اقتدار، کسی کو شہرت اور کسی کو ایسے لوگوں کی رفاقت نصیب ہوئی جن تک رسائی کبھی اس کے لیے ایک خواب ہوا کرتی تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ معلوم ہوا کہ ان کے لباس تو بدل گئے، گفتگو کا انداز بدل گیا، رہائش گاہیں بدل گئیں، مگر دوسروں کو حقیر سمجھنے کی عادت، خود غرضی اور مفاد پرستی اپنی جگہ قائم رہی۔
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ”مقام حاصل کرنا اور مقام کے قابل ہونا دو الگ باتیں ہیں۔“ عہدہ کسی کو افسر بنا سکتا ہے، مگر صاحبِ کردار نہیں ………… دولت کسی کو امیر بنا سکتی ہے، مگر وسیع القلب نہیں …………شہرت کسی کے نام کو دور دور تک پہنچا سکتی ہے، مگر اس کے اندر انسان دوستی پیدا نہیں کر سکتی۔ یہ اوصاف کسی بازار میں فروخت نہیں ہوتے؛ انہیں برسوں کی تربیت، خود احتسابی اور اخلاقی شعور سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔
ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔ ایک معمولی ملازم برسوں کسی دفتر میں دیانت داری سے کام کرتا ہے۔ اسے ترقی ملتی ہے، اختیار ملتا ہے اور وہ دوسروں کے کام آنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اگر وہ اپنے ماضی کو یاد رکھتے ہوئے اپنے ماتحتوں کے ساتھ عزت سے پیش آئے تو اس کی ترقی اس کے کردار کی خوب صورتی بن جاتی ہے۔ لیکن اگر وہی شخص کل تک جن لوگوں کے سامنے مؤدب کھڑا ہوتا تھا، آج انہیں پہچاننے سے انکار کر دے، تو سوال اس کی ترقی پر نہیں، اس کی تربیت پر اٹھتا ہے۔ اس نے عہدہ تو حاصل کر لیا، مگر عہدے کے ساتھ آنے والی ذمہ داری کو نہیں سمجھا۔
سیاست اور تاریخ میں بھی اس موضوع کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ نیلسن منڈیلا نے طویل قید کے بعد جنوبی افریقہ کی قیادت سنبھالی تو انتقام کو اپنی سیاست کا بنیادی اصول بنانے کے بجائے مفاہمت اور قومی یکجہتی کو اہمیت دی۔ ان کی مثال بتاتی ہے کہ بلند مقام انسان کو لازماً متکبر نہیں بناتا؛ اگر اس کے اندر اخلاقی پختگی ہو تو اقتدار اس کی شخصیت کو مزید بامعنی بنا سکتا ہے۔ اس کے برعکس تاریخ میں ایسے حکمران بھی گزرے ہیں جنہوں نے اختیار کو عوام کی خدمت کے بجائے ظلم، جبر اور اپنی برتری کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ ہٹلر کا دور اس حقیقت کی ایک ہول ناک مثال ہے کہ جب اقتدار کے ساتھ تعصب اور غیر انسانی سوچ مل جائیں تو ان کے نتائج پوری قوموں کو تباہ کر سکتے ہیں۔
تاہم ہر انسان کو ایک ہی پیمانے سے ناپنا بھی دانش مندی نہیں۔ بعض لوگ اپنی پرانی دُنیا کی طرف اس لیے لوٹتے ہیں کہ وہاں انہیں اپنائیت، سکون اور تعلق کا احساس ملتا ہے۔ کسی غریب بستی میں واپس جانا، اپنے پرانے دوستوں سے ملنا یا سادہ زندگی اختیار کرنا کردار کی پستی نہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ کوئی کہاں جاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ وہاں کس نیت سے جاتا ہے اور دوسروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ نالے کا استعارہ اسی وقت بامعنی ہے جب اس سے مراد گندگی، بدکرداری اور نقصان دہ رویّے ہوں، نہ کہ کسی انسان کی سماجی یا معاشی حیثیت۔
ہماری معاشرت میں احسان فراموشی بھی ایک نمایاں مسئلہ ہے۔ بعض اوقات کوئی شخص مشکل وقت میں کسی کے تعاون سے آگے بڑھتا ہے، مگر کامیابی ملتے ہی اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ زندگی کی سیڑھی ہمیشہ تنہا نہیں چڑھی جاتی؛ کسی نے ہاتھ تھاما ہوتا ہے، کسی نے راستہ دکھایا ہوتا ہے اور کسی نے اس وقت حوصلہ دیا ہوتا ہے جب دُنیا نے اس کی صلاحیتوں پر شک کیا تھا۔ اپنے محسن کو یاد رکھنا کمزوری نہیں، کردار کی مضبوطی ہے۔
البتہ دوسروں کے رویّوں پر انگلی اٹھانے سے پہلے ہمیں اپنے اندر بھی جھانکنا چاہیے۔ کیا ہم اختیار ملنے پر اپنے سے کمزور انسان کی عزت کرتے ہیں؟ کیا کامیابی کے بعد ان لوگوں کے لیے ہمارے دل میں جگہ باقی رہتی ہے جو ہمارے مشکل دنوں کے ساتھی تھے؟ کیا ہم اپنی غلطی تسلیم کر سکتے ہیں؟ اگر ان سوالوں کے جواب نفی میں ہیں تو ممکن ہے سونے کا تخت ہمارے پاس بھی ہو اور ہماری شخصیت میں وہی پرانی خامیاں موجود ہوں جن پر ہم دوسروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
زندگی کا اصل حسن بلند ہونا نہیں، بلند ہو کر انسان رہنا ہے۔ درخت جب پھل سے لد جاتا ہے تو اس کی شاخ جھک جاتی ہے؛ اس کے برعکس کھوکھلی شاخیں اکثر تن کر کھڑی رہتی ہیں۔ انسان کی عظمت بھی اس کی نمود و نمائش میں نہیں، اس کے ظرف، عاجزی اور دوسروں کے لیے احترام میں پوشیدہ ہے۔
چنانچہ مینڈک اور سونے کی یہ کہاوت ہمیں دوسروں کا مذاق اڑانے سے زیادہ اپنے کردار کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ سونا اپنی جگہ قیمتی ہے، مگر اس پر بیٹھنے والا ہر شخص قیمتی نہیں ہو جاتا۔ اصل قدر اس انسان کی ہے جو بلند مقام پر پہنچ کر بھی اپنے اندر کی انسانیت کو محفوظ رکھے۔”یاد رکھیے،………… دنیا آپ کو سونے کے تخت پر بٹھا سکتی ہے، لیکن آپ کی شخصیت کی اصل قیمت آپ کے کردار سے طے ہوتی ہے۔“
مزید پڑھیں






