کسی قوم کی مشترکہ خصوصیات اس کی قومی شناخت اور اتحاد کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ خصوصیات لوگوں میں مشترکہ تعلق اور اپنائیت کا احساس پیدا کرتی ہیں اور انہیں یہ پہچاننے میں مدد دیتی ہیں کہ وہ ایک ہی قوم کا حصہ ہیں۔مشترکہ اقدار لوگوں کے درمیان اتحاد پیدا کرتی ہیں۔مشترکہ روایات اور ثقافت قوم کے ورثے کو محفوظ رکھتی ہیں۔زبان اور تاریخ لوگوں کو اپنے ماضی اور ایک دوسرے سے جوڑتی ہیں۔قومی نظریات اور عقائد قوم کو مشترکہ سمت اور مقصد فراہم کرتے ہیں۔اتحاد اور تعاون لوگوں کو اپنے ملک کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے میں مدد دیتے ہیں۔لہٰذا، مشترکہ قومی خصوصیات کسی قوم کو اپنی شناخت برقرار رکھنے، اتحاد مضبوط کرنے، ثقافت محفوظ رکھنے اور مشترکہ قومی مقاصد حاصل کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
دنیا میں بہت سی اقوام ہیں جن کو معاشرتی اور معاشی طور پر ایک سنجیدہ اور سلجھی ہوئی قوم کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ میری نظر میں جاپان ایک ایسا ملک اور جاپانی قوم ایک سلجھی ہوئی قوم ہے۔جاپانی قوم جنگِ عظیم دوئم میں ایک عظیم جانی اور مالی نقصان کے سے گذری۔ لیکن اپنی جدوجہد، محنت اور لگن سے آج یہ قوم ترقی یافتہ قوموں کی صفِ اوّل میں شمار ہوتی ہے۔ اس قوم میں نظم و ضبط اور وقت کی پابندی،ایک دوسرے کے لئے احترام اور شائستگی،محنت اور لگن،اجتماعی ہم آہنگی،روایات سے مضبوط وابستگی، جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنی روایات، جیسے تہوار، چائے کی تقریب، مارشل آرٹس اور ثقافتی ورثے کا احترام نے جاپانی قوم کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا۔ یہی عمومی ثقافتی خصوصیات ہیں، جس کی وجہ سے جاپان بحیثیت ِ ایک سنجیدہ ملک کے اپنی جداگانہ پہچان رکھتاہے۔
اگر پاکستانی قوم کی عام خصوصیات کا مطالعہ کریں جو کہ ایک عمومی پہچان ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں بحیثیت قوم پاکستانی مہمان نواز،مضبوط خاندانی اقدارکے حامل، مذہبی اور ثقافتی روایات کے امین، حوصلہ مند اور ثابت قدم اور اجتماعی جذبہ کی حامل قوم ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے،”اگر ہم میں اتنی مثبت خصوصیات موجود ہیں تو پھر ہمارا معاشرہ سیاسی انتشار، بداعتمادی، کرپشن، ناانصافی، خود غرضی، عدم برداشت اور معاشی مشکلات کا شکار کیوں ہے؟یہ سوال کسی ایک فرد، جماعت، ادارے یا حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے ہمیں اپنے اجتماعی رویوں کا جائزہ لینے پر مجبور کرتا ہے۔
اصل مسئلہ شاید یہ ہے کہ ہماری بہت سی اچھی خصوصیات ہماری نجی زندگی تک محدود رہ گئی ہیں، جبکہ قومی زندگی میں ان کا عملی اظہار کمزور پڑ گیا ہے۔ ہم اپنے گھر والوں کے لیے قربانی دیتے ہیں، مگر قومی مفاد کے لیے قربانی دینے کا جذبہ کم دکھائی دیتا ہے۔ ہم اپنے مہمان کی عزت کرتے ہیں، مگر کبھی اپنے سے مختلف رائے رکھنے والے شہری کی عزت نہیں کر پاتے۔ ہم اپنے بچوں کو کامیابی کی تعلیم دیتے ہیں، مگر ہمیشہ یہ نہیں سکھاتے کہ کامیابی کے ساتھ دیانت داری اور اجتماعی ذمہ داری بھی ضروری ہے۔
معاشرے میں خود غرضی اس وقت خطرناک بن جاتی ہے جب فرد اپنے ذاتی فائدے کو اجتماعی مفاد پر ترجیح دینے لگتا ہے۔ اگر ایک شخص قانون صرف اس وقت مانے جب اسے فائدہ ہو، ٹیکس صرف اس وقت دے جب مجبور ہو، سرکاری وسائل کو ذاتی ملکیت سمجھنے لگے یا سفارش کو حق پر ترجیح دے، تو یہ رویہ آہستہ آہستہ پورے نظام کو کمزور کرتا ہے۔ہم اکثر کرپشن کو صرف بڑے مالی اسکینڈلز سے جوڑتے ہیں، حالانکہ اس کی چھوٹی شکلیں بھی ہمارے روزمرہ رویوں میں موجود ہو سکتی ہیں: سفارش، رشوت، ملاوٹ، جعلی دستاویزات، کام چوری، سرکاری وقت کا غلط استعمال، قطار توڑنا اور اپنے مفاد کے لیے دوسروں کا حق مارنا۔ جب ایسے رویے معمول بن جائیں تو معاشرے میں قانون اور انصاف پر اعتماد کم ہونے لگتا ہے۔
کرپشن کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ صرف خزانے کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ کردار اور اعتماد کو بھی کھوکھلا کرتی ہے۔جب کسی معاشرے میں یہ سوچ پیدا ہو جائے کہ ''کام اصول سے نہیں، تعلق یا پیسے سے ہوگا''، تو محنت، قابلیت اور دیانت داری کی قدر کم ہونے لگتی ہے۔اس کے نتیجے میں نوجوانوں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ کامیابی کے لیے قابلیت سے زیادہ تعلقات ضروری ہیں۔ یہ سوچ کسی بھی قوم کے مستقبل کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
ایک مضبوط قوم وہ نہیں ہوتی جس کے شہری صرف اچھے لوگ ہوں؛ مضبوط قوم وہ ہوتی ہے جہاں اچھے اصول اور مضبوط ادارے بھی موجود ہوں۔ اگر قانون کمزور ہو، اس کا نفاذ غیر مساوی محسوس ہو، احتساب شفاف نہ ہو اور عام شہری کو انصاف کے حصول میں مشکلات پیش آئیں تو معاشرے میں مایوسی پیدا ہونا فطری ہے۔قانون کی عزت صرف تقریروں سے نہیں بلکہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عام شہری دیکھے کہ قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتا ہے۔پاکستانی معاشرے کا ایک اور بڑا مسئلہ عدم برداشت ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوری معاشرے کا لازمی حصہ ہے، لیکن جب اختلاف دشمنی بن جائے تو معاشرتی رشتے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ مختلف سیاسی رائے رکھنے والا شخص لازماً ہمارا دشمن نہیں ہوتا۔اختلافِ رائے کو برداشت کرنا، دلیل سے جواب دینا اور مخالف کے بنیادی حقوق کا احترام کرنا ایک صحت مند معاشرے کی علامت ہے۔اگر ہم اپنے سیاسی، مذہبی، لسانی یا علاقائی اختلافات کو دشمنی میں تبدیل کرتے رہیں گے تو قومی یکجہتی کمزور ہوتی رہے گی۔
ہمارے تعلیمی نظام کا مقصد صرف امتحان پاس کرنا اور ملازمت حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ تعلیم انسان میں تنقیدی سوچ، برداشت، دیانت داری، قانون پسندی اور شہری ذمہ داری پیدا کرے تو وہ معاشرے کی تعمیر میں حقیقی کردار ادا کرتی ہے۔ایک ایسا تعلیم یافتہ شخص جو رشوت دیتا ہے، ٹیکس چوری کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے یا دوسروں کے حقوق پامال کرتا ہے، محض ڈگری کی وجہ سے معاشرے کے لیے مفید شہری نہیں بن جاتا۔
کسی ملک کی شناخت صرف اس کے جغرافیہ، عمارتوں یا سرکاری اداروں سے نہیں بنتی؛ اس کے شہریوں کے رویے بھی اس شناخت کا حصہ ہوتے ہیں۔ جب بدعنوانی، قانون شکنی، عدم برداشت، سیاسی کشمکش اور معاشی عدم استحکام بار بار سامنے آتے ہیں تو ملک کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہونا بعید نہیں۔لیکن ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کی شناخت صرف اس کے مسائل کا نام نہیں۔ ہماری ثقافتی گوناگونی، مہمان نوازی، انسانی ہمدردی، نوجوان آبادی، علمی صلاحیت اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے کی روایت بھی ہماری شناخت کا حصہ ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی مثبت خصوصیات کو صرف فخر کے الفاظ تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں ”قومی کردار“ میں تبدیل کریں۔
تبدیلی کہاں سے شروع ہوگی؟تبدیلی ہمیشہ حکومت سے شروع نہیں ہوتی۔ حکومت، ادارے اور سیاسی قیادت اہم ہیں، لیکن معاشرہ بھی اس عمل کا برابر کا شریک ہے۔ہمیں اپنے آپ سے چند سوال پوچھنے ہوں گے:کیا ہم قانون اس وقت بھی مانتے ہیں جب کوئی ہمیں دیکھ نہیں رہا ہوتا؟کیا ہم اپنے بچے کو صرف کامیاب ہونے کی تعلیم دیتے ہیں یا ایماندار ہونے کی بھی؟کیا ہم سفارش کو غلط سمجھتے ہیں جب تک اس سے ہمارا اپنا کام نہ ہو؟کیا ہم مخالف سیاسی رائے رکھنے والے شخص کے حق کا احترام کرتے ہیں؟کیا ہم سرکاری اور قومی وسائل کو واقعی اپنا سمجھتے ہیں؟اور سب سے بڑھ کر: ”کیا ہم اپنے ملک سے وہی توقع رکھتے ہیں جو ہم خود اپنے کردار سے اسے دینے کے لیے تیار ہیں؟“
پاکستان کی تعمیر صرف نئی سڑکوں، عمارتوں اور منصوبوں سے نہیں ہوگی۔ اصل تعمیر اس وقت ہوگی جب ”کردار، قانون، انصاف، دیانت داری اور اجتماعی ذمہ داری“ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بنیں گے۔ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم صرف یہ کہتے رہیں گے کہ ''ہم ایک اچھی قوم ہیں ''، یا اپنی اچھی خصوصیات کو اپنے اجتماعی کردار میں بھی ثابت کریں گے۔قومیں صرف نعروں سے عظیم نہیں بنتیں؛ ”قومیں اس وقت عظیم بنتی ہیں جب ان کے شہری اپنے ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر قانون، انصاف اور قومی مفاد کو اہمیت دینا شروع کرتے ہیں۔
شاید پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صلاحیتوں کی کمی نہیں، بلکہ”اپنی صلاحیتوں، اقدار اور جذبے کو ایک منظم، دیانت دار اور ذمہ دار اجتماعی قوت میں تبدیل کرنے میں ناکامی ہے۔“
اور شاید پاکستان کا سب سے بڑا حل بھی یہی ہے: تبدیلی کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے کردار سے تبدیلی کا آغاز کرنا۔
مزید پڑھیں






