طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان،تحریر: سماویہ اعظم
نقطہ نظر
طلاق دے تو رہے ہو عتاب و قہر کے ساتھ
میرا شباب بھی لوٹا دو میرے مہر کے ساتھ
(ساجد سجنی لکھنوی)
باجی بلقیس! ابھی شبانہ کی شادی کو ایک مہینا ہوا تھا کہ طلاق کا دھبہ عمر بھر کے لیے لگ گیا۔
یہ الفاظ سنتے ہی میرے ذہن میں ایک سوال آیا کہ آخر وہ کون سی وجہ تھی جس نے ایک عورت کا گھر اجاڑ دیا؟ جس لڑکی کے ہاتھوں پر مہندی لگی تھی جس کے والدین نے اسے دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا تھا جس کے لیے نئے گھر کے خواب دیکھے گئے تھے وہ ایک ماہ بعد اپنے والدین کے گھر کیوں آ گئی؟ کیا رشتے واقعی اتنے کمزور ہو چکے ہیں؟ لوگ دوسروں کے گھر اجاڑ کر کیسے خوش رہ سکتے ہیں؟ طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات پر دل دہل جاتا ہے۔ کہیں ظلم و تشدد، کہیں بے وفائی، کہیں معاشی مشکلات، کہیں مزاج کا شدید اختلاف اور کہیں خاندانوں کی غیر ضروری مداخلت نظر آتی ہے۔ ان معاملات کو سمجھ داری سے حل کیا جا سکتا ہے لیکن یہاں کوئی بھی ہار نہیں مانتا بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کیا جاتا ہے۔ شادی کی تیاری مہینوں پہلے شروع ہو جاتی ہے۔ لباس، زیورات، ہال، کھانے اور مہمانوں کی فکر کی جاتی ہے کہ کہیں وہ ناراض نہ ہو جائیں لیکن جس زندگی کا آغاز ہونا ہے اس کی تیاری پر توجہ نہیں دی جاتی۔ ہمارے معاشرے میں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ شادی زندگی کا خوب صورت حصہ ہے مگر یہ نہیں بتایا جاتا کہ اس رشتے میں مالی دباؤ کا بھی شکار ہو سکتے ہیں، زندگی کٹھن بھی ہو سکتی ہے، آزمائشوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے لیکن حالات جیسے بھی ہوں ایک دوسرے کا ساتھ دینا اہم ہے۔ طلاق کسی بھی مسئلے کا حل نہیں اس میں اولاد زیادہ اذیت جھیلتی ہے کیوں کہ والدین کا کردار ہی انہیں مضبوط یا کمزور بناتا ہے۔ بدقسمتی سے آج کل معمولی اختلاف بھی انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ شوہر سمجھتا ہے کہ اگر اس نے بیوی کی بات مان لی تو اس کی عزت نہیں رہے گی اور بیوی اپنا سامان باندھ کر میکے چلی جاتی ہے۔ دونوں میں سے کوئی بھی معافی نہیں مانگتا۔ چھوٹی چھوٹی باتیں علیحدگی کا باعث بنتی ہیں۔ سوشل میڈیا نے بھی ہماری سوچ کو بدل دیا ہے۔ ہم لوگوں کی زندگی کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں اور ان چیزوں کو دیکھ کر اپنی زندگی کو بے کار سمجھتے ہیں۔ کسی کے سفر کی تصاویر، کسی کے کھانے، کسی کی سال گرہ یا شادی کی تقریب اور کسی کے شوہر یا بیوی کی محبت بھری پوسٹ دیکھ کر ہمیں اپنی زندگی ادھوری لگتی ہے۔ ہمیں یہ دکھائی نہیں دیتا کہ ہر گھر کے اندر ایک ایسی حقیقت چھپی ہوتی ہے جو کیمرے کے سامنے نہیں آتی۔ خوش گوار ازدواجی زندگی کی بنیاد تصویروں پر نہیں بلکہ اعتماد اور احترام پر ہوتی ہے۔ طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان میں خاندان کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ والدین اپنی اولاد کے خیر خواہ ہوتے ہیں لیکن خیر خواہی اور غیر ضروری مداخلت میں فرق ہے۔ میاں بیوی کے ہر اختلاف میں والدین کا فریق بن جانا مسئلے کو سلجھانے کے بجائے مزید الجھا دیتا ہے۔ جب شکایات دونوں خاندانوں تک پہنچتی ہیں تو معاملہ مزید بگڑ جاتا ہے۔ انا، غیرت، خاندان کی عزت اور پرانی رنجشیں بھی اس میں شامل ہو جاتی ہیں بعض اوقات والدین بیٹی کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ کسی کے سامنے نہ جھکنا ہر ایک کو کھری کھری سنانا جب کہ بیٹے کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ بیوی کو سر پر مت چڑھانا اس سے کسی قسم کا مشورہ نہ لینا یہ جملے احمق لوگ کرتے ہیں جس کی وجہ سے سارا خاندان اجڑ جاتا ہے اور لوگ تماشا دیکھتے رہتے ہیں۔ ازدواجی زندگی میں رشتے کو بچانا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ گھر بسانے کے نام پر ظلم کو برداشت کرنے کی تلقین درست نہیں۔ اگر کسی عورت کو جسمانی تشدد، مسلسل ذہنی اذیت یا کسی سنگین زیادتی کا سامنا ہو تو اسے صرف معاشرے کے خوف سے رشتہ نبھانے پر مجبور کرنا ناانصافی ہے۔ نکاح ایک خوب صورت رشتہ ہے اسے کسی انسان کی مستقل اذیت کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
حضرت محمدﷺ نے اپنے آخری خطبے میں فرمایا تھا کہ عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو۔ گھر میں موجود عورت بھی ایک انسان ہے اس کے حقوق ہیں۔اس کی عزت ہے اور اس کے ساتھ کیے جانے والے ہر برتاؤ کا حساب ہو گا مگر افسوس کہ ہم نے اس وصیت کو کتابوں کے صفحات تک محدود کر دیا ہے۔
ہم محفلوں میں نبی پاکﷺ کی سیرت کے متعلق بتاتے ہیں ان کی کہی ہوئی باتوں پر عمل نہیں کرتے۔ ہمارے معاشرے میں مرد عورتوں کو کٹھ پتلیوں کی طرح سمجھتے ہیں۔ کیا یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ نہیں؟ ایک عورت جب بیٹی ہوتی ہے تو گھر کی رونق کہلاتی ہے، بہن ہوتی ہے تو عزت سمجھی جاتی ہے، بیوی بنتی ہے تو زندگی کی بہترین ساتھی کہلاتی ہے اور ماں بنتی ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے پھر یہی عورت سسرال میں بے وقعت کیوں ہو جاتی ہے کہ اس کے آنسو بھی کسی کو دکھائی نہیں دیتے؟ اور ہر عورت صرف عورت ہونے کے ناتے نہیں بلکہ ایک انسان ہونے کے ناتے عزت کی مستحق ہے۔ رشتوں میں توازن برقرار رہنا چاہیے۔ نہ ہر اختلاف پر طلاق کا راستہ اختیار کیا جائے اور نہ ہر ظلم کو صبر کا نام دے کر چھپانا چاہیے۔ گھر اعتماد اور مضبوط کردار سے قائم رہتا ہے۔ ایک دوسرے کی عزت کرنا، زبان پر قابو رکھنا، مالی معاملات میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا، ایک دوسرے کے خاندان کا احترام کرنا اور نجی معاملات کو اپنے تک محدود رکھنا کسی بھی رشتے کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ اگر رشتہ ناکام ہو جائے تو عورت کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔ اس سے سوال کیے جاتے ہیں جیسے اس نے کوئی جرم کیا ہو۔ اس کے کردار پر انگلی اٹھانا ہر معاملے میں اسے قصوروار سمجھنا ایک تلخ حقیقت ہے۔ بچوں کی موجودگی میں یہ مسئلہ اور بھی حساس ہو جاتا ہے۔ والدین کے اختلاف کا سب سے زیادہ بوجھ بچے اٹھاتے ہیں۔ انہیں ماں یا باپ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنا، والدین کے خلاف ان کے ذہن میں نفرت پیدا کرنا یا انہیں میاں بیوی کے تنازع کا حصہ بنانا ان کی شخصیت پر گہرے اثرات چھوڑ سکتا ہے۔ باہر سے سب ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں مگر ہر شخص اپنے اندر کئی درد سمیٹے ہوئے ہے۔ طلاق کو مذاق مت سمجھیں بلکہ اپنی اصلاح کریں۔ اگر ہم اپنی نئی نسل کی تربیت نہیں کریں گے تو رشتے نبھانا مشکل ہو جائے گا۔
مزید پڑھیں





