ہمارے سب سے پہلے استاد ہی ہمارے والدین ہوتے ہیں۔ انسان جب بولنا شروع کرتا ہے تو لفظ ماما اور پاپا بولتا ہے۔ بچے کی پہلی درسگاہ ہی اس کا گھر اور اس کے والدین کی دی ہوئی تعلیم ہوتی ہے جس سے وہ ایک با شعور انسان بننے کی شروعات کرتا ہے اور جب وہ تعلیم حاصل کرنے اداروں میں جاتا ہے تو اس کو استاد کے روپ میں ایک ایسا قیمتی انمول ہیرا ملتا ہے جس کے بتائے، سیکھائے، ہنر اور تعلیم کی بدولت ایک انسان اعلیٰ درجہ کے افسران کے عہدے پر اپنی صلاحیتوں کو منواتا ہے۔ ایک استاد اپنے شاگرد کو اتنا با شعور، ہنر مند بنا دیتا ہے جس سے وہ ہر معاشرے میں خود کو ڈھالنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ایک انسان استاد کے بغیر نا مکمل اور ادھورا ہے۔ جیسے تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ویسے ہی ایک انسان استاد کے بغیر کسی قابل نہیں بن سکتا نہ ہی کسی مقام تک پہنچ سکتا ہے۔ جو انسان اپنی زندگی میں استاد کے سخت رویوں اور مار کو برداشت کر کے علم سیکھتا ہے وہی کامیاب اعلیٰ افسر کے مقام تک پہنچتا ہے۔ استاد کی عزت اور قدر ایسے ہی کرنی چاہیے جیسے ہم اپنے والدین کی کرتے ہیں کیونکہ ہمارے استاد ہمارے روحانی والدین ہوتے ہیں۔ جو ہمیں علم کی آگاہی سے روشناس کرواتے ہیں، زمانے کی سختیاں برداشت کرنے والا بناتے ہیں، صبر و استقامت سے ہر کام کرنا سیکھاتے ہیں۔ غلط، صحیح میں فرق اور دین و دنیا کے مطابق تعلیم دے کر ہمارے روشن مستقبل کو سنوارتے ہیں۔ یہ وہ ہستی ہے جو انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنیوں کی راہ دیکھا کر اس کا روشن مستقبل بناتے ہیں بنا کسی مفاد و مطلب پرست کے اور بنا کسی حسد کے خود پر فخر کرتے ہیں اپنے شاگرد کی ترقی پر کہ ان کی دی ہوئی تعلیم اور علم سے ایک انسان کا روشن مستقبل بن سکا ہے۔ وہ کٹھن سے کٹھن حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے اور اپنے حاصل کردہ علم کی بدولت ہر میدان میں کامیابی کو اپنا مقدر بنا سکتا ہے۔
استاد کا رتبہ اتنا عظیم ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو تعلیم کی روشنی دینے کے لیے سختیوں، مشکلوں، پریشانیوں اور بہت سے ایسے حالات سے گزر کر خود کو جلاتا ہے اور پھر اپنے شاگردوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرتا ہے۔
استاد صرف وہ نہیں ہوتا جو ہمیں تعلیمی شعور دے، ہر وہ انسان استاد کا درجہ رکھتا ہے جو کسی بھی کام کی صلاحیت کو اپنے شاگردوں کو سیکھا سکے ان کو معاشرے میں ترقی کے قابل بنا سکے۔ ہر ہنر کو سیکھنے کے لیے استاد کے پاس جانا پڑتا ہے تب ہی آپ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔ زندگی میں ہر موڑ ہر، ہر مقام ہر پہنچنے کے لیے ایک استاد کی ہمیں تاحیات ضرورت رہتی ہی ہے ہر ہنر سیکھنے کے لیے۔ لیکن بعض اوقات استاد کی دی ہوئی تعلیم اتنی کم پڑ جاتی ہے کہ اس میں ہمیں زندگی کو سمجھ کر گزارنے اور سنوارنے کا طریقہ نہیں آتا۔
آج کل کے دور میں سب سے بڑی استاد ہماری زندگی ہے جس کی وجہ سے ہمیں وہ سب سیکھنے کو ملا جو ہمیں کتابیں نہیں سیکھا پائی۔ زندگی نے ہمیں اپنے، پرائے کی پہچان کروائی، ہمیں جینا سیکھایا، اللہ پر یقین کرنا، دعائیں مانگنا سیکھایا، زندگی کو دین کے مطابق گزارنا اور اس پر چلنا سیکھایا۔ کیونکہ یہ زندگی ایک استاد سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ "استاد تو سبق دے کر امتحان لیتا ہے جبکہ زندگی امتحان لے کر سبق دیتی ہے۔" یہ زندگی ایک ہی بار ملتی ہے اور سبق قیامت تک کے سیکھا دیتی ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔ جس سے انسان کی دنیا اور آخرت سنور جاتی ہے۔
مزید پڑھیں





