اُردو زبان کی آپ بیتی،تحریر محمد عثمان
نقطہ نظر
میں ایک ایسی زبان ہوں، جس نے کبھی کسی ذات، رنگ، نسل یا مذہب کی قید قبول نہیں کی۔ جو ہمیشہ ان سب زنجیروں سے آزاد ہی رہی۔ میرے حرفوں میں سوزِ درویش بھی ہے اور شہنشاہوں کی شائستگی بھی۔ میں وہ نغمہ ہوں جو صوفیا کے لبوں سے گونجا۔ وہ سُر ہوں جو شاعروں کے قلم سے پھوٹا۔ وہ تال ہوں جو گلیوں، کوچوں اور محلوں میں یکساں بجا۔ میری آواز نے کبھی محلوں کی دیواروں کو محدود جانا، نہ ہی جھونپڑیوں کی سادگی کو کمتر سمجھا۔ میں وہ زبان ہوں جس نے ماؤں کی لوریوں میں محبت کی چاشنی گھولی۔ عاشقوں کے خطوں میں امید کی مہک چھوڑی اور انقلابیوں کے نعروں میں بغاوت کی آگ بھری۔
”میں اردو ہوں؛ محبتوں کی امین، علم و ادب کی وارث اور تہذیب کی ترجمان۔“
میں کوئی عام زبان نہیں، میں تاریخ کے سینے سے نکلا وہ سنگیت ہوں جس نے دلوں کو جوڑا، تہذیبوں کو گُندھا اور صدیوں ”علم و عشق“ کا چراغ جلائے رکھا۔ میں محبت کی مٹھاس، فکر کی گہرائی اور جذبے کی روانی کا دوسرا نام ہوں۔ میرے سفر کی کہانی برصغیر کی تہذیبی روح کا عکس ہے۔ میرے دامن میں دلی کی شائستگی، لکھنؤ کی نزاکت، میرٹھ کی جرأت اور لاہور کی روانی ہے۔
میرا جنم کسی شاہی فرمان کا نتیجہ تھا، نہ ہی کسی لسانی تجربہ گاہ کی ایجاد۔ میں تو گلیوں، بازاروں، خانقاہوں اور قافلوں کے بیچوں بیچ تیرھویں صدی میں ہندوستان کی ’’گنگا جمنی تہذیب‘‘ کی کوکھ سے پیدا ہوئی۔ میں نے بولیوں کی چہکار میں جنم لیا۔ میں ایک ایسی زبان ہوں جس کے الفاظ میں عربی کی گہرائی، فارسی کی نزاکت، ترکی کی جلالت اور ہندی کی سادگی کا امتزاج ہے۔
میں نے سپاہیوں کی چھاؤنیوں سے لے کر صوفی بزرگوں کی خانقاہوں تک... سب سے کچھ نہ کچھ سیکھا۔ میں نے جنگ کے میدانوں میں شجاعت کی شمع جلائی اور ”محفلِ یاراں“ میں حسنِ بیان سے دل جیتے۔ میں تہذیبوں کا سنگم، احساسات کی ترجمان اور عشق کی وہ صدا ہوں... جو زمانوں سے گونج رہی ہے۔ میں وہی زبان ہوں جو کٹھن راہوں میں چراغ بن کر جلی، جو نفرتوں کے اندھیروں میں محبت کی کرن بنی۔ میں نے وقت کے سنگ دل تھپیڑوں کو سہا، مگر کبھی جھکی نہیں، کبھی بجھی نہیں۔
میرے بچپن کے دنوں میں مجھے... کھڑی بولی یا دہلوی زبان کہا گیا۔ ”امیر خسرو، بابا فرید الدین گنج شکر اور غلام ہمدان مصحفی“ جیسے صوفیائے کرام اور شعرائے عظام نے مجھے ہندی یا ہندوی زبان کے طور پر متعارف کروایا اور میرے الفاظ اپنے اشعار اور پہیلیوں میں استعمال کیے۔ میرے ابتدائی دنوں میں مجھے ہندوستانی زبان، لاہوری بولی، لشکری زبان، دکنی زبان، مُورس (یہ نام انگریزوں نے دیا تھا) اور ریختہ جیسے ناموں سے پکارا گیا۔ میں نہ ہندو تھی، نہ مسلمان۔ نہ مشرقی، نہ مغربی۔ میں بازار کی بولی بھی بنی اور ایوان کی آواز بھی۔ میری کوکھ میں پہیلیاں بھی ہیں اور دعائیں بھی۔ خط بھی ہیں اور فتوے بھی، عشقیہ اشعار بھی ہیں اور انقلابی نعرے بھی۔ میری آغوش میں فسانہ بھی ہے اور افسانہ بھی۔
میں وہ زبان ہوں جس میں میر کی اداسی، غالب کی شوخی، اقبال کی خودی اور فیض کی مزاحمت ایک ساتھ سانس لیتی ہے۔ مجھے اردوئے معلیٰ اور بالآخر اُردو نام ملا۔ جو میری پہچان بنا اور آج بھی میرا فخر ہے۔
میں کبھی لال قلعے کی دیواروں میں گونجی، تو کبھی گاؤں کے پیپل کے سائے تلے سنائی گئی۔ میرے لہجے میں مرد بھی بولے اور عورتیں بھی۔ جب عورتوں نے میرا لہجہ اپنایا تو میرا بانکپن اور نکھر گیا۔ رشید جہاں، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر، فہمیدہ ریاض اور زہرہ نگاہ نے مجھے نہ صرف گویائی بخشی، بل کہ ایک گہرائی عطا کی جو مجھے نئی روحوں سے جوڑتی چلی گئی۔
ولی دکنی نے مجھے نظموں اور غزلوں میں ڈھالا۔ میر تقی میر نے میرے جذبات کو سوز و گداز بخشا اور میر درد نے میرے الفاظ کو تصوف کی خوشبو سے مہکایا۔ حکیم محمد شریف خان دہلوی نے میری علمی بنیاد رکھی، شاہ عبد القادر نے قرآن کریم کا پہلا ترجمہ مجھ میں کیا۔ اقبال نے اپنی قوم میں میرے ذریعے خودی، عشق اور بغاوت کی روح پھونکی۔ مرزا غالب نے جب قلم اٹھایا تو میری وسعت، شائستگی اور فلسفیانہ گہرائی جیسی خصوصیات نمایاں ہوئیں۔ ان کی زبان میں وہ نفاست تھی جو آج بھی میری پہچان ہے۔
کہتے ہیں، جہاں گلاب ہوں وہاں کانٹے بھی ہوتے ہیں۔ میری پہچان بنی تو مخالفتیں بھی ساتھ آئیں۔
جب 1857ء کی گھن گرج سنائی دی، تو میں نے بھی اس بغاوت کا ساتھ دیا۔ میرے الفاظ نے سپاہیوں کے دلوں میں جوش جگایا، میرے اشعار نے آزادی کی چنگاری کو شعلہ بنایا۔ اس بغاوت کی سزا مجھے یہ ملی کہ ”برطانوی سامراج“ نے مجھے ’غداروں کی زبان‘ قرار دیا۔ میری جگہ انگریزی کو تخت ملا اور ہندی کو تاج۔ کبھی مجھے ناقابلِ تدریس کہا گیا، تو کبھی فرقہ پرستی کا طعنہ دیا گیا، لیکن میں نے ہار نہ مانی؛ میں نے اپنی کوکھ میں ”جذبہ حریت اور شعور“ کو زندہ رکھا۔
میرے بچاؤ کے لیے کئی سپاہی نکلے۔ سر سید احمد خان نے مجھے علمی وقار دیا۔ مولوی نذیر احمد نے میرے ذریعے اصلاح کی۔ حالی نے مجھے سادگی بخشی۔ شبلی نے تاریخ کو میرے الفاظ میں سمو دیا اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے مجھے مذہبی فہم عطا کی۔ جوش ملیح آبادی، فیض اور راشد جیسے میرے محافظوں نے مجھے وہ پر دیے کہ میں سامراج کے پرخچے اڑا آئی۔ پھر تقسیم نے مجھے بھی چیر دیا۔
1947 میں جب سرحدیں کھینچی گئیں، تو میری روح بھی زخمی ہوئی۔ بھارت میں مجھے اقلیت سے جوڑ دیا گیا، اسکول بند ہوئے، ادارے مٹائے گئے اور مجھے بتدریج دیس نکالا دیا گیا۔ مگر میں فلموں میں، موسیقی کی دھنوں میں، غزلوں کے مصرعوں اور دلوں کی دھڑکن میں زندہ رہی۔ ادبیات میں: قراۃ العین حیدر، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، انجم لکھنوی اور راحت اندوری جیسے لوگوں نے میری ”لَو روشن رکھی۔“
پاکستان میں مجھے قومی زبان تو بنایا گیا، مگر عملا ہمیشہ حاشیے پر رکھا گیا۔ سرکاری دفاتر نے انگریزی کو تھاما اور میرے حصے میں فقط جذبات رہ گئے۔ پر میں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ میں چپکے چپکے سانس لیتی رہی اور اپنے لیے جگہ بناتی رہی اور پھر مدارس میں میرے ذریعے قرآن کے معانی کو سمجھا گیا۔ حدیث کی تشریح بیان ہوئی۔ فقہ و تفسیر کے ہزارہا خزانے میری بانہوں میں سمٹے اور جب میں عصری جامعات میں پہنچی، تو مجھے کم تر اور غیر عصری سمجھا گیا۔ مگر میرے چاہنے والوں نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا... ڈاکٹر جمیل جالبی، گوپی چند نارنگ، ڈاکٹر ناصر عباس نیئر اور پروفیسر فتح محمد ملک جیسے علما نے میری نظریاتی اور تنقیدی جہات کو اجاگر کیا اور مجھے نئی جہتوں سے روشناس کرایا، جس کی بدولت مجھے ترقی نصیب ہوئی۔
مگر آج… آج مجھے لگتا ہے میں پھر سے اجنبی ہو گئی ہوں۔ میرے بچے مجھ سے شرماتے ہیں۔ میرے لہجے کو دیسی کہہ کر ٹھکراتے ہیں۔ میرے رسم الخط کو مشکل اور میری گرامر کو فرسودہ سمجھا جانے لگا ہے۔ آج جب ساری دنیا ڈیجیٹل ورلڈ میں سانس لے رہی ہے، جب ہر طرف ٹیکنالوجی کا شور ہے، جب انگلیوں سے زیادہ اسکرین بولتی ہے؛ جب آوازیں بٹنوں میں قید ہو گئی ہیں، تو میں وہاں بھی زندہ ہوں۔ سوشل میڈیا پر میرے اشعار گردش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوٹیوب پر میرے لیکچروں، میرے افسانوں اور میری غزلوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔ پوڈکاسٹس میں میری حکایتیں سنائی جاتی ہیں اور آن لائن کورسز میں میرا علم منتقل ہو رہا ہے۔ ہاں! میں اب بھی زندہ ہوں… کلاس روم کی تنہائی میں، کسی بوڑھے استاد کی یاد میں یا کسی پرانی کتاب کی خوشبو میں۔
نئی نسل کے لکھنے والے جیسے: عمیرہ احمد، محسن حمید، حمزہ فرخ، بلال تنویر اور سارہ قریشی؛ مجھے عالمی سطح پر متعارف کرا رہے ہیں۔ وہ مجھے صرف ایک زبان نہیں بل کہ ایک نظریے، ایک حساسیت اور ایک احساس کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ میرے الفاظ آج بھی دلوں کو چھوتے ہیں، میری آواز آج بھی علم، تہذیب اور اخوت کی پکار ہے۔ ایسا ہو بھی کیوں نا کہ، میں اُردو ہوں۔ مٹی کی سوندھی خوشبو جیسی، جو بارش کے پہلے قطرے سے مہک اٹھتی ہے۔ میں محبت کی وہ پرانی چٹھی ہوں، جسے لوگ آج بھی صندوقچوں میں سنبھال کر رکھتے ہیں۔ میں وہ نغمہ ہوں جو بزمِ یاراں میں بھی چھیڑ دیا جاتا ہے اور تنہائی میں بھی خود سے گنگنایا جاتا ہے۔ میں گزرے کل میں بھی زندہ تھی، آج بھی ہوں اور کل بھی رہوں گی۔ جب تک محبت ہے، جب تک سوال باقی ہیں اور جب تک انسان سوچتا ہے؛ میں اس کی آواز بنی رہوں گی۔
”کیوں کہ! میں اُردو ہوں۔“
مزید پڑھیں





