Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

"خریداری کی رسیدیں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر کرسکتی ہیں"؟ وائرل دعوے کی سائنسی حقیقت سامنے آگئی


خریداری کے بعد ملنے والی رسیدیں عام طور پر لوگ کچھ دیر کے لیے جیب یا پرس میں رکھ لیتے ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز تیزی سے گردش کر رہی ہیں جن میں رسیدوں کو صحت کے لیے خطرناک قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ رسیدوں کو ہاتھ لگانے سے مستقبل میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، ہارمونز کی صحت خراب ہوسکتی ہے اور ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم ہوسکتی ہے۔ تقریباً 2500 ٹک ٹاک پوسٹس میں ایک مقبول آڈیو کلپ استعمال کیا گیا ہے، جس میں ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’’میں کبھی رسیدوں کو ہاتھ نہیں لگاتا۔‘‘ رسیدوں سے متعلق یہ خدشات ’ڈائری آف اے سی ای او‘ نامی پوڈکاسٹ کے ایک مہمان نے بھی بیان کیے، جسے دنیا بھر میں ہر ماہ لاکھوں افراد سنتے ہیں۔ رسیدوں کے بارے میں یہ خدشات بنیادی طور پر اس لیے سامنے آئے ہیں کیونکہ یہ عموماً تھرمل پیپر پر چھاپی جاتی ہیں۔ اس کاغذ پر ایک کیمیائی تہہ موجود ہوتی ہے جس میں اکثر بیسفینول اے (بی پی اے) استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم سائنسدانوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر عام خریداروں کے لیے رسیدوں کو ہاتھ لگانا تشویش کا باعث نہیں ہونا چاہیے۔ بیسفینول اے یعنی بی پی اے ایک کیمیائی مرکب ہے جو 1960 کی دہائی سے رسیدوں میں استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ کیمیکل پلاسٹک کی پانی کی بوتلوں اور خوراک کے ڈبوں میں بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔ جدید تھرمل رسید پرنٹرز میں سیاہی کے بجائے حرارت استعمال کی جاتی ہے۔ بی پی اے کی تہہ پرنٹر کی تیز حرارت کے باعث کاغذ کو سیاہ کردیتی ہے، جس سے حروف اور اعداد فوری طور پر ظاہر ہوجاتے ہیں۔ تاہم انسانی خصیوں کے ٹشوز پر لیبارٹری میں کیے گئے تجربات میں یہ دیکھا گیا ہے کہ بی پی اے ٹیسٹوسٹیرون کی پیداوار کم کرسکتا ہے۔ دیگر مطالعات میں بھی حمل کے دوران ان مرکبات کے اثرات اور لڑکوں کے تولیدی نظام سے متعلق بعض نقائص کے درمیان تعلق پایا گیا ہے۔ لندن کے سینٹ میری اور ہیمرسمتھ ہسپتالوں میں تولیدی غدود کے ماہر پروفیسر چنا جے سینا کے مطابق بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کے علاج کے مراکز میں آنے والے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بی پی اے کے بارے میں تشویش کا اظہار کررہی ہے۔ ان کے مطابق جوڑے اپنی صحت کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند رہتے ہیں اور جسم سے زہریلے مادوں کو نکالنے اور صحت بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں، جس میں پلاسٹک سے پرہیز بھی شامل ہوسکتا ہے۔ پروفیسر جے سینا اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ شواہد کی بڑھتی ہوئی تعداد سے معلوم ہوتا ہے کہ بی پی اے جیسے ہارمونز کے نظام میں خلل ڈالنے والے کیمیکلز بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرسکتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان مطالعات سے اب بھی کئی اہم سوالات کے جواب نہیں ملے، جن میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ کسی شخص کو بی پی اے کی کتنی مقدار کا سامنا ہونے پر اس کے اثرات ظاہر ہوسکتے ہیں۔ ان کے بقول بی پی اے جیسے کیمیکلز صحت کے لیے ممکنہ خطرہ ضرور ہیں، لیکن اس خطرے کی شدت اور عام افراد کو درپیش حقیقی اثرات کے بارے میں مزید شواہد کی ضرورت ہے۔ رسیدوں میں بی پی اے سے متعلق ایک تحقیق کے مطابق یہ کیمیکل جلد کے ذریعے جسم میں جذب ہوسکتا ہے اور ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنے کے بعد رسید کو ہاتھ لگانے سے اس کا جذب ہونا بڑھ سکتا ہے۔ تاہم آسٹریلیا کی میلبورن میں واقع آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی سے وابستہ کیمسٹری کے پروفیسر اولیور جونز کے مطابق معاملہ صرف اس بات کا نہیں کہ کوئی شخص کسی کیمیکل کے سامنے آتا ہے، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ اسے اس کی کتنی مقدار کا سامنا ہوتا ہے۔ انہوں نے اس کی مثال شراب سے دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص ایک گلاس شراب پیتا ہے تو شاید اس کا زیادہ اثر نہ ہو، لیکن اگر کوئی ایک سال تک ہر رات شراب کی پوری بوتل پیتا رہے تو اس کا اثر ضرور ہوگا۔ پروفیسر اولیور جونز کے مطابق اسی بنیاد پر یہ امکان کم ہے کہ ایک عام رسید سے جسم میں جذب ہونے والی بی پی اے کی معمولی مقدار صحت پر قابل ذکر اثر ڈالنے کے لیے کافی ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک رسید کھا بھی لے تو بھی غالب امکان یہی ہے کہ جسم میں جانے والی بی پی اے کی مقدار اتنی نہیں ہوگی کہ کوئی مسئلہ پیدا کرسکے۔ تاہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان کیشیئرز کا کیا ہوگا جو روزانہ اور باقاعدگی سے بڑی تعداد میں رسیدیں ہاتھ میں لیتے ہیں؟ تولیدی ہارمونز کے ماہر پروفیسر جے سینا کہتے ہیں کہ انہوں نے کیشیئرز کی بڑی تعداد کو بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کے کلینکس کا رخ کرتے نہیں دیکھا۔ تاہم ان کے مطابق یہ جاننے کے لیے مزید شواہد درکار ہیں کہ پیشے یا ماحول کے ذریعے ہارمونز کے نظام میں خلل ڈالنے والے کیمیکلز کی زیادہ مقدار کا سامنا بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کو کس طرح متاثر کرسکتا ہے۔ اس کے باوجود یورپی یونین اور برطانیہ میں بی پی اے والی رسیدوں پر پہلے ہی پابندی عائد کی جاچکی ہے، جبکہ جاپان اور جنوبی کوریا میں بھی ایسی رسیدوں کو مرحلہ وار ختم کیا جارہا ہے۔ ان خطوں میں بہت سے مینوفیکچررز نے بی پی اے کی جگہ بسفینول ایس (بی پی ایس) استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ پروفیسر اولیور جونز کے مطابق بی پی ایس کیمیائی اعتبار سے بی پی اے سے ’’تقریباً وہی‘‘ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تکنیکی طور پر بی پی ایس زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ اس کے بارے میں بی پی اے کے مقابلے میں اتنے شواہد موجود نہیں، تاہم مجموعی طور پر ان کے خیال میں اس سے لاحق خطرہ اب بھی کافی کم ہے۔ اگر کوئی شخص احتیاطاً رسیدوں سے بی پی اے کے ممکنہ رابطے کو کم کرنا چاہتا ہے تو دستانے استعمال کیے جاسکتے ہیں یا کاغذی رسید کے بجائے ای میل کے ذریعے رسید حاصل کی جاسکتی ہے۔ پروفیسر جونز کے مطابق اگر اس طرح کسی شخص کو اطمینان حاصل ہوتا ہے اور اس کی پریشانی کم ہوتی ہے تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ دوسری جانب پروفیسر جے سینا کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص بی پی اے کے سامنے آنے کے حوالے سے فکرمند ہے تو ایسے دیگر اقدامات بھی موجود ہیں جن کے بارے میں زیادہ سائنسی شواہد دستیاب ہیں۔ ان کے مطابق پلاسٹک کے ان ڈبوں میں کھانا بار بار گرم کرنے یا رکھنے سے گریز کرنا ایک اچھا آغاز ہے جو کھانا پیک کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور اکثر مائیکروویو میں رکھنے کے لیے محفوظ نہیں ہوتے۔ پروفیسر جے سینا کے مطابق اگر کوئی شخص بچے پیدا کرنے کی صلاحیت بہتر بنانا یا اسے محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو سب سے اہم اقدامات میں سگریٹ نوشی چھوڑنا، شراب کا استعمال محدود کرنا، ورزش کرنا اور جسمانی وزن کو صحت مند حد میں رکھنا شامل ہیں۔ ان کے بقول کچھ چیزیں انسان کے اختیار میں ہیں اور یہ بات معلوم ہے کہ ان کا تولیدی صحت پر اثر پڑتا ہے، تاہم دستیاب شواہد کی بنیاد پر عام رسیدوں کو ان عوامل میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔