Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

جب والدین اور اولاد کے درمیان گُفتگو مرنے لگیں،تحریر: زینب جہانزیب

نقطہ نظر
zainab jahazeb

کل رات میری نظر سے ایک خبر گزری تو میں کچھ دیر کے لیے اسکرین کو دیکھتی رہ گئی۔ خبر چند سطروں پر مشتمل تھی، مگر ان چند سطروں کے پیچھے ایک پورا گھر، ایک باپ، ایک بیٹا، ایک خاموش رشتہ اور ہماری بدلتی ہوئی دنیا کا ایک خوفناک چہرہ چھپا تھا۔ خبر کے مطابق بہاولپور میں سترہ سالہ طالب علم کو مبینہ طور پر اپنے والد کو زہر دینے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس نے مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کے ایک چیٹ بوٹ سے رہنمائی حاصل کی تھی۔

سترہ برس کی عمر... وہ عمر جس میں ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہییں، آنکھوں میں خواب ہونے چاہییں اور دل میں مستقبل کی بے شمار تصویریں۔ وہ عمر جس میں باپ کی ڈانٹ شاید دنیا کی سب سے بڑی ناانصافی محسوس ہوتی ہے، مگر کچھ ہی دیر بعد وہی باپ اپنے بچے کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے زندگی کے کسی نئے راستے پر لے جاتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بیٹا اپنے ہی باپ کو نقصان پہنچانے کے لیے زہر تیار کرنے تک جا پہنچا۔

سوال صرف یہ نہیں کہ اس بچے نے ایسا کیوں کیا؟ سوال یہ بھی ہے کہ وہ اس مقام تک پہنچا کیسے؟

ہم اکثر بچوں کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کر پریشان ہوتے ہیں کہ وہ کیا دیکھ رہے ہیں، کیا پڑھ رہے ہیں اور کن لوگوں سے بات کر رہے ہیں۔ مگر شاید ہم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ موبائل ہاتھ میں لیے بیٹھا ہوا بچہ اپنے اندر کیا لیے پھر رہا ہے۔ ہر خاموش بچہ پُرسکون نہیں ہوتا۔ ہر سنجیدہ چہرہ مطمئن نہیں ہوتا۔ اور ہر وہ بچہ جو اپنے کمرے کا دروازہ بند کرکے گھنٹوں اسکرین کے سامنے بیٹھا ہے، ضروری نہیں کہ صرف وقت گزار رہا ہو؛ ممکن ہے وہ اپنے اندر کے کسی شور سے بھاگ رہا ہو۔

ہم نے ٹیکنالوجی کو اپنے گھروں میں جگہ دے دی، مگر شاید اپنے بچوں کے دلوں میں جگہ بنانا بھول گئے۔

مصنوعی ذہانت بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری۔ یہ ایک ذریعہ ہے، اور ہر ذریعہ اپنے استعمال کرنے والے کے ہاتھ میں معنی اختیار کرتا ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی عقل، اخلاق اور ضمیر کو ایک مشین کے سامنے رکھ کر خود پیچھے ہٹ جائے۔ مشین سوال کا جواب دے سکتی ہے، مگر یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ سوال پوچھنا ہی غلط ہے۔ وہ معلومات فراہم کر سکتی ہے، مگر انسان کے دل میں موجود نفرت، غصے، انتقام یا محرومی کو اس طرح محسوس نہیں کر سکتی جیسے ایک انسان کر سکتا ہے۔

مگر شاید اس خبر کا سب سے تکلیف دہ پہلو مصنوعی ذہانت نہیں، بلکہ وہ فاصلہ ہے جو ایک بچے اور اس کے والد کے درمیان پیدا ہو چکا تھا۔

والدین اور اولاد کے درمیان رشتے ایک دن میں نہیں ٹوٹتے۔ بعض اوقات فاصلے برسوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی ایک سخت جملہ، کبھی مسلسل ڈانٹ، کبھی ضرورت سے زیادہ توقعات، کبھی موازنہ، کبھی بچے کے جذبات کو معمولی سمجھ لینا اور کبھی یہ احساس کہ "مجھے کوئی سمجھتا ہی نہیں" دل کے اندر ایسی دراڑیں پیدا کر دیتا ہے جنہیں باہر سے دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔

ہم بچوں سے پوچھتے ہیں، "کتنے نمبر آئے؟"

ہم پوچھتے ہیں، "ہوم ورک کیا؟"

ہم پوچھتے ہیں، "موبائل پر کیا کر رہے ہو؟"

مگر کتنی بار ہم ان کے پاس بیٹھ کر صرف اتنا پوچھتے ہیں، "تم ٹھیک تو ہو؟"

شاید یہی وہ سوال ہے جو کئی گھروں میں بہت دیر سے پوچھا جاتا ہے۔

ہم اپنے بچوں کو کامیابی کے لیے تیار کرتے ہیں، مگر انہیں جذبات کو سنبھالنا نہیں سکھاتے۔ ہم انہیں مقابلے کے میدان میں دھکیلتے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتے کہ غصہ آئے تو کیا کرنا ہے، دل ٹوٹے تو کس سے کہنا ہے، اختلاف ہو تو کیسے برداشت کرنا ہے اور کسی سے شدید ناراضی ہو تو اس ناراضی کو نفرت میں تبدیل ہونے سے کیسے روکنا ہے۔

پھر ایک وقت آتا ہے جب بچہ اپنے دل کی دنیا میں والدین کو شامل کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

اور جب گھر میں گفتگو کم ہونے لگتی ہیں تو باہر کی آوازیں زیادہ طاقتور ہو جاتی ہیں۔

آج کا بچہ اپنے ہر سوال کا جواب انٹرنیٹ پر تلاش کر سکتا ہے۔ اسے معلومات کے لیے کسی بڑے کا محتاج رہنا ضروری نہیں رہا۔ مگر انسان کو معلومات سے زیادہ سمجھنے والا دل چاہیے۔ ایک ایسا شخص چاہیے جس کے سامنے وہ اپنی الجھن، غصہ، خوف اور محرومی رکھ سکے اور جو یہ سب سن کر فوراً سے ردعمل نہ دیتا ہو۔

شاید ہمیں بچوں کے ہاتھ سے موبائل چھیننے سے پہلے ان کے دل سے تنہائی چھیننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ واقعہ والدین سے بھی سوال کرتا ہے اور اولاد سے بھی۔ والدین سے یہ کہ کیا ہمارا بچہ اپنی پریشانی لے کر ہمارے پاس آ سکتا ہے؟ کیا اسے یقین ہے کہ ہم اسے سنیں گے؟ اور اولاد سے یہ کہ کیا ہر اختلاف کو دشمنی بن جانا چاہیے؟ کیا کسی رشتے میں پیدا ہونے والی تکلیف کا جواب اس رشتے کو ختم کرنا ہے؟

نہیں۔

رشتوں میں دراڑ آئے تو اسے بھرنے کی کوشش کرنی چاہیے، دیوار کھڑی کرنے کی نہیں۔ دل میں غصہ ہو تو اسے الفاظ دینے چاہیے، زہر نہیں۔ شکایت ہو تو اسے بیان کرنا چاہیے، انتقام نہیں۔

سترہ سالہ اس بچے کی کہانی شاید قانون کی فائلوں میں ایک مقدمہ بن کر رہ جائے، مگر ہمارے لیے یہ ایک آئینہ ہونی چاہیے۔ ایسا آئینہ جس میں صرف ایک بچے کا چہرہ نہیں بلکہ ہمارے گھروں کا ماحول، ہماری مصروفیات، ہماری تربیت، ہماری ترجیحات اور ہماری خاموشیاں بھی دکھائی دیں۔

کیونکہ کبھی کبھی بچوں کو بگاڑنے کے لیے انہیں غلط چیزیں سکھانا ضروری نہیں ہوتا؛ بس ان کی بات سننا چھوڑ دینا کافی ہوتا ہے۔

اور شاید کسی بھی گھر کے لیے اس سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ وہاں اختلاف ہونے لگے، بلکہ یہ ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان گفتگو ہی مرنے لگیں۔