تجسس یہ نہیں کہ وہ رویا
تجسس یہ ہے کہ کیوں رویا
کیا تریاق جدائی تھی
کیا غم حسرت ملاقات تھا
نہیں نہیں
تو پھر کیا تھا
کیوں تھا
دل کے صحرا میں اتر کر دیکھا تو
بنجر تھی زمین حسرت و یاس
کوئی ویرانہ تھا دروازے کے کفل پر
زنگ آلود چابیاں تھی شریانوں کے ہینگر پر
کچھ شاپر آنسوں سے بھرے ہوئے تھے
آنکھیں تھیں چٹکیوں کے اندر دبی ہوئی
نہ کھلتی تھیں نہ بند ہوتی تھیں
زمانوں کا کوئی اندھیر نگر تھا
خیالوں کا اجڑا ہوا صحن تھا
بھٹکتی ہوئی خواہشیں تھیں
دل کرچیاں چن رہا تھا دھڑکنوں کی
کہ بام و خواب پر کسی نے دستک دی
ویرانے کے زنگ آلودہ کفل کھلے
صحرا میں برسات ہوئی
شوق ملاقات کی آندھیوں کے تھپیڑوں سے
اشکوں سے بھرے شاپر ٹپکنے لگے
اور کوئی سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہوا
چٹکیوں کے اندر دبی ہوئی آنکھوں کو تھپتھپانے لگا
عجب دل کے صحرا میں ہلچل ہوئی کہ
زمانوں کا اندھیر نگر
خیالوں کا اجڑا صحن
بھٹکتی ہوئی خواہشیں بنجر زمینوں کی یاس
گھڑی کی ٹک ٹک میں کہیں گم ہو گئیں
وہ گھڑی جو زمانوں سے بوسیدہ سی دیوار پر
تخلیق و دل وجان و جسم سے پہلے
وقت کی زنجیر سے آزاد تھی
نہ دن تھا نہ رات تھی
نہ خواہش تھی
نہ دل تھا
نہ دھڑکنیں تھیں
نہ تجسس تھا
نہ آنکھ تھی
نہ کوئی رویا تھا
نہ کوئی کھویا تھا
نہ کچھ بویا تھا
وقت کی زنجیر کھنچتے ہی
تجسس بھی ہوا
اور کوئی رویا بھی
کوئی صحرا بھی ہوا
کوئی سمندر بھی ہوا
کسی نے کفل بھی لگائے دل کے دروازے پر
جو زنگ آلود ہوئے
مزید پڑھیں






