وردی کے اندر ایک انسان ہے،تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
نقطہ نظر
ہم پاکستانی بھی عجیب قوم ہیں۔ ہمیں سڑک پر پولیس والا نظر آئے تو فوراً یاد آتا ہے کہ یہ ڈیوٹی پر ہے، مگر یہ یاد نہیں رہتا کہ شاید وہ کئی گھنٹوں سے ڈیوٹی پر ہے۔ ہمیں اس کے ہاتھ میں ڈنڈا، سینے پر بیج اور بدن پر وردی دکھائی دیتی ہے، مگر اس وردی کے اندر دھڑکتا ہوا دل دکھائی نہیں دیتا۔ ہم یہ بھی خوب جانتے ہیں کہ پولیس کو ہر وقت ’’الرٹ‘‘ رہنا چاہیے، لیکن شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ انسان کو ہر وقت ’’چارج‘‘ رکھنا ممکن نہیں۔ کہتے ہیں پولیس والے کی ڈیوٹی کا کوئی وقت نہیں ہوتا؛ بس حالات اسے بتاتے ہیں کہ اب گھر جانا ہے یا ابھی مزید کھڑے رہنا ہے۔ کبھی دھوپ اسے سایہ تلاش کرنے پر مجبور کرتی ہے، کبھی بارش وردی بھگو دیتی ہے، کبھی سردی ہڈیوں تک اتر جاتی ہے اور کبھی ہجوم کے درمیان کھڑے کھڑے وقت گزرنے کا احساس بھی ختم ہو جاتا ہے۔ مگر حکم ایک ہی ہوتا ہے: ڈیوٹی جاری رکھو۔ یہ جملہ شاید بہت سادہ ہے، مگر اس کے پیچھے ایک بہت بڑا سوال چھپا ہے: آخر ڈیوٹی پر کھڑا یہ شخص کب انسان رہتا ہے اور کب ہم اسے صرف ایک ’’ڈیوٹی نمبر‘‘ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں؟ ریاست کی حفاظت صرف سرحدوں پر نہیں ہوتی۔ کبھی یہ شاہراہوں پر ہوتی ہے، کبھی چوراہوں پر، کبھی کسی احتجاجی ہجوم کے سامنے اور کبھی کسی ایسے حساس مقام پر جہاں ایک پولیس اہلکار کئی کئی گھنٹے اپنے آرام، نیند اور گھر کی فکر کو پیچھے چھوڑ کر عوام کے تحفظ کی ذمہ داری نبھاتا ہے۔ مگر اس پوری کہانی کا سب سے اہم کردار خود وہ انسان ہے جو وردی پہن کر ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ اسے بھی بھوک لگتی ہے، پیاس لگتی ہے، تھکن ہوتی ہے، نیند آتی ہے اور اس کے گھر میں بھی کوئی اس کی واپسی کا منتظر ہوتا ہے۔ وردی اسے ذمہ داری ضرور دیتی ہے، انسان ہونے سے محروم نہیں کرتی۔ اٹک میں لانگ مارچ کی ڈیوٹی کے سلسلے میں تعینات پولیس اہلکاروں کے حوالے سے سامنے آنے والے واقعات نے اسی انسانی پہلو کو ایک بار پھر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب تک چار پولیس جوان جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دو جوان دل کا دورہ پڑنے سے، ایک غازی بروٹھا نہر میں ڈوبنے سے، جبکہ ایک بیماری کے بڑھ جانے کے باعث شہید ہوا۔ گزشتہ رات برہان، اٹک میں ایک پولیس اہلکار کو رسل وائپر کے ڈسنے کی اطلاع بھی سامنے آئی، جسے علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ یہ واقعات خبر کی چند سطریں بن سکتے ہیں، مگر ان سطروں کے پیچھے چار خاندانوں کی پوری داستانِ غم موجود ہے۔ کہیں ایک ماں اپنے بیٹے سے محروم ہوئی، کہیں بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا، کہیں ایک بہن کا بھائی ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا اور کہیں ایک گھر کی دہلیز اس قدم کی منتظر رہ گئی جو اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔ ہم پولیس اہلکاروں کو اکثر صرف ڈیوٹی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ہمیں سڑک پر کھڑا ایک سپاہی نظر آتا ہے، مگر اس سپاہی کے پیچھے موجود انسان نظر نہیں آتا۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کتنے گھنٹوں سے کھڑا ہے، اس نے کب کھانا کھایا، کتنا پانی پیا، رات کو کتنی نیند لی اور اس کے جسم میں مزید ڈیوٹی کی سکت باقی بھی ہے یا نہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پولیس کتنی ڈیوٹی کرتی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ وہ ڈیوٹی کن حالات میں کرتی ہے۔ لانگ مارچ، احتجاج، جلسے، جلوس، اہم شخصیات کی سکیورٹی اور حساس حالات میں پولیس کی ذمہ داریاں معمول کی ڈیوٹی سے کہیں زیادہ مشکل ہو جاتی ہیں۔ کئی کئی گھنٹے کھلے آسمان تلے کھڑے رہنا، ہجوم اور ٹریفک کو کنٹرول کرنا، ہر لمحہ الرٹ رہنا اور کسی بھی ناخوشگوار صورتِ حال میں فوری ردِعمل دینا جسمانی تھکن کے ساتھ ذہنی دباؤ بھی پیدا کرتا ہے۔ مسلسل جاگنے، کم آرام اور طویل اوقاتِ کار کا اثر بالآخر انسانی جسم پر پڑتا ہے۔ اس لیے پولیس اہلکار کے لیے مناسب آرام کوئی عیاشی نہیں، شفٹ سسٹم کوئی اضافی سہولت نہیں اور آف کوئی احسان نہیں؛ یہ مؤثر پولیسنگ کی بنیادی ضرورت ہے۔ بڑے اجتماعات اور حساس ڈیوٹیوں کے لیے زیادہ نفری درکار ہو سکتی ہے، لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ ایک ہی جوان کو مسلسل کئی کئی گھنٹے ڈیوٹی پر کھڑا رکھا جائے۔ ایک ٹیم ذمہ داری سنبھالے تو دوسری کو آرام ملے، پھر باری بدلتی رہے۔ طویل ڈیوٹی کے بعد لازمی ریسٹ دیا جائے اور طویل آپریشن ختم ہونے پر اہلکاروں کو مناسب آف اور رخصت بھی دی جائے۔ تھکا ہوا سپاہی صرف خود خطرے میں نہیں ہوتا، اس کی تھکن عوام کی حفاظت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ کھانے اور پانی کا معاملہ بھی معمولی نہیں۔ جو جوان کئی گھنٹے عوام کی حفاظت کے لیے کھڑا ہے، اس کے لیے وقت پر صاف ستھرا اور مناسب کھانا فراہم کرنا محکمہ کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ ہر ڈیوٹی پوائنٹ پر صاف پینے کا پانی موجود ہو۔ کسی اہلکار کو اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر پانی یا کھانے کی تلاش میں نہ جانا پڑے۔ موسم بھی پولیس اہلکار کا ایک خاموش امتحان ہے۔ اٹک کی تپتی گرمی ہو، سردیوں کی یخ بستہ رات، بارش ہو یا دھند، کھلے مقام پر گھنٹوں ڈیوٹی آسان کام نہیں۔ اس لیے ڈیوٹی پوائنٹس پر شیڈ، بیٹھنے کی مناسب جگہ، صاف پانی، بارش سے بچاؤ، موسم کے مطابق لباس اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ضروری ہے۔ اور پھر آتا ہے صحت کا سوال۔ طبی سہولت اس وقت نہیں ملنی چاہیے جب حادثہ ہو چکا ہو؛ بلکہ حساس اور طویل ڈیوٹیوں کے دوران پہلے سے طبی انتظام موجود ہونا چاہیے۔ سینے میں درد، اچانک طبیعت خراب ہونے، شدید گرمی یا سردی کے اثرات، چوٹ، سانپ کے کاٹنے یا کسی دوسرے ہنگامی واقعے کی صورت میں ابتدائی طبی امداد اور ہسپتال تک فوری رسائی زندگی اور موت کے درمیان فرق بن سکتی ہے۔ بڑے اور حساس ڈیوٹی پوائنٹس پر ابتدائی طبی مراکز، تربیت یافتہ طبی عملہ، ضروری ادویات اور ایمبولینس کی دستیابی یقینی بنائی جانی چاہیے۔ طویل ڈیوٹیوں کے دوران بنیادی طبی معائنوں کا اہتمام بھی ہونا چاہیے تاکہ کسی ممکنہ صحت کے مسئلے کو سنگین ہونے سے پہلے محسوس کیا جا سکے۔ لیکن پولیس ویلفیئر صرف کھانے، پانی، دوا اور آرام کا نام نہیں۔ اس کا ایک انسانی اور جذباتی پہلو بھی ہے۔ ایک پولیس اہلکار جب کئی دن گھر سے دور رہتا ہے تو اس کی غیر موجودگی صرف ایک ملازم کی غیر موجودگی نہیں ہوتی۔ گھر میں ایک ماں اپنے بیٹے کی خیر مانگتی ہے، ایک بیوی شوہر کی سلامتی کے لیے دعا کرتی ہے اور بچے دروازے کی طرف دیکھتے ہیں کہ شاید آج ابو واپس آ جائیں۔ اس لیے طویل ڈیوٹی کے بعد مناسب آف، ریسٹ اور رخصت پولیس ویلفیئر کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ ہم پولیس کے لیے کوئی غیر معمولی رعایت نہیں مانگ رہے۔ ہمارا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ جو ریاست اپنے پولیس جوان سے غیر معمولی قربانی مانگتی ہے، وہ اس کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری بھی پوری کرے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ پولیس اہلکاروں کے لیے مؤثر اور قابلِ عمل شفٹ سسٹم نافذ کیا جائے، مسلسل طویل ڈیوٹی کو معمول نہ بنایا جائے اور ڈیوٹی کے اوقات معقول رکھے جائیں، طویل ڈیوٹی کے بعد لازمی آرام، آف اور مناسب رخصت یقینی بنائی جائے، ہر ڈیوٹی پوائنٹ پر صاف پانی اور معیاری خوراک دستیاب ہو، گرمی، سردی، بارش اور دھند سے بچاؤ کے لیے شیڈ، مناسب لباس اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں، حساس اور بڑے ڈیوٹی پوائنٹس پر ابتدائی طبی مراکز، تربیت یافتہ طبی عملہ، ضروری ادویات اور ایمبولینس دستیاب رکھی جائے، سانپ کے کاٹنے، دل کے دورے، گرمی یا سردی کے اثرات اور دیگر ہنگامی حالات کے لیے فوری طبی پروٹوکول نافذ کیا جائے، طویل آپریشنز کے دوران اہلکاروں کے بنیادی طبی معائنے اور ذہنی دباؤ کی نگرانی کا نظام بنایا جائے، ڈیوٹی کے دوران ہونے والے حادثات اور اموات کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں کو بروقت مالی، طبی اور قانونی معاونت فراہم کی جائے، جبکہ پولیس ویلفیئر کے لیے مختص وسائل کے استعمال میں شفافیت اور مؤثر جواب دہی یقینی بنائی جائے۔ یہ مطالبات پولیس کو عوام سے دور نہیں کرتے بلکہ پولیس کو عوام کے لیے زیادہ مؤثر بناتے ہیں۔ ایک محفوظ، صحت مند اور پُرسکون پولیس اہلکار بہتر فیصلے کر سکتا ہے، زیادہ تحمل سے کام لے سکتا ہے اور اپنی ذمہ داری زیادہ توجہ اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کر سکتا ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پولیس اہلکار مشین نہیں۔ اسے ہر وقت چلایا نہیں جا سکتا۔ مشین بھی گرم ہو جائے تو اسے ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے، پھر یہ تو انسان ہے۔ اگلی بار جب سڑک کے کنارے کوئی پولیس جوان کئی گھنٹوں سے کھڑا نظر آئے تو اسے صرف ایک وردی نہ سمجھیں۔ ذرا اس وردی کے پیچھے موجود انسان کو دیکھنے کی کوشش کریں۔ شاید وہاں ایک باپ ہو جو کئی گھنٹوں سے اپنے بچوں سے دور ہے، ایک بیٹا ہو جس کی ماں اس کی سلامتی کی دعا کر رہی ہے، یا ایک شوہر ہو جس کے گھر میں کوئی اس کی واپسی کا منتظر ہے۔ اس کے ہاتھ میں قانون کی ذمہ داری ہے، مگر اس کے سینے میں انسان کا دل ہے۔ ڈیوٹی اس کا فرض ہے، مگر آرام اس کا حق ہے۔ عوام کی حفاظت اس کی ذمہ داری ہے، مگر اس کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ پولیس والے ہمارے ہی بھائی ہیں۔ ان کی وردی شاید انہیں ہم سے مختلف دکھاتی ہو، مگر ان کی تھکن ہماری تھکن جیسی ہے، ان کی بھوک ہماری بھوک جیسی ہے، ان کے آنسو ہمارے آنسو جیسے ہیں اور ان کے گھروں کی محبت بھی ہماری محبت جیسی ہے۔ آج ضرورت صرف تعزیت کے الفاظ کی نہیں، عملی اقدام کی ہے۔ ہر شہید اور زخمی اہلکار ہمیں یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ جو لوگ عوام کی حفاظت کے لیے اپنے آرام، صحت اور بعض اوقات اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں، کیا ان کی حفاظت، صحت اور بنیادی ضروریات ہماری ترجیحات میں شامل ہیں؟ ریاست اپنے محافظوں کو صرف احکامات اور توقعات کے حوالے نہیں کر سکتی۔ جو جوان عوام کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہے، اسے محفوظ ماحول، مناسب آرام، بروقت علاج، معیاری خوراک، صاف پانی اور باعزت سہولیات فراہم کرنا بھی ریاست ہی کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈیوٹی کے دوران جان کی بازی ہارنے والے تمام پولیس جوانوں کے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، زخمی اہلکار کو صحتِ کاملہ دے اور ملک و قوم کی حفاظت پر مامور تمام جوانوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ وردی کے اندر ایک انسان ہے—اور انسان کو صرف حکم نہیں، سہارا بھی چاہیے۔
مزید پڑھیں





