Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وہ بچہ جسے دنیا نے دیکھا ہی نہیں،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

ہم اکثر کسی بچے کی موت کا دکھ اس عمر اور اس وقت سے ناپتے ہیں جس میں وہ دنیا سے گیا۔ اگر بچہ پیدا ہی نہ ہوا ہو تو شاید ہمیں لگتا ہے کہ غم بھی اتنا بڑا نہیں ہوگا۔ آخر اس بچے نے دنیا دیکھی ہی کہاں تھی؟ کسی کو پکارا نہیں تھا، کسی کی انگلی پکڑی نہیں تھی، کسی کے ساتھ وقت نہیں گزارا تھا۔ مگر ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جسے دنیا نے دیکھا تک نہیں، ایک ماں نے اسے نو ماہ تک اپنے اندر جیا ہوتا ہے۔


ایک عورت کے لیے حمل صرف جسم میں ہونے والی تبدیلی کا نام نہیں۔ اس کے ساتھ ایک رشتہ آہستہ آہستہ وجود میں آتا ہے۔ اسے پہلی حرکت یاد رہتی ہے جب اسے پہلی بار محسوس ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی ہے۔ وہ اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اس سے بات کرتی ہے۔ کبھی اس کے نام کے بارے میں سوچتی ہے، کبھی اس کے چہرے کا تصور کرتی ہے اور کبھی آنے والے دنوں کے خواب دیکھتی ہے۔ وہ اپنے جسم کا خون اسے دیتی ہے، اپنی تکلیف برداشت کرتی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس بچے کو اپنی زندگی کا حصہ بناتی جاتی ہے۔ بچہ ابھی دنیا میں نہیں آیا ہوتا لیکن ماں کی دنیا میں اس کے لیے ایک جگہ بن چکی ہوتی ہے پھر اچانک وہ جگہ خالی ہوجاتی ہے۔


ایک خبر آتی ہے کہ بچہ نہیں بچ سکا۔ شاید اس لمحے ماں کو خود بھی سمجھ نہیں آتا کہ اس کے ساتھ کیا ہوگیا ہے۔ جس حرکت کا وہ انتظار کرتی تھی وہ رک چکی ہوتی ہے۔ جس وجود کو وہ اپنے اندر محسوس کرتی تھی وہ اچانک خاموش ہوجاتا ہے۔ گھر کے باقی لوگوں کے لیے شاید یہ ایک بہت بڑا دکھ ہو مگر زندگی کچھ دن بعد اپنی رفتار پکڑ لیتی ہے۔ ماں کے لیے معاملہ اتنا سادہ نہیں ہوتا۔ وہ اپنے جسم سے بھی اس نقصان کو محسوس کر رہی ہوتی ہے اور اپنے ذہن میں ان تمام خوابوں کو بھی دفن کر رہی ہوتی ہے جو اس بچے کے ساتھ وابستہ تھے۔


بدقسمتی سے ایسے وقت میں ہم اس عورت کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے اسے جلدی سے خاموش کرانا چاہتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے اب بس بھی کرو۔ کوئی سمجھاتا ہے کہ خود کو سنبھالو۔ کوئی کہتا ہے اللہ نے بہتر کیا ہوگا۔ کوئی یہ کہہ دیتا ہے کہ دوبارہ بچہ ہوجائے گا۔ شاید یہ سب باتیں تسلی دینے کی نیت سے کہی جاتی ہیں، مگر غم ہمیشہ دلیل سے ختم نہیں ہوتا۔ خاص طور پر اس وقت جب ایک ماں نے ابھی ابھی اپنے بچے کو کھویا ہو۔


اس لمحے اسے یہ سننے کی ضرورت نہیں کہ اسے کتنا مضبوط ہونا چاہیے۔ اسے صرف کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے پاس بیٹھے اور اسے رونے دے۔ اگر وہ بار بار اپنے بچے کو یاد کررہی ہے تو اسے روکنے کے بجائے اس کی بات سننی چاہیے۔ اگر وہ خاموش ہے تو اس خاموشی سے گھبرانے کے بجائے اس کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔ اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کا غم کسی کے لیے بوجھ نہیں اور اسے اپنے بچے کو یاد کرنے کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔


ہم ماں کو اکثر ایک ایسی عورت سمجھ لیتے ہیں جو ہر دکھ برداشت کرلے گی۔ مگر ماں بھی انسان ہے۔ اس کے اندر بھی ایک دل ہے جو ٹوٹ سکتا ہے۔ بچے کو دنیا میں آنے سے پہلے کھودینا صرف ایک طبی واقعہ نہیں بلکہ ایک جذباتی صدمہ بھی ہوسکتا ہے۔ بعض عورتیں اس کے بعد شدید ذہنی دباؤ، بے خوابی، خوف، احساسِ جرم یا مسلسل اداسی سے گزرتی ہیں۔ ایسے میں خاندان کی محبت اور توجہ بہت اہم ہے اور اگر کیفیت سنبھل نہ رہی ہو تو ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے مدد لینا کمزوری نہیں بلکہ ضرورت ہے۔


شاید ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ہر شخص غم سے نکلنے کا اپنا وقت لے کر آتا ہے۔ کسی کو چند ہفتے لگ سکتے ہیں اور کسی کو اس سے کہیں زیادہ۔ ہمیں اس کے آنسوؤں کی مدت طے کرنے کا حق نہیں۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنے کا حق بھی نہیں کہ اب اسے بھول جانا چاہیے۔ جس بچے کو اس نے اپنے اندر محسوس کیا ہو، اس کی یاد صرف اس لیے ختم نہیں ہوجاتی کہ دنیا نے اسے دیکھا نہیں تھا۔


اس لیے اگر کبھی آپ کے آس پاس کوئی ایسی ماں ہو جس نے اپنا بچہ دنیا میں آنے سے پہلے کھو دیا ہو تو اسے نصیحت دینے سے پہلے اس کے پاس بیٹھیں۔ اس کے آنسو پونچھنے سے پہلے اسے رونے دیں۔ اسے یہ نہ کہیں کہ "بس اب بھول جاؤ" بلکہ اتنا کہہ دیں کہ "تم اکیلی نہیں ہو، جب تک دل چاہے رو لو، میں تمہارے پاس ہوں۔"


کیونکہ وہ بچہ شاید دنیا کے لیے چند ماہ کا ایک وجود تھا، مگر اپنی ماں کے لیے وہ نو ماہ کی ایک پوری زندگی تھا۔ دنیا نے اسے دیکھا نہیں تھا، مگر ایک ماں نے اسے محسوس کیا تھا، اس کے ساتھ خواب دیکھے تھے اور اپنے جسم کا حصہ سمجھ کر جیا تھا۔ ایسے بچے کی جدائی پر ماں کا ٹوٹ جانا پاگل پن نہیں، ایک ماں کا غم ہے۔ اور غم کو ڈانٹ کر خاموش نہیں کیا جاتا، محبت سے سہارا دیا جاتا ہے۔