Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

منگل اور بدھ کو ذبیحہ کیوں بند؟ تحریر:سید علی جبران نقوی

نقطہ نظر

پاکستان میں ہر ہفتے منگل اور بدھ کو گائے، بھینس، بکرے اور بھیڑ جیسے حلال جانوروں کے ذبیحے پر پابندی ایک ایسی روایت بن چکی ہے جس پر بہت کم لوگ سوال اٹھاتے ہیں۔ عام طور پر اسے مذہب، کسی تاریخی واقعے یا مقامی روایت سے جوڑ دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔ دستیاب قانونی اور تحقیقی ریکارڈ سے واضح ہوتا ہے کہ یہ اسلامی حکم نہیں بلکہ ریاستی قانون کے تحت عائد کی گئی پابندی ہے۔

پنجاب میں Punjab Animals Slaughter Control Act, 1963 کی دفعہ 3 کے تحت جانور کو منظور شدہ طریقۂ کار کے مطابق اور مذبح خانے میں ذبح کرنے کی پابندی ہے، جبکہ منگل اور بدھ کو ذبیحہ ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ یہی قانون بعض مخصوص حالات، مثلاً عیدالاضحیٰ اور ایسے جانور کے لیے استثنا بھی فراہم کرتا ہے جو بیماری یا چوٹ کے باعث مذبح خانے تک پہنچنے سے پہلے مرنے کے قریب ہو۔

اہم سوال یہ ہے کہ آخر منگل اور بدھ ہی کیوں؟

قانون کے متن میں ان دونوں دنوں کے انتخاب کی کوئی مذہبی وجہ بیان نہیں کی گئی۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ منگل یا بدھ کو جانور ذبح کرنا اسلام میں ممنوع ہے۔ حتیٰ کہ مذہبی حوالوں میں بھی اس پابندی کو اسلامی ممانعت قرار دینے کی تائید نہیں ملتی؛ دستیاب وضاحتوں میں اسے پاکستان میں مویشیوں کی کمی اور گوشت کی فراہمی کو منظم کرنے سے جوڑا گیا ہے۔

تاریخی اور معاشی تحقیق اس معاملے کو مزید واضح کرتی ہے۔ زرعی معاشیات کے ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق پاکستان میں منگل اور بدھ کو ’’meatless days‘‘ کا تصور 1950ء کی دہائی کے آخر میں سرخ گوشت کی قلت سے نمٹنے کے لیے متعارف ہوا تھا۔ بعد ازاں 1963 کے جانوروں کے ذبیحے سے متعلق قانون نے اس پابندی کو باقاعدہ قانونی شکل دی۔ ایک دوسرے تحقیقی تجزیے کے مطابق یہ پالیسی اس دور میں مویشیوں کی محدود فراہمی اور گوشت کی کھپت کو کم کرنے کے مقصد سے بنائی گئی تھی، جب پاکستان کی غذائی اور مویشیاتی صورتحال آج سے بہت مختلف تھی۔

یہاں ایک اور دلچسپ پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ سرکاری Trade Development Authority of Pakistan کی پاکستان کے گوشت کے شعبے سے متعلق حکمتِ عملی کی دستاویز بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ملک میں جانوروں کے ذبیحے اور گوشت کی تجارت کا قانونی نظام کئی دہائیوں پر محیط ہے، اور منگل و بدھ کو ذبیحے کی ممانعت اسی ریگولیٹری فریم ورک کا حصہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا 1960ء کی دہائی کی ضرورت آج بھی اسی شدت سے موجود ہے؟

پاکستان آج پہلے جیسا معاشی، زرعی اور مویشیاتی ملک نہیں رہا۔ گوشت کی پیداوار، کولڈ چین، فریزر، جدید مذبح خانے، نجی شعبے کی سرمایہ کاری، شہری آبادی اور صارفین کی ضروریات میں بہت بڑی تبدیلی آچکی ہے۔ اس کے باوجود قانون میں وہی دو دن برقرار ہیں۔ حتیٰ کہ پنجاب کے جدید مقامی حکومت کے ماڈل بائی لاز 2023 میں بھی منگل اور بدھ کو ذبیحے کی ممانعت برقرار رکھی گئی ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ گوشت کے شعبے کو مکمل طور پر بے قاعدہ چھوڑ دیا جائے۔ صحتِ عامہ، جانوروں کی بیماریوں کی روک تھام، حلال طریقۂ ذبح، مذبح خانوں کی صفائی، گوشت کے معیارات، جانوروں کی فلاح اور صارفین کے تحفظ کے لیے مضبوط قوانین یقیناً ضروری ہیں۔ لیکن قانون کا ہر حصہ وقت کے ساتھ جائزے کا محتاج ہوتا ہے۔

لہٰذا حکومتِ پنجاب اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ ماہرینِ حیوانات، معاشی ماہرین، قصاب برادری، صارفین، برآمد کنندگان اور مذہبی علما کی مشاورت سے یہ جائزہ لیں کہ منگل اور بدھ کی پابندی آج بھی عوامی مفاد میں ہے یا نہیں۔

اگر تحقیق یہ ثابت کرے کہ یہ پابندی اب اپنے اصل مقصد کے حصول کے بجائے قیمتوں، رسد، روزگار اور کاروبار میں غیر ضروری رکاوٹ بن رہی ہے تو اسے ختم یا تبدیل کرنے پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ منگل اور بدھ کو گوشت کیوں نہیں ملتا؛ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسی پابندی جو بنیادی طور پر ماضی کی معاشی ضرورت کے تحت وجود میں آئی تھی، کیا اسے آج بھی بغیر جائزے کے جاری رہنا چاہیے؟

ریاست کا کام صرف قانون بنانا نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے حالات میں قوانین کو عوامی مفاد، معیشت، صحت اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق پرکھتے رہنا بھی ہے۔