زاہدہ حنا, ایک عہد کی روشن آواز،تحریر : پروفیسر عامر زریں
نقطہ نظرایک عہد کی ادبی گواہ، ایک بے باک قلم اور انسانی دکھوں کی امین

اردو ادب میں بعض نام محض ادیبوں کے نام نہیں ہوتے، وہ ایک عہد کی شناخت بن جاتے ہیں۔ ان کے قلم سے نکلنے والے لفظ اپنے زمانے کی گواہی بھی دیتے ہیں، اپنے عہد کے دکھوں کو محفوظ بھی کرتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک فکری ورثہ بھی چھوڑ جاتے ہیں۔ زاہدہ حنا ایسا ہی ایک معتبر نام ہیں۔
آج جب ان کی علالت کی خبر اہلِ ادب کو تشویش میں مبتلا کرتی ہے تو دل چاہتا ہے کہ ان کی صحت یابی کی دعا کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی ہی میں ان کے فن، شخصیت اور ادبی خدمات کو سلام پیش کیا جائے۔ کیونکہ بڑے ادیبوں کو خراجِ تحسین صرف ان کے رخصت ہو جانے کے بعد دینا ہماری ادبی روایت کی ایک محرومی رہی ہے۔ زاہدہ حنا ان شخصیات میں سے ہیں جنہیں ان کی موجودگی میں یاد کیا جانا، پڑھا جانا اور سراہا جانا چاہیے۔
سہسرام سے کراچی تک
زاہدہ حنا 5 اکتوبر 1946ء کو بہار کے تاریخی شہر سہسرام میں پیدا ہوئیں۔ تقسیمِ ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان آگیا اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ ان کے بچپن اور خاندانی ماحول نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کے والد محمد ابوالخیر کو ادب، تاریخ اور علم سے گہری دلچسپی تھی، چنانچہ زاہدہ حنا نے کم عمری ہی میں اردو، فارسی اور کلاسیکی داستانوں سے شناسائی حاصل کرلی۔
وہ بتاتی ہیں کہ بچپن ہی سے کتاب ان کی زندگی کا حصہ بن گئی تھی۔ کم عمری میں کہانی لکھنے کا شوق پیدا ہوا اور نو برس کی عمر میں پہلی کہانی لکھنے کا ذکر بھی ان کی گفتگو میں ملتا ہے۔ ان کا پہلا باقاعدہ شائع شدہ افسانہ ’’فردوسِ گم شدہ‘‘ تھا، جو 1960ء کی دہائی کے اوائل میں شائع ہوا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب اردو ادب میں خواتین کے لیے تخلیقی اظہار کی راہیں آج کی نسبت کہیں زیادہ دشوار تھیں۔ زاہدہ حنا نے اس ماحول میں اپنا راستہ خود بنایا۔
صحافت: قلم کا دوسرا میدان
زاہدہ حنا نے صحافت کو بھی اپنے اظہار کا ایک اہم وسیلہ بنایا۔ وہ ریڈیو پاکستان، وائس آف امریکا اور بی بی سی اردو سے وابستہ رہیں۔ روزنامہ جنگ سے ان کی طویل وابستگی رہی اور بعد ازاں ایکسپریس سے بھی منسلک رہیں۔ ان کے کالموں نے انہیں ایک وسیع تر عوامی حلقے تک پہنچایا۔
کالم نگاری ان کے لیے محض روزمرہ سیاسی واقعات پر تبصرہ نہیں تھی۔ ان کے کالم میں تاریخ، تہذیب، انسانی حقوق، عورت، جنگ، آمریت، جمہوریت، سماجی ناانصافی اور عام انسان کا دکھ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
اسی لیے ان کی نثر میں صحافت اور ادب کے درمیان ایک خوب صورت رشتہ قائم ہوتا ہے۔ ان کا صحافی بولتا ہے تو ادیب کی حساسیت کے ساتھ، اور ان کا ادیب لکھتا ہے تو صحافی کی بیدار آنکھ کے ساتھ۔
افسانہ: تاریخ کے زخموں کی داستان
زاہدہ حنا کی اصل تخلیقی شناخت ان کے افسانوں سے بھی قائم ہوتی ہے۔ ان کے افسانوں میں تقسیمِ ہند، ہجرت، تہذیبی شکست و ریخت، عورت کی زندگی، جنگ، جبر، انسانی تنہائی اور تاریخ کے بے رحم عمل کی گہری بازگشت سنائی دیتی ہے۔
ان کے معروف افسانوی مجموعوں میں:
· قیدی سانس لیتا ہے — 1980ء
· راہ میں اجل ہے — 1986ء
· تتلیاں ڈھونڈنے والی — 1996ء
· رقصِ بسمل ہے — 2001ء
شامل ہیں۔ ان کے افسانوں اور ناولٹ ’’نہ جنوں رہا نہ پری رہی‘‘ — 1996ء — کو اردو فکشن میں خاص اہمیت حاصل ہوئی ہے۔
ان کے افسانوی فن کے بارے میں ممتاز افسانہ نگار انتظار حسین کا تبصرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے زاہدہ حنا کے افسانے پڑھ کر یہ محسوس کیا کہ وہ افسانہ محض لکھتی نہیں بلکہ اسے ایک پیچیدہ تخلیقی ساخت میں ’’پورتی‘‘ ہیں؛ ان کے نزدیک ان افسانوں کے کردار تاریخ کے جال میں گرفتار کردار ہیں اور ان کے کرب کا ایک اہم سرچشمہ ہجرت کا تجربہ ہے۔
یہ رائے زاہدہ حنا کے فکشن کی ایک بنیادی خصوصیت کی طرف اشارہ کرتی ہے: ان کے ہاں تاریخ محض پس منظر نہیں، کردار بن جاتی ہے۔
ایک اور تنقیدی مطالعے میں فخر الکریم نے ان کے افسانوں کو انتظار حسین اور قرۃ العین حیدر کی افسانوی روایت کی توسیع قرار دیتے ہوئے تقسیم، ہجرت، بے زمینی، وقت کے جبر اور انسانی زندگی کی بے ثباتی جیسے عناصر کی نشان دہی کی ہے۔
ناول: درد کا وسیع کینوس
زاہدہ حنا نے ناول نگاری میں بھی اپنی شناخت قائم کی۔ ان کے نمایاں ناولوں میں ’’درد کا شجر‘‘ — 1990ء — اور ’’دردِ آشوب‘‘ — 2005ء — شامل ہیں، جب کہ ’’نہ جنوں رہا نہ پری رہی‘‘ — 1996ء — کو ناولٹ کے طور پر بھی درج کیا گیا ہے۔
ان کے ناولوں میں ذاتی دکھ اجتماعی تجربے سے جڑ جاتا ہے۔ عورت کا دکھ صرف عورت کا دکھ نہیں رہتا بلکہ معاشرے، تاریخ، خاندان اور تہذیب کے پیچیدہ رشتوں کا استعارہ بن جاتا ہے۔
عورت: موضوع نہیں، مکمل انسان
زاہدہ حنا کے فکشن اور کالم دونوں میں عورت کی موجودگی نمایاں ہے، مگر ان کی عورت محض مظلوم کردار نہیں۔ وہ سوال اٹھاتی ہے، تاریخ کو سمجھتی ہے، اپنی شناخت تلاش کرتی ہے اور اپنے وجود کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق چاہتی ہے۔
ایک ادبی نشست میں زاہدہ حنا نے ’’معاصر افسانے میں عورت کی آواز‘‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ خواتین افسانہ نگاروں نے ایسے تلخ اور حساس موضوعات کو بھی قلم بند کیا جن پر مرد لکھنے والے بھی بعض اوقات ہچکچاتے رہے۔
یہی وجہ ہے کہ زاہدہ حنا کے ہاں نسائی شعور کسی نعرے کی صورت اختیار نہیں کرتا بلکہ انسانی تجربے میں جذب ہو کر سامنے آتا ہے۔
ڈراما نگاری اور ’’زرد پتوں کا بن‘‘
زاہدہ حنا نے ٹیلی ویژن کے لیے بھی متعدد ڈرامے لکھے۔ ان کے معروف ڈراموں میں ’’زرد پتوں کا بن‘‘ — 1980ء کی دہائی —، ’’یہ کیسی زندگی‘‘، ’’خواب مرتے نہیں‘‘، ’’پرستار‘‘، ’’دوسری دنیا‘‘ اور ’’مٹھی بھر خوشی‘‘ شامل ہیں۔
خاص طور پر ’’زرد پتوں کا بن‘‘ ان کی ڈراما نگاری کے حوالے سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور ان کے وسیع تخلیقی دائرے کا ثبوت ہے۔
نثر کے علاوہ ترجمے اور عالمی رسائی
زاہدہ حنا کی تخلیقات اردو کی حدود تک محدود نہیں رہیں۔ ان کے افسانوں کے تراجم انگریزی، ہندی، بنگالی، مراٹھی اور دیگر زبانوں میں ہوئے۔ ان کے افسانوں کے انگریزی تراجم میں محمد عمر میمن اور ثمینہ رحمان کے نام آتے ہیں، جب کہ فیض احمد فیض نے بھی ان کے ایک افسانے کا انگریزی ترجمہ کیا تھا۔
ان کے چودہ افسانوں کا انگریزی مجموعہ The House of Loneliness — 2008ء — بھی شائع ہوا، جس نے ان کے فکشن کو وسیع تر قارئین تک پہنچایا۔
یہ کسی بھی افسانہ نگار کے لیے معمولی بات نہیں کہ اس کی تخلیقی آواز زبان کی سرحد عبور کرکے دوسری زبانوں کے قارئین تک پہنچے۔
مضامین اور فکری نثر
زاہدہ حنا کی ادبی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو ان کی فکری اور مضمون نگاری ہے۔ ان کی کتابوں میں ’’عورت: زندگی کا زنداں‘‘ — 1997ء —، ’’ضمیر کی آواز‘‘ — 2002ء — اور ’’امیدِ سحر کی بات سنو‘‘ — 2010ء — جیسے مجموعے شامل ہیں۔
ان تحریروں میں وہ اپنے عہد کے سوالات سے مکالمہ کرتی ہیں۔ ان کے ہاں ادب زندگی سے الگ کوئی جزیرہ نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے کا وسیلہ ہے۔
اعزازات: اعتراف بھی، اختلاف بھی
زاہدہ حنا کو ان کی ادبی و صحافتی خدمات کے اعتراف میں متعدد اعزازات سے نوازا گیا۔ ان میں فیض ایوارڈ، ادبی پرفارمنس ایوارڈ، ساغر صدیقی ادبی ایوارڈ، کے پی ایوارڈ، سندھ اسپیکر ایوارڈ اور سارک لٹریری ایوارڈ جیسے اعزازات شامل ہیں۔
ان کی زندگی کا ایک اہم واقعہ 2006ء میں سامنے آیا جب حکومتِ پاکستان نے انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس دینے کا اعلان کیا۔ دستیاب مآخذ کے مطابق انہوں نے اس وقت کی فوجی حکومت کے خلاف احتجاجاً یہ اعزاز قبول نہیں کیا۔ بعد میں جمہوری دور میں انہیں ستارۂ امتیاز بھی عطا کیا گیا۔
یہ واقعہ ان کی شخصیت کے اس پہلو کو نمایاں کرتا ہے جس میں ادیب اپنے قلم اور اپنے اصول کے درمیان تعلق کو محض ذاتی مفاد سے بالاتر سمجھتا ہے۔
زاہدہ حنا اور جون ایلیا
زاہدہ حنا کی زندگی کا ایک معروف باب شاعر جون ایلیا کے ساتھ ان کی ازدواجی رفاقت بھی ہے۔ دونوں کی شادی 1970ء میں ہوئی اور ان کے تین بچے ہوئے۔ بعد ازاں یہ رشتہ اختتام کو پہنچا۔
لیکن زاہدہ حنا کی ادبی شناخت کو صرف جون ایلیا کے حوالے سے دیکھنا ان کے اپنے تخلیقی قد کو محدود کرنا ہوگا۔ وہ اپنی مستقل ادبی آواز، اپنے فکری مزاج اور اپنے منفرد اسلوب کے باعث اردو ادب میں ایک الگ مقام رکھتی ہیں۔
’’زاہدہ حنا‘‘: ایک نام، کئی جہتیں
زاہدہ حنا کو صرف افسانہ نگار کہنا ان کے فن کو محدود کرنا ہے۔
وہ افسانہ نگار بھی ہیں، ناول نگار بھی؛ کالم نگار بھی ہیں، مضمون نویس بھی؛ ڈراما نگار بھی ہیں اور ایک صاحبِ فکر دانش ور بھی۔
ان کے قلم کا بنیادی مرکز انسان ہے۔ کبھی وہ تاریخ کے ملبے میں انسان کو تلاش کرتی ہیں، کبھی ہجرت کے دکھ میں، کبھی عورت کی خاموشی میں، کبھی سیاسی جبر کے اندھیرے میں اور کبھی ایک ایسے خواب میں جو مسلسل شکست کے باوجود زندہ رہتا ہے۔
اسی لیے ان کے ہاں ’’درد‘‘ محض ذاتی کیفیت نہیں؛ وہ ایک تہذیبی اور انسانی تجربہ بن جاتا ہے۔
آج جب زاہدہ حنا علیل ہیں...
آج جب زاہدہ حنا علیل ہیں تو یہ وقت صرف ان کی صحت یابی کے لیے دعا کرنے کا نہیں بلکہ اپنے ادبی حافظے کو بھی ٹٹولنے کا ہے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے عہد کے ادیب ہمارے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی ہمارے ادبی حافظے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ زاہدہ حنا نے نصف صدی سے زیادہ عرصے تک اردو زبان کو اپنا وقت، اپنی فکر، اپنی حساسیت اور اپنی بے باکی دی ہے۔
ان کا قلم ان لوگوں کے لیے اٹھا جن کی آواز کمزور تھی۔ ان کے افسانوں نے تاریخ کے زخمی کرداروں کو زبان دی۔ ان کے کالموں نے عہدِ حاضر کے سوالات سے مکالمہ کیا۔ ان کی عورت نے خاموش رہنے سے انکار کیا۔ ان کی تاریخ نے ماضی کو حال کے آئینے میں دیکھا۔
اور یہی کسی بڑے ادیب کی پہچان ہے کہ اس کا زمانہ گزر جاتا ہے مگر اس کے سوال باقی رہتے ہیں۔
زاہدہ حنا کے لیے اس موقع پر سب سے خوب صورت خراج شاید یہی ہے کہ ہم ان کی کتابیں دوبارہ کھولیں، ان کے افسانے پڑھیں، ان کے کالم تلاش کریں اور ان کی آواز کو نئی نسل تک پہنچائیں۔
کیونکہ ادیب کی زندگی صرف اس کی سانسوں کا نام نہیں؛ اس کی اصل زندگی اس لفظ میں ہوتی ہے جو وہ اپنے بعد چھوڑ جاتا ہے۔
زاہدہ حنا نے ایسے بہت سے لفظ چھوڑے ہیں۔
دعا ہے کہ یہ قلم ابھی اور لکھے،
یہ آواز ابھی اور سنائی دے،
یہ چراغ ابھی اور روشن رہے۔
اللہ تعالیٰ زاہدہ حنا کو صحت، عافیت اور توانائی عطا فرمائے۔
اور اردو ادب کو ان کی موجودگی کا یہ چراغ مدتوں نصیب رہے۔
اختتاماً یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ زاہدہ حنا کی ادبی زندگی محض کتابوں، کالموں اور ڈراموں کی فہرست نہیں بلکہ ایک مسلسل اخلاقی اور انسانی جدوجہد کا نام ہے۔ انہوں نے 1960ء کی دہائی سے آج تک اپنے قلم کو تاریخ کے مظلوموں، عورتوں، مہاجروں، جنگ زدہ انسانوں اور خاموش طبقات کی آواز بنایا۔ ان کی تصانیف کے سنِ اشاعت اس تخلیقی سفر کے مختلف سنگِ میل ہیں، مگر ان کے فن کی اصل قدر ان سوالات میں ہے جو ہر دور میں نئے معنی کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں۔
زاہدہ حنا نے ہمیں یہ سکھایا کہ ادب صرف خوب صورت جملے لکھنے کا نام نہیں؛ ادب اپنے عہد کی سچائی کو پہچاننے، اسے محفوظ کرنے اور انسان کے حق میں آواز بلند کرنے کا نام بھی ہے۔ ان کی تحریریں آنے والے زمانوں میں بھی اس لیے پڑھی جائیں گی کہ ان میں تاریخ کا دکھ، انسان کی امید اور ضمیر کی بیداری ایک ساتھ موجود ہے۔ یہی ان کی سب سے بڑی ادبی خدمت اور ان کے نام کا سب سے روشن حوالہ ہے۔
مزید پڑھیں




