زندگی کبھی کبھی انسان کے سامنے ایسے سوال رکھ دیتی ہے جن کے جواب الفاظ میں نہیں، عمل میں دینا پڑتے ہیں۔ کچھ لوگ حالات کی سختی کے سامنے شکست تسلیم کر لیتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مشکلات کی بلند دیواروں میں اپنے عزم سے راستہ پیدا کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ صرف اپنی زندگی نہیں جیتے، بلکہ دوسروں کے لیے بھی امید کا چراغ روشن کر جاتے ہیں۔ پال الیگزینڈر بھی انہی غیر معمولی انسانوں میں سے ایک تھا، جس کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ زندگی آسان ہونے کا نام نہیں، بلکہ دشواریوں کے باوجود آگے بڑھتے رہنے کا نام ہے۔
1950ء میں امریکا میں پولیو کی وبا پھیلی تو چھ سالہ پال الیگزینڈر بھی اس موذی بیماری کا شکار ہوگیا۔ بیماری نے چند ہی دنوں میں اس کے جسم کو مفلوج کر دیا۔ گردن کے نیچے اس کا جسم حرکت سے محروم ہوگیا اور پھیپھڑے بھی اس قابل نہ رہے کہ وہ ازخود سانس لے سکے۔ یوں کھیلنے، دوڑنے اور خواب دیکھنے کی عمر میں وہ ایک ایسی مشین کا محتاج ہوگیا جسے ’’آئرن لنگ‘‘ کہا جاتا تھا۔
آئرن لنگ ایک ایسی مشین تھی جو منفی دباؤ کے ذریعے اسے سانس لینے میں مدد دیتی تھی۔ پال کا طویل عرصہ اسی دھاتی سلنڈر کے اندر گزرا۔ تصور کیجیے، جس عمر میں ایک بچہ کھلے میدانوں میں دوڑتا، آسمان کو چھونے کے خواب دیکھتا اور زندگی کی رنگینیوں سے آشنا ہوتا ہے، اسی عمر میں پال کی دنیا چند فٹ کے ایک دھاتی حصار تک محدود ہوگئی تھی۔ مگر جسم کی یہ قید اس کے عزم کو قید نہ کرسکی۔
پال نے اپنی معذوری کو اپنی تقدیر کا آخری جملہ ماننے سے انکار کردیا۔
اس کے سامنے دو راستے تھے۔ ایک یہ کہ وہ اپنی محرومیوں کو اپنی شناخت بنا لیتا اور حالات کے رحم و کرم پر زندگی گزار دیتا۔ دوسرا یہ کہ وہ اپنی محدود دنیا کے اندر رہتے ہوئے بھی امکانات تلاش کرتا۔ پال نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ اس نے تعلیم حاصل کی، کالج کی ڈگری حاصل کی، قانون پڑھا اور وکیل بنا۔ اس نے ٹائپ کرنا بھی سیکھا۔ منہ میں ایک چھوٹی سی چھڑی تھام کر وہ کی بورڈ کے بٹن دباتا اور اپنے خیالات کو الفاظ میں ڈھالتا رہا۔
اس کی جدوجہد کا سفر یہاں بھی نہیں رکا۔ اس نے اپنی زندگی کے تجربات کو کتاب کی صورت میں محفوظ کیا۔ اس کی کتاب “Three Minutes for a Dog” اس بات کی علامت ہے کہ انسان کے امکانات اس کے جسم کی حدود سے کہیں وسیع ہوسکتے ہیں۔ اس نے سفر کیے، لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اپنی زندگی کو ان افراد کے لیے امید کا پیغام بنا دیا جو مشکلات کے سامنے خود کو بے بس سمجھ بیٹھتے ہیں۔
2024ء میں پال الیگزینڈر اس دنیا سے رخصت ہوگیا، مگر اس کی زندگی اپنے پیچھے ایک ایسا سوال چھوڑ گئی جو آج بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے:
ہمیں زندگی سے شکایت آخر کس بات کی ہے؟
ہم میں سے کتنے لوگ معمولی مشکلات پر ہمت ہار جاتے ہیں۔ کبھی وسائل کم ہوں تو خواب چھوڑ دیتے ہیں، کبھی راستے دشوار ہوں تو منزل بھول جاتے ہیں، اور کبھی کسی کی ایک تلخ بات ہمارے حوصلے کو شکست دے دیتی ہے۔ ہم اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار حالات کو ٹھہرا دیتے ہیں، حالانکہ حالات ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے، لیکن حالات کے سامنے ہمارا رویہ ضرور ہمارے اختیار میں ہوتا ہے۔
پال الیگزینڈر کی زندگی ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ مشکلات ختم ہوجاتی ہیں؛ وہ تو زندگی کا حصہ ہیں۔ وہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مشکلات کے باوجود انسان اپنے مقصد کو زندہ رکھ سکتا ہے۔ اصل طاقت ہمیشہ جسم کی طاقت نہیں ہوتی، بعض اوقات ایک مضبوط ارادہ کمزور جسم سے بھی بڑے معرکے سر کر لیتا ہے۔
زندگی اگر آپ سے بہت کچھ چھین لے تو بھی اپنے خواب مت چھوڑیے۔ دروازہ بند ہو تو دستک دیجیے، راستہ رک جائے تو نیا راستہ تلاش کیجیے، اور اگر قدم آگے بڑھانے سے قاصر ہوں تو اپنے ارادوں کو پرواز دیجیے۔
کیونکہ انسان حالات سے نہیں، اکثر اپنے اندر کی شکست سے ہارتا ہے۔ جس دل میں امید کا چراغ روشن ہو، وہاں اندھیرے کبھی مستقل نہیں رہتے۔
پال الیگزینڈر آج ہمارے درمیان نہیں، مگر اس کی زندگی کا پیغام آج بھی زندہ ہے:
شکوے کم کیجیے، راستے تلاش کیجیے؛
زندگی ہارنے کے لیے نہیں، اپنے حصے کی روشنی پیدا کرنے کے لیے ملی ہے۔
مزید پڑھیں






