وائرس انسان کا تیار کردہ یا جینیاتی تبدیلی کا نتیجہ نہیں، امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ: ٹرمپ سچا یا پھرچین بے گناہ

واشنگٹن :وائرس انسان کا تیار کردہ یا جینیاتی تبدیلی کا نتیجہ نہیں، امریکی انٹیلی جنس کی رپورٹ ٹرمپ سچا یا پھرچین بے گناہ ،طلاعات کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے کہا ہے کورونا وائرس ‘انسانوں کا تیار کردہ یا جینیاتی طور پر تبدیل کرکے نہیں بنایا‘ گیا۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ لیکن ابھی بھی اس بات کی تحقیق کر رہے ہیں کہ وائرس کا جانوروں سے کوئی تعلق بنتا ہے یا نہیں اور یہ کہ ’کیا کوئی حادثہ چینی لیب میں پیش آیا؟‘

ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر کی جانب سے جاری بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے اتحادیوں نے یہ چین کے صوبے ووہان کی لیب سے عالمی وبا نے جنم لیا،واضح رہے کہ کورونا وائرس سے تاحال 2 لاکھ 20 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ متعدد دفعہ ٹرمپ انتظامیہ چین پر الزام لگا چکی ہے کہ سیاسی دشمنی اور تجارتی محاذ آرائی کی وجہ سے وائرس پھیلایا گیا۔امریکی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے اس امر پر زور دیا کہ وہ سختی سے اس بات کی جانچ پڑتال کریں گے کہ یہ وبا متاثرہ جانوروں سے پھیلی یا ووہان کی لیبارٹری میں ہونے والے کسی حادثے کا نتیجہ ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ کورونا وائرس چین کے شہر ووہان سے پوری دنیا میں پھیلا اس لیے چین سے نقصانات کا ہرجانہ طلب کرسکتے ہیں جو بڑی رقم ہوسکتی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران کہا تھا کہ ‘ہم چین سے خوش نہیں ہیں، ہم پوری صورت حال سے خوش نہیں ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں اس کو روکا جاسکتا تھا’۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس گزشتہ برس دسمبر میں چین میں سامنے آیا تھا جہاں ہوبے کے شہر ووہان میں ہزاروں افراد متاثر اور ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد چینی حکومت نے حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے طویل لاک ڈاؤن کیا تھا۔
چین نے سخت اقدامات کے بعد کورونا وائرس پر قابو پالیا اور اب معاشی سرگرمیاں بحال ہوچکی لیکن حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے۔کورونا وائرس رواں برس کے اوائل میں ہی چین کے بعد دیگر ممالک میں بھی پھیل گیا اور سب سے زیادہ براعظم یورپ متاثر ہوا جہاں اسپین اور اٹلی میں لاکھوں متاثرین رپورٹ ہوئے اور ہزاروں اموات ہوئی۔

لاک ڈاؤن کے باعث امریکی معیشت مشکلات کا شکار ہے اور حالیہ دنوں میں امریکی تیل کی قیمت بھی عالمی مارکیٹ میں ریکارڈ منفی پر چلی گئی ہے جس کو ماہرین غلط شگون قرار دے رہے ہیں۔ٹرمپ نے مطالبہ کیا تھا کہ چین وائرس کی تفتیش کے لیے آزادانہ تحقیقات کی اجازت دے تاکہ اس بات کا تعین کیا جاسکے کہ لیبارٹری میں وائرس تیار کیا گیا یا نہیں۔امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو بھی ان مطالبات کو دہرا چکے ہیں کہ چین حساس لیبارٹری تک رسائی کی اجازت دے تاکہ عالمی سطح پر آزادانہ تحقیقات کی جاسکیں۔

دوسری جانب چین نے ان مطالبات کو سیاسی حربہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا اور برطانیہ میں چین کے سفارت کار چین وین نے کہا تھا کہ ہمارا ملک کسی قسم کی عالمی تفتیش کو تسلیم نہیں کرسکتا کیونکہ ‘آزاد تحقیقات کا مطالبہ سیاسی ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم اس وقت وائرس سے لڑ رہے ہیں اور ہماری تمام تر کوششوں کا مرکز وائرس کے خلاف لڑنا ہے اور ایسے موقع پر تحقیقات کی بات کیوں کی جاتی ہے’۔ تحقیقات کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘اس سے نہ صرف توجہ ہٹ جائے گی بلکہ وسائل بھی تقسیم ہوجائیں گے’۔

دوسری جانب ووہان کے انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس میں کوئی صداقت نہیں کہ کورونا وائرس کو ان کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔

ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کے سربراہ ڈاکٹر یوآن زمنگ نے کورونا وائرس کو لیبارٹری میں تیار کرنے کے سازشی مفروضوں کو مسترد کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ناممکن اور جھوٹ ہے کہ کورونا کو ہمارے ادارے کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔

ڈاکٹر یوآن زمنگ کا کہنا تھا کہ یہ گمراہ کن باتیں ہیں کہ کورونا کو ہماری لیبارٹری میں تیار کیا گیا، ایسی باتیں پھیلا کر لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے، ایسا ممکن ہی نہیں کہ کورونا ہماری لیبارٹری میں تیار ہوا ہو، اس کے کوئی بھی ثبوت نہیں ہیں اور ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.