وفا و فلاح کے پیکر…!!!قسط:2 ؛ تحریر:جویریہ چوہدری

وفا و فلاح کے پیکر…!!![قسط:2]
(تحریر:جویریہ چوہدری)
وہ مظالم اتنے شدید تھے کہ جنہیں دیکھ کر انسان کانپ جائے
یہ وہ ہستیاں تھیں جنہوں نے اسلام قبول کر کے وفا کا حق ادا کر دیا اور ظلم کے ہر حربے کو ایمان کی گرمائش سے پگھلا دیا…
انہوں نے جان لیا تھا کہ جنت کا راستہ مصائب و تکالیف سے بھرا ہوا ہے…
یہ آزمائش اور امتحان کا راستہ ہے…
یاں قدم بہ قدم رکاوٹیں کھڑی ہیں…
راہِ وفا میں ہر سو کانٹے،دھوپ زیادہ،سائے کم…
اسی انداز میں وقت گزر رہا تھا کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ان پیکرانِ وفا کو مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا…
یہ قافلۂ ہجرت جب مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کی طرف گامزن ہونے لگا تو وہ وقت بھی کوئی پھولوں کا راستہ ہر گز نہ تھا…!!!
آزمائش کے در ابھی کھلتے ہی جا رہے تھے…
جن سے گزرتے گزرتے اس قافلہ نے کندن بننا تھا…
رہتی دنیا تک کے لیئے مثال بننا تھا…
حضرت صہیب نے بھی ہجرت کا پختہ ارادہ کر لیا…
کہ اب وہ بھی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مدینہ پہنچ کر ہی دم لیں گے…
اُدھر قریش کو بھی صہیب رضی اللہ عنہ کے ارادے کا علم ہو چکا تھا۔۔۔
چنانچہ انہوں نے بھی جاسوس پھیلا دیئے تاکہ صہیب اپنے سامانِ تجارت اور سونے،چاندی کے ہمراہ مکہ کی حدود سے کہیں باہر نکل نہ جائے…
مگر حضرت صہیب بھی رسول اللہ اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہجرت کے بعد ایسے موقع کی تلاش میں تھے کہ کب وہ ان جاسوسوں کی نگرانی اور تعاقب کرتی آنکھوں سے بچ بچا کر ہجرت کر جائیں…
آخر کار ایک رات حضرت صہیب بار بار گھر سے باہر نکلتے اور داخل ہوتے رہے،
اس اضطراری کیفیت کو دیکھ کر قریش مکہ کے جاسوس مطمئن سے ہو گئے کہ لات و عزیٰ نے آج اسے پیٹ کی سخت تکلیف میں مبتلا کر دیا ہے…
حضرت صہیب نے ان کی اس صورت حال کو بھانپ لیا اور وہاں سے فوراً نکل جانے کا سوچا…
لیکن ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ نگرانی پر متعین لوگ ہڑبڑا کر اُٹھے،
آپ کو وہاں نہ پاکر اپنے تیزرفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر انہیں سرپٹ دوڑا دیا…
حضرت صہیب بھی اس صورت حال کو سمجھ گئے…
آہٹیں سنتے ہی ایک ٹیلے پر چڑھ گئے…
ترکش سے تیر نکالا اور کمان پر چڑھا کر اپنا تعاقب کرنے والوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگے:
اے قریش !!
تم جانتے ہو کہ میں سب لوگوں سے بڑھ کر تیر انداز ہوں،میرا نشانہ کبھی خطا نہیں جاتا…
اس لیئے یاد رکھنا کہ تم مجھ تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتے جب تک میں تمہارے اتنے آدمی قتل نہ کر دوں جتنے میرے ترکش میں تیر ہیں،
جب تیر ختم ہو گئے تو میں تلوار سے تمہاری گردنیں اُڑاؤں گا…
غرض یہ معرکہ آرائی اس وقت تک جاری رہے گی،جب تک میرے ان بازوؤں میں طاقت ہے،
اللّٰہ کی قسم تم تب تک میرے قریب نہیں پہنچ سکتے…!!!

وفا و فلاح کے پیکر ، قسط:1 ؛جویریہ چوہدری

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.