fbpx

‏وقت، سب سے بڑی عدالت . تحریر:عامر سہیل

جب انصاف کا معیار غریب کے لیے الگ اور امیر کے لیے الگ ہو جائے ۔ غریب مجبور اور بے بس کے ساتھ انصاف کے تقاضے اور سلوک جب انصاف پر مبنی نہ رہیں بلکہ دولت اور تعلقات کے پلڑے میں تولے ہوئے فیصلے ہوں تو بے بس غریب لاچار لوگ اللہ کی مقرر کردہ وقت کی عدالت میں اپیل دائر کرتے ہیں ۔ وقت کی عدالت میں وکیل کے فرائض وہ بددعائیں ہوتی ہیں جو بے بس اور مجبور لوگوں کے دلوں سے آنسوؤں کے ساتھ نکلتی ہیں ۔ پھر اللہ کے حکم سے وقت کی عدالت سے فیصلہ جاری ہوتا ہے ۔ وہ فیصلہ اپنے مقررہ وقت پہ جاری ہوتا ہے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ اللہ جو فیصلہ وقت کی عدالت کے ذریعے کرتا ہے اس وقت کی عدالت کے فیصلے خلاف اپیل نہیں نہیں کی جا سکتی.

وہ فیصلہ کیسا ہوتا ہے ؟
جب ظالم ، سفاک لوگ کسی غریب کی جائیداد پہ طاقت کے بل بوتے پہ قبضہ کر لیتے ہیں اور عدالت سے فیصلہ اپنے حق میں خرید لیتے ہیں
جب ظالم امیر لوگ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے ناجائز منافع کی صورت میں غریب کی جیب پہ ڈاکہ ڈالتے ہیں۔
جب بیوروکریٹ رشوت اور کک بیکس سے ناجائز دولت جمع کر لیتے ہیں
جب سیاستدان اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دولت جمع کر لیتے ہیں
جب کوئی سفاک کسی معصوم کے ساتھ درندگی کر کے اسے قتل کردیتا ہے
جب غریب رشتے داروں کا حق مار لیا جاتا ہے
جب بے گناہ قتل کیا جاتا ہے

اس طرح کے ہزاروں واقعات کے گواہ ہونے کے باوجود انصاف بک جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے وقت فیصلے کرتا ہے
ظالم اور سفاک لوگوں کے پاس دولت کے انبار ہوتے ہیں لیکن اس میں سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ بیماری ایسی لگ جاتی ہے کہ زندگی صرف بستر تک رہ جاتی ہے ۔ ایک لباس ایک کمبل ایک تکیہ نہ جوتے کی ضرورت نہ استری شدہ کپڑوں کی ضرورت، نہ گاڑیوں بنگلوں کی ضرورت۔ایسا عذاب کہ جس کا علاج ممکن نہیں ہوتا
الماریاں کپڑوں سے بھری ہوتی ہیں لیکن کپڑے پہن نہیں سکتے کہ جسم پہ خارش شروع ہوجاتی ہے ۔ یا جسم اکڑا ہوا ہوتا ہے کہ حرکت نہیں کر سکتا۔

مخمل کے کروڑوں روپے کے نرم نرم بستر ہوتے ہیں لیکن سو نہیں سکتے ۔ نیند کی گولیاں کھاتے ہیں پھر بھی نیند نہیں آتی ۔ بے چینی ایسی رہتی ہے کہ سکون برباد ہو جاتا ہے ۔
ہزاروں طرح کی ڈشیں ڈائننگ ٹیبل پہ ہوتی ہیں لیکن کھا نہیں سکتے
ہر ماہ خون نکلوانا پڑتا ہے کہ بلڈ پریشر نہ بڑھ جائے اور موت واقع نہ ہو جائے
کپڑوں میں پاخانہ نکل جاتا ہے لیکن باتھ روم جانے کی سکت نہیں ہوتی ۔ کسی کے محتاج ہو جاتے ہیں کہ گندگی کو کوئی صاف کرے ۔
ہزاروں جوتوں کے جوڑے ہوتے ہیں لیکن شوگر سے پاؤں پھول چکے ہوتے ہیں کہ جوتے پہن نہیں سکتے بولنا چاہتے ہیں لیکن فالج زدہ زبان سے آواز نہیں نکلتی اولاد معذور پیدا ہوتی ہے جس کو دیکھ کے ساری زندگی تڑپتے رہتے ہیں لیکن علاج نہیں ملتا۔
گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ایسی حرکت کرتا ہے کہ معاشرے میں سر جھک جاتے ہیں۔ اپنا گھر بار چھوڑ کے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ عزت خاک میں مل جاتی ہے۔ سب کچھ ہوتا ہے لیکن گلی کے کتے بھی سلام نہیں کرتے موت آتی ہے تو کوئی لاش کو دفنانے والا نہیں ملتا
بیماری ایسی آتی ہے کہ تڑپ تڑپ کے روز مرتے ہیں۔ موت کی دعائیں مانگتے ہیں لیکن موت نہیں آتی۔

بے شک اللہ کی لاٹھی بہت بے آواز ہے۔ جس ظالم پہ پڑ جائے اسے عبرت کا نشان بنا دیتی ہے۔
وقت کی عدالت کا انصاف بہت بے رحم ہوتا ہے ۔۔ اپیل کی گنجائش نہیں ہوتی.

@iAmir29