fbpx

روس امن چاہتا ہے یا جنگ؟ خود فیصلہ کرے:امریکہ

برسلز:امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے برسلز میں روس نیٹو کونسل کے اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں کا خیال ہے کہ روس کو کشیدگی میں کمی اور محاذ آرائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم روس کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں، اس ہفتے دوطرفہ اور کثیرالجہتی مصروفیات کی تیز رفتاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اور ہمارے اتحادی اور شراکت دار ہمارے ارادوں کی تصدیق کرتے ہیں۔

شرمین نے زور دیا کہ روس کو ایک سخت انتخاب کرنا ہے اور وہ یہ کہ تناؤ اور سفارت کاری یا محاذ آرائی وہ کیا چاہتا ہے؟ اور اس کے نتائج سے ہم واقف ہیں۔

امریکا کا کہنا ہے کہ روس یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کررہا ہے۔ادھر اس حوالے سے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی کا پریس بریفنگ میں کہنا تھا کہ روس ایسا ماحول بنا رہا ہے کہ کسی بھی وجہ کوبنیاد بنا کریوکرین میں حارجیت کرسکے۔یہ وہی حکمت عملی ہے جوروس نے 2014 میں کریمیا میں اختیار کی تھی۔

امریکی حکام کے مطابق روس مشرقی یوکرین میں فالس فلیگ آپریشن کے لئے پہلے ہی اپنے گروپ تعینات کرچکا ہے۔ان گروپس کو شہری علاقوں میں کارروائیوں کی خصوصی تربیت دی گئی ہے اور یہ دھماکہ خیز مواد سے روس کی اپنی پروکسی فورسز کونشانہ بنائیں گے تاکہ بدامنی اورافراتفری پھیل سکے۔

ادھر امریکہ میں تعینات روسی سفیر اناتولی انتونوف نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتیں،

روس کے سفیر اناتولی انتونوف کا میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کی جانب سے روس کے خلاف نئی پابندیوں کا مطالبہ بشمول ملک کی قیادت پر پابندیاں ماسکو کو خوفزدہ نہیں کریں گی۔

روسی سفارت خانے کے فیس بک پیج پر شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کیپیٹل ہل پر روس مخالف پابندیوں کے ساتھ ساتھ روسی فیڈریشن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف ذاتی پابندیاں متعارف کروانے کے مطالبات اشتعال انگیز اور ناامید ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت امریکہ کی اپاہج پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں یوکرائنی تنازعے پر جینوا میں ہونے والے روس امریکا کے اعلیٰ سطح مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے تھے۔

روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سلامتی کی ضمانتوں پر روس امریکہ کی مشاورت کے بعد کہا کہ روس اور امریکہ نیٹو کی مشرق کی جانب مزید توسیع کو روکنے کے معاملات پر کسی پیش رفت تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔