وزیراعظم پاکستان کے حکم پر میانوالی میں ہزاروں گھر گرانے کا حکم نامہ جاری۔

0
56

وزیراعظم پاکستان کے حکم پر میانوالی میں ہزاروں گھر گرانے کا حکم نامہ جاری۔

وزیراعظم پاکستان کے حکم پر میانوالی میں ہزاروں گھر گرانے کا حکم نامہ جاری غریبوں کو پچاس لاکھ گھر دینے کا وعدہ پورا تو نہ ہوا مگر غریبوں سے گھر چھینے کا عمل شروع ہوگیا۔

باغی ٹی کراچی کے نمائندے کو میانوالی کے رہائشی علی احمد نے بتایا کہ 40 کنال سے شروع ہونے والی بات 4 ہزار کنال تک جا پہنچی لیکن پھر بھی غریبوں کا جینا حرام ۔وزیراعظم کی نمل یونیورسٹی کے آس پاس آبادیوں کو گرانے کا حکم 100سالوں سے رہائش پذیر فقیر برادری کے گھر گرانے کی تیاریاں مکمل ۔
نمل یونیورسٹی میانوالی کے آس پاس آبادیوں کو مسمار کرنے کا حکم خون پسینے کی کمائی اور عمر بھر کی جمع پونجی لٹا کر انسان آپنا گھر بناتا ہے لیکن اب لوگوں کے کروڑوں روپے مالیت کے گھر گرا کر لوگوں کو گھروں سے محروم کیا جارہا ہے 100 سالوں سے ایک ہی جگہ پر قابض افراد کو محکمہ اوقاف کی جگہ ظاہر کرکے غریبوں کے گھر گرائے جارہے ہیں اور بے دخل کیا جارہا ہے میانوالی کے نواحی علاقے رکھی نمل یونیورسٹی کے آس پاس بابا حافظ جی دربار کے ساتھ 100 سالوں سے رہائش پزیر فقیر برادری کو میانوالی کی مقامی ضلعی انتظامیہ نے گھر خالی کرنے کے نوٹس جاری کردیئے ہیں ۔

نئے پاکستان میں وزیراعظم کے آپنے حلقے میں عوام سے چھت بھی چھینی جارہی ہے اور تجاوزات کی آڑ میں لوگوں کے گھر مسمار کیئے جارہے ہیں عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ تجاوزات کا بہانہ بنا کر نمل یونیورسٹی کے نام زمین انتقال کرنے کا پروگرام بنایا جارہا ہے جسکی وجہ سے کئی نسلوں سے آباد درجنوں گھروں پر مشتمل آبادی کو مسمار کیا جائے گا ۔
نمل یونیورسٹی کے نام پر پہلے بھی ہزاروں کنال اراضی موجود ہے اور پاکستان میں آگر نیب نامی ادارہ واقعی آزاد ہے تو نمل یونیورسٹی کے نام ہونے والی ہزاروں کنال زمین کا ریکارڈ دیکھا جائے یہ کیس پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا میگا سکینڈل ثابت ہوگا اب نمل یونیورسٹی کے آس پاس رہائش پذیر لوگوں پر زمین تنگ کی جارہی ہے اور تجاوزات کا بہانہ بنا کر لوگوں کے گھروں کو گرایا جارہا ہے
آنے والے دنوں میں رکھی اور نمل کے لوگوں کو بھی تنگ کیا جائے گا اور یوں تعلیم کے نام پر قائم اس ادارے کی آڑ میں لوگوں کو زبردستی نکال دیا جائے گا بہت سے لوگوں کو یاد ہوگا کہ وزیراعظم نے اقتدار میں آنے سے پہلے سیلو برادری کو دھمکیاں دی تھیں اور کہا تھا کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت آئے گی تو میں سیکشن 4 کے تحت زمین پر قبضہ کرلوں گا اور اب وہاں پر سٹیڈیم کی تعمیر جارہی ہے۔

Leave a reply