لاہور:سکندر جب گیا دنیا سے، دونوں ہاتھ خالی تھے:سیٹھ عابد وفات پاگئے،اطلاعات کے مطابق معروف صنعت کاراورسماجی شخصیت سیٹھ عابد قضائے الہٰی سے وفات پاگئے ہیں‌

سیٹھ عابد کا تعلق قصورشہر سے ہے اوران کے والد کراچی کی صرافہ مارکیٹ کے بہت بڑے مشہورشخص تھے

سیٹھ عابد کے بارے میں بہت سی کہانیاں رقم ہیں ماضی میں ان کے بارے میں کئی قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ لاہور میں واقع ایک بڑی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالکان میں سے ہیں اور کچھ خیراتی ادارے بھی چلاتے ہیں۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی خبروں کو دیکھا جائے تو سیٹھ عابد کے بارے میں کچھ اور کہانیاں بھی گردش کرتی نظر آتی ہیں۔ان کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ’جب امریکی حکومت نے پاکستان پر ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ درآمد کرنے پر پابندی عائد کی تو یہ سیٹھ عابد ہی تھے جنھوں نے فرانس سے ایٹمی ری پروسیسنگ پلانٹ بحری راستے سے پاکستان پہنچایا تھا۔‘

اس کے علاوہ سیٹھ عابد پر ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ان سے تنازع کے بعد ’پاکستان کی سابق وزیراعظم اور اس وقت لندن میں زیرِ تعلیم بےنظیر بھٹو کو ابڈکٹ کرنے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔‘سیٹھ عابد کا نام نومبر 2006 میں اس وقت بھی خبروں میں آیا تھا جب ان کے بیٹے حافظ ایاز کو ان کے محافظ نے لاہور میں شوٹ کر دیا تھا۔

اس کے بعد گذشتہ کئی برس میں سیٹھ عابد کا نام زیادہ نہیں سنا گیا تاہم کچھ عرصہ قبل پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کی فنڈ ریزنگ تقریب میں سیٹھ عابد کا ذکر شارجہ میں پاکستان انڈیا کے کرکٹ میچ کے تناظر میں کیا تھا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’سیٹھ عابد نے شوکت خانم کینسر ہسپتال کی بہت مدد کی تھی۔‘سیٹھ عابد کے بارے میں موجود تمام کہانیوں اور قیاس آرائیوں میں کتنی حقیقت ہے اور کتنا جھوٹ اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم یہ حقیقت ہے کہ سیٹھ عابد کی شخصیت آج بھی کسی راز سے کم نہیں۔

Shares: