fbpx

‏نور مقدم کے قاتل کو سزا کب ملے گی؟ تحریر: احسان الحق

آج سے تقریباً تین سال قبل ہمارے ایک رشتے دار عزیز کے خلاف اقدام قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس اس کو گرفتار کر کے لے گئی. مدعی نے ملزم پر الزام عائد کیا کہ اس نے چھری دکھاتے ہوئے مجھے قتل کی دھمکی دی یا قتل کرنے کی کوشش کی. عدالت میں گواہ بھی پیش کر دئیے گئے. ملزم مسلسل اس الزام کی تردید کرتا رہا. آخر کار متعدد پیشیوں اور ضروری عدالتی کاروائی کے بعد معزز عدالت نے ملزم کو مجرم بنا کر جیل میں بھیج دیا. پچھلے ماہ دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات ہوئے. دس لاکھ روپے کے بدلے صلح کرنے اور مقدمہ واپس لینے پر اتفاق ہوا. مجرم کے غریب اہل خانہ نے گھر کا سارا مال اور سامان بیچ کر اور ادھار لے کر تقریباً دو ہفتوں میں دس لاکھ کا بندوبست کر لیا. تقریباً ڈیڑھ لاکھ اوپر خرچ ہوا. کل گیارہ لاکھ چالیس ہزار خرچ کرنے کے بعد ملزم یا مجرم پچھلے ہفتے گھر واپس آیا. یہاں پر ایسا قانون حرکت میں آیا جو ہمیشہ عام غریب پاکستانی کے خلاف حرکت میں آتا ہے.

مذکورہ بالا واقعہ گوش گزار کرنے کا مقصد یہ ہے کہ چھری دکھاتے ہوئے قتل کی دھمکی کے الزام پر عدالت نے غریب ملزم یا مجرم کو جیل بھیج دیا اور دوسری طرف ایک درندے اور سفاک صفت قاتل کو اعتراف جرم کرنے کے باوجود عدالت سزا سنانے سے قاصر ہے. ایک ایسا سفاک قاتل جس کے خلاف جنسی تشدد، جسمانی تشدد، قتل، قتل کے بعد سر کو دھڑ سے الگ کرنے جیسے سنگین ترین الزامات ثابت ہو چکے ہیں. نور مقدم کا قاتل اثرورسوخ اور کافی طاقتور ہے یہی وجہ ہے کہ اعتراف جرم بلکہ اعتراف جرائم کے بعد بھی عدالت میں پیشیاں بھگتائی جا رہی ہیں. ملک عزیز میں قانون اور آئین کی پاسداری اور بالادستی ناپید ہو چکی ہے اور انصاف ملنا بہت مشکل ہو چکا ہے اور بالخصوص غریب آدمی کے لئے انصاف لینا تقریباً ناممکن بنتا جا رہا ہے. ایسے لاتعداد واقعات اور مقدمات ہیں جن میں ملزمان اعتراف جرم کرتے ہیں، اعتراف جرم کے بعد بھی ان کو سزا نہیں دی جاتی. دوسری طرف غریب آدمی بے گناہ ہوتے ہوئے بھی سزا اور جرمانے کا مستحق ٹھہرتا ہے. بعض اوقات سزا اور قید مکمل ہونے کے بعد بھی عام آدمی کو اضافی انتظار، محنت اور خرچہ کرنا پڑتا ہے، پھر کہیں جا کر اسکی جان چھوٹتی ہے.

پچھلے سال لاہور موٹر وے پر ایک دلخراش واقعہ پیش آیا. ایک کار سوار عورت لاہور سے سیالکوٹ کا سفر کر رہی تھی، گاڑی میں تیل ختم ہونے پر مدد کی انتظار میں سڑک کنارے کھڑی تھی. دو موٹر سوار لوگوں نے جنسی زیادتی کی، جسمانی تشدد کیا اور کچھ سامان بھی چھین کر لے گئے. وہ دونوں مجرم عام پاکستانی تھے. پیسے اور تعلقات کے حوالے سے وہ کمزور مجرم تھے. ان دونوں کو پکڑ لیا گیا اور عدالت نے مختلف دفعات لگاتے ہوئے سزائے موت، قید اور بھاری جرمانے کی سزائیں سنائیں. حالانکہ اس واقعہ میں عورت کو قتل نہیں کیا گیا، قتل کے بعد سر کو جسم سے الگ بھی نہیں کیا گیا، لاش کی بے حرمتی بھی نہیں گئی. پولیس اور ادارے مجرموں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئے اور عدالت نے انہیں سخت سزا دی جس کے وہ یقیناً مستحق تھے. مجرموں اور متاثرہ عورت کے درمیان تعلقات اور طاقت کے حوالے سے بہت فرق تھا. متاثرہ عورت ان جیسی عام پاکستانی ہوتی یا مجرم عورت کے مساوی طاقتور ہوتے تو شاید عدالت فیصلہ کرنے میں عجلت سے کام نہ لیتی یا ابھی تک مقدمہ چلایا جا رہا ہوتا.

نور مقدم واقعہ لاہور موٹروے واقعے سے کہیں زیادہ المناک، دردناک اور دلخراش واقعہ ہے. جس میں قاتل نے انسانیت کی ساری حدیں عبور کرتے ہوئے انتہائی سفاکانہ طریقے سے مقتولہ کو قتل کیا. قتل سے پہلے جنسی تشدد کیا، جسمانی تشدد کیا، پھر قتل کیا، قتل کے بعد پھر تشدد کیا، سر کو دھڑ سے جدا کر دیا. اس واقعہ پر بہت ساری بحث کی جا چکی ہے اور بحث ہو رہی ہے اور اب لوگوں کو اس قتل کے بابت معلوم کو چکا ہے. یہ ایسا درناک، افسوسناک اور المناک واقعہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے اتنی کم ہے. مانا کہ قاتل اور مقتول دونوں اونچے درجے کے خاندان ہیں. دونوں کے پاس پیسوں اور تعلقات کی کوئی کمی نہیں. نور مقدم کے قاتل کا اعتراف جرم کے باوجود بھی اس کے خلاف سزا نہ سنائی جانا اس بات کی دلیل ہے کہ قاتل مقتول سے زیادہ طاقتور ہے. میری ذاتی معلومات کے مطابق مجرم نے دوران تفتیش اقبال جرم کر لیا تھا. دوسری طرف پولیس نے موقع واردات سے شواہد بھی اکٹھے کر لئے تھے اور کچھ عینی شاہدین کے بیانات بھی قلم بند کئے گئے تھے. اس سب کے باوجود قاتل ابھی تک سزا سے دور ہے.

بمطابق 13 ستمبر بروز سوموار کو قاتل ظاہر جعفر کی پیشی تھی. احاطہ عدالت کے باہر لوگوں نے قاتل کو سزا دینے اور نور مقدم کو انصاف دینے کے لئے خاموش احتجاج کیا. ہمارا عدالتی نظام اور سزا و جزا کا عمل اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ لوگ کمرہ عدالت میں اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں پھر بھی ہماری عدالتیں ان مجرموں کو سزا دینے سے قاصر رہتی ہیں. مثال کے طور پر ذیل میں کچھ مشہور واقعات اور ان کا اعتراف کرنے والے مجرمین کا ذکر کرتے ہیں.

کراچی وار گینگ کا سرغنہ عزیر بلوچ دوران تفتیش پولیس کے سامنے اور کمرہ عدالت میں معزز جج کے سامنے 120 سے زیادہ قتل، اغواء برائے تاوان، کراچی میں پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی شہادت، پڑوسی ملک کو حساس مقامات کی معلومات کی فراہمی جیسے سنگین ترین جرائم کا اعتراف کر چکا ہے مگر ابھی تک عدالت نے اسکو سزا نہیں دی. عزیر بلوچ کافی اثرورسوخ رکھنے والا طاقتور آدمی ہے. کراچی میں ایک فیکٹری کے دروازے باہر سے بند کر کے آگ لگا دی گئی تھی جس کے نتیجے میں 258 مزدور زندہ جل کر خاکستر ہو گئے تھے. آگ لگانے والا رحمان بھولا بیرون ملک سے گرفتار ہو کر عدالت میں پیش ہوا اور اقبال جرم کرتے ہوئے سب کچھ کچھ بتا دیا. میرے خیال میں بھولا ابھی تک زندہ ہے. شاہ زیب قتل واقعہ کے مرکزی مجرموں نے کمرہ عدالت میں قتل کا اعتراف کیا تھا مگر ان کو سزا نہیں سنائی جا سکی، اب تو سنا ہے کہ قاتل ملک سے بھی باہر چلا گیا ہے. لاہور میں کمسن گھریلو ملازمہ عظمی کو گھر کی مالکن نے قتل کیا، قتل کرنے کے بعد لاش کو گٹر میں پھینک دیا. مقتولہ نے اقبال جرم کیا، کچھ عرصے بعد عدالت نے مقتولہ کو رہا کر دیا تھا. خیبر پختونخواہ پولیس تہرے قتل میں مطلوب قاتل کو یورپ سے گرفتار کرکے پاکستان لے آئی، قاتل نے عدالت میں اعتراف جرم کیا. کچھ ہفتوں بعد غالباً دو یا تین لاکھ کے بدلے عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا. اس طرح کے واقعات سے ہماری عدالتی تاریخ بھری پڑی ہے.

ناقابل تردید شواہد، مختلف تنظیموں اور پاکستانیوں کے پرزور مطالبے اور احتجاج کے باوجود ابھی تک قاتل کے خلاف سخت ترین کاروائی غیر یقینی نظر آ رہی ہے. عدالتی حوالے سے اصلاحات کی اشد ضرورت ہے تاکہ عدالتیں ظالم کو سزا دینے اور مظلوم کو انصاف دینے میں جلدی کریں. اب دیکھنا یہ ہے کہ قاتل ظاہر جعفر اور شریک جرم اس کے والدین کو عدالت کب اور کتنی سزا دیتی ہے یا پھر رہا کرتی ہے.

‎@mian_ihsaan