پاکستان کے ملکی حالات کس طرف جا رہے ہیں؟کیا حکومت بچ پائے گی؟اس حوالے سے بہت سے سوالات کے سنیئر صحافی مبشرلقمان نے جوابات دیئے ہیں جو کہ قابل غور بھی ہیں، نجی ٹی وی پی این این میں کھرا سچ پروگرام میں پاکستان کی سیاسی ، معاشی اورامن اومان کی صورت حال کے حوالے سے مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان بہرحال اس وقت مشکل ترین دور سے گزررہا ہے
پاکستان کی تازہ صورت حال سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے مبشرلقمان کا کہنا تھاکہ حکومت کچھ اور چاہتی ہے اورعمران خان کچھ اور چاہتے ہیں ، حکومت جلد انتخابات نہیں چاہتی جبکہ عمران خان نئے انتخابات پربضد ہے ، ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کی جو معاشی صورت حال ہے وہ بہت ہی خستہ حال ہے شاید یہی وجہ ہے کہ مریم نواز نے بھی بقول کچھ غیرمصدقہ ذرائع کے یہ کہا ہے اس ساری صورت حال سے بہتر ہے کہ حکومت ہی چھوڑ دی جائے
https://youtu.be/wC17eHLqZaU
مبشرلقمان نے اس موقع پرایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے بھی سوموٹو ایکشن لیا ہوا ہے اور دوسری طرف وزیراعظم اس پر بہت زیادہ ناخوش ہیں اور وزیراعظم تواس عملک پر اس قدرسخت ردعمل دے رہے ہیںکہ وہ سپریم کورٹ کے اس ایکشن پرسخت ناراض ہیں ، مبشرلقمان کا کہنا تھا حکومت کو کچھ پتا نہیں کہ کیا کرنا ہے
ایک سوال کے جواب میں کہ کیا حکومت جلد انتخابات چاہتی ہے تومبشرلقمان نے بتایاکہ ان کے خیال میں حکومت جلد الیکشن نہیں چاہتی اگرچاہتی ہوتی توجو وہ فیصلے کررہی ہے وہ نہ کرتی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت نے لگژری اشیا پر پابندی عائد کردی ہے اور یہ کوشش کی ہے کہ اس سے جوبظاہر صورت حال ہے وہ قابو میں آجائے
مبشرلقمان نے مزید کہا کہ ان اقدامات سے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ابھی انتخاب نہیں چاہتی ، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دوسری طرف پاکستان کی معاشی صورت حال میں مدد دینے کےلیےامریکہ کردار ادا کرسکتا ہے ،
مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ سے پہلے حکومت کچھ ایسے اقدامات کرنا چاہتی ہے کہ جس سے صورت حال قابو میں آجائے ، ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کس حد تک موثرہوتا ہے یہ عمران خان کی کمٹ منٹ پر ہے ، عمران خان اسلام آباد پہنچ کرنئے الیکشن کا مطالبہ کرے گا ، ان کا کہنا تھا کہ صورت حال بہرحال بہت خراب ہے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے سب قوتوں کو مل بیٹھ کراس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے