زرداری کی درخواست ضمانت،عدالت نے وکیل کو دلائل دینے سے روک دیا

سابق صدر آصف علی زرداری کی درخواست ضمانت پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت جاری ہے، عدالت نے سابق اٹارنی جنرل اور زرداری کے وکیل لطیف کھوسہ کو دلائل دینے سے روک دیا.

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آبادہائیکورٹ میں میگا منی لانڈرنگ کیس کے حوالہ سے آصف زرداری اورفریال تالپورکی ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستوں پر سماعت ہو رہی ہے. جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اخترکیانی کیس کی سماعت کررہے ہیں .سابق صدرآصف علی زرداری اور فریال تالپور بھی عدالت میں موجود ہیں .زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں کہا کہ کیا نیب کی دستاویزات مل سکتی ہیں، ہمیں وقت دے دیں کہ ہم ریکارڈ دیکھ کرجواب الجواب دیں، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کم ازکم میں اپنی جانب سےسختی سے مستردکرتاہوں،جو کچھ آچکا اسی کی بنیاد پراب فیصلہ کیا جائےگا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ نہ اپیل ہے نہ ٹرائل،قبل ازگرفتاری ضمانت کی درخواست ہے،فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ قبل ازگرفتاری ضمانت میں بھی کچھ چیزیں ہیں جن پرجواب دیناہے، عدالت نے کہا کہ ضمانت کےجومروجہ قوانین ہیں ان کے مطابق چلیں، عدالت نے کہا کہ نیب کہہ دے آصف زرداری،فریال تالپورکاتعلق نہیں تودرخواست ویسے نمٹا دیتے ہیں،نیب نے عدالت میں کہا کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کا کیا کردار ہے،دستاویزات پیش کردیں، آصف زرداری اور فریال تالپور کے جرم میں کردار پرتین رپورٹس ہیں، کیس کی سماعت کے دوران لطیف کھوسہ نے کہا کہ زرداری صاحب کا میں بھی وکیل ہوں،مجھےبھی دلائل دینےدیں، جس پر عدالت نے کہا کہ آپ دلائل دیں یا فاروق نائیک ، ایک سے زیادہ وکلا دلائل نہ دیں، نیب کی طرف سےایک پراسیکیوٹرہیں تو آپ بھی ایک ہی وکیل دلائل دیں،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ خواجہ نمر مجید اور غضنفر احسن ابھی نیب کو مطلوب نہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ جو مطلوب نہیں ان کی حد تک درخواستیں نمٹا دیتے ہیں.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.