ورلڈ ہیڈر ایڈ

جن حالات میں اس وقت پنجاب گزر رہا ہے آرٹیکل 149 یہاں پر بھی لاگو ہونا چائیے اور حالات کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ سلیکٹڈ حکومت ملک کو لے ڈوبے گی..سردار دوست محمد کھوسہ

ڈیرہ غازی خان(تنویر احمد) سابق وزیر اعلیٰ پنجاب و پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سرداردوست محمدخان کھوسہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے تین صوبوں کو اس وقت وفاق چلانے کے باوجود بھی کرپشن اور لاقانونیت عروج پر ہے جبکہ آرٹیکل 149لاگو کرکے صوبہ سندھ کے اختیارات کووفاق کے کنٹرول میں لانے کوشش کی جارہی ہے جن حالات میں اس وقت پنجاب گزر رہا ہے آرٹیکل 149 یہاں پر بھی لاگو ہونا چائیے اور حالات کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ سلیکٹڈ حکومت ملک کو لے ڈوبے گی ورآنے والے وقتوں میں پاکستان کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گاجبکہ نیشنل سیکورٹی سے منسلک ادارے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا مثبت کردار ادا کریں وہ اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے انہوں نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے جب اکتوبر میں طبل بجا تو تو لاک ڈاؤن صرف اسلام آباد تک نہیں بلکہ سندھ،جنوبی پنجاب،سنٹرل پنجاب اور اپر پنجاب تک ہوگا اور پھر یہ سلسلہ تھمے گا نہیں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت تمام معاملات میں ناکام ہوچکی ہے کنٹینر سے لیکر وزیر اعظم کی کرسی تک عمران خان کی باتیں صرف ہوائی دعوؤں اور یو ٹرن کے گردد ہی گھومتی ہے عوام کو مہنگائی کے سونامی میں دھکیل کر خودکشیوں پر مجبور کردیا ہے ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دیکر اقتدار میں آنے والوں نے لاکھوں افراد کے منہ سے روٹی کا نوالہ تک چھین لیا وزیر اعظم کی وجہ سے کشمیر کا ایشو دنیا میں مضبوط طریقے سے سامنے نہیں لایا گیااور یہ کہتے ہیں کہ اگر بھارت نے آزاد کشمیر میں کوئی حرکت کی تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے کیا مقبوضہ کشمیر سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے جبکہ عمران خان کی کشمیر پالیسی صرف اتنی ہے کہ ہر جمعہ گھروں سے باہر نکل سڑک پر آدھا گھنٹہ انڈیا کے خلاف نعرے بازی کر کے سکون سے جاکر سو جائیں سردار دوست محمد خان کھوسہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے عام انتخابات سے قبل جنوبی پنجاب کو الگ شناخت دینے سمیت عوام سے کیا گیا کوئی ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا جبکہ جنرل الیکشن سے قبل ایلکٹیبلز کو جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں دھکیلا گیا اور پھر جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کو کو پی ٹی آئی میں ضم کرکے جنوبی پنجاب الگ صوبہ بنانے کا وعدہ کیا گیالیکن صوبہ تو دور کی بات موجودہ حکومت جنوبی پنجاب کا الگ سیکرٹریٹ بھی نہ بنا سکی انہوں نے کہا کہ اقرباء پروری، کرپشن اور لوٹ مارکے اثرات وفاق سے لیکر تحصیل سطح پرواضح دکھائی دیتے ہیں سردار دوست محمد خان نے کہا کہ پسماندہ علاقے سے سلیکٹڈ وزیراعلی کے ضلع کا یہ حال ہے کہ ایک سال کے دوران تین کمشنر دو آر پی او اور پانچ ڈی پی اوز تبدیل کیے گئے کیا یہی پر فارمنس ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کہتے تھے کہ جب تیل گیس چینی اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ ہو تو سمجھیں کہ حکمران چور ہیں اب بتائیں کہ کون چور ہیں انہوں نے کہا کہ ڈی جی خان میں بر سر اقتدار ارکان اسمبلیوں کو نہ شہریوں کے مسائل نظر آتے ہیں نہ ہی ان کے پاس اتنا ٹائم ہے کہ عوام کے مسائل کو سمجھ سکیں پنجاب اس وقت لاوارث صوبہ بن چکا ہے سابق وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ وفاق ہو یا پنجاب تمام جگہوں پر کرپشن اقرباء پروری اور کرپشن عروج پر ہے اپوزیشن ارکان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہا ہے جبکہ کروڑوں کی کرپشن میں ملوث حکومتی ارکان سے کوئی پوچھنے والا نہیں انہوں نے کہا کہ ڈی جی خان میں انکے دور کے سیوریج لائن پر ناقص کام کا الزام لگانے والوں یاد رکھناچاہئے کہ اسی پائپ لائن سے2010کے سیلابی پانی کو نکالا گیا جبکہ حکومت کی طرف سے دو ارب روپے سے زائد کا سیوریج کو منصوبہ محض حکومتی سرمائے کو ضائع کرنے کے مترادف ہے انکا کہنا تھا کہ موجود صورتحال میں صرف بیس فیصد سیوریج لائن خراب ہے جس کو ریپیئر کیا جاسکتا ہے انکا کہنا تھا سابقہ مئیر شاہد چانڈیہ نے اپنی کار کردگی سے خود کو نااہل ثابت کیا سردار دوست محمد کا کہنا تھا کہ ڈی جی خان کے عوام کے جنگ لڑنے کے لیے جاگ ڈیرہ جاگ مہم کا آغاز کیا جارہا ہے کیونکہ اس وقت شہرگندگی کے انبار میں ڈوب چکا ہے جبکہ ہماری مہم کا مقصد ڈیرہ کے ہر گلی میں جاکر عوامی مسائل کی نشاندہی کرنا اور عوام کو اپنے تعاون کا یقین دلایا ہے اس موقع پر پی پی پی رہنماء بہرام خان بزدار اور شبلی شب خیز غوری سمیت دیگر درجنوں کارکنان موجود تھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.