وہ کیسی عورتیں تھیں

0
40

ایک زمانہ تھا کہ عورت ان پڑھ تھی، بچوں کی کثیر تعداد ساس، سسر کے ساتھ، ساتھ نندوں اور دیوروں کی کفالت اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا.
اوپر سے ایک عجیب الفطرت مرد بطور مجازی خدا اسے برداشت کرنا پڑتا تھا، مگر اس سب کے باوجود وہ محفوظ تھی، پرسکون تھی اور ڈھلتی عمر کے ساتھ وہ ایک رہنما اور سرپنچ کے عہدے تک پہنچ جاتی تھی بچوں پر حکم، فیصلے سنانے کے علاوہ سارا دن گھر داری میں گزارنے والی کو محلے کی عورتوں کے علاوہ کسی سے تعلق نہ ہوتا تھا.
پھر زمانہ جدید ہوا عورت کا اپنے مقام کا احساس ہوا اور وہ آزاد ہونے لگی…
سسرال تو بہت بعید اسے خاوند کی خدمت بھی ایک بوجھ لگنے لگی، اور پرائیویسی کے نام پر علیحدہ گھر کے مطالبات ہونے لگے،
پھر زمانے نے مزید ترقی کر لی اور اس سے بھی چند قدم آگے جا کر اب عورت مکمل آزاد ہے تعلیم یافتہ ہے اور اپنی زندگی جی رہی ہے، خیر عورت کو ترقی کرنی چاہیے ضرور کرنی چاہیے میں اس کے بلکل خلاف نہیں،
مگر……. !!
عورت جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی جا رہی ہے اس کے رشتے کا مقابل مرد تلاش کرنا اتنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ مردوں کی اکثریت حد ماسٹر ڈگری وہ بھی فارمل ایجوکیشن کے ساتھ کرنے کے بعد ملازمت ڈھونڈنے میں مگن ہو جاتی ہے، اب اس کا اگلا قدم یہ ہو گا کہ عورت ہی ملازمت کر کے گھر کی کفیل ہوا کرے گی، جبکہ مرد مکمل فارغ یا پھر کسی چھوٹی موٹی ملازمت سے بس زندگی کو دھکا دینے کی ناکام کوشش کرتا ہوا نظر آئے گا…
یہ تو بھلا ہو میڈیا کا جس نے ابھی سے مستقبل کی تیاری شروع کرا دی، ایک اشتہار میں ایک عورت اپنے دفتر سے ویڈیو کال میں گھر بیٹھے بچے کو آ آ آ آں ں ں ں کی آواز نکال کر بچے کو منہ کھولنے کو کہتی ہے اور بچہ منہ کھولتا ہے تو اس بچے کا باپ اس کے منہ میں نوالہ ڈالتا ہے….
ایک اشتہار میں گھر بیٹھی ماں اپنی جوان بیٹی کا انتظار کر رہی ہوتی ہے جو رات کے دس بج کر دس منٹ پر گھر پہچتی ہے اور ماں کو چائے بنا کر دیتی ہے،
عورت کی اس طرح کی آزادی ہمارے خاندانی نظام کے لیے بڑی خطرناک ہے،
بچے_کے_گرنے_پر_ماں_کا_میں_صدقے_کہہ_کر_لپکنا،
بچے_کے_ہر_آہٹ_پر_بے_چین_ہو_جانے_والی_ماں،
بڑھتی_عمر_کے_بچوں_کے_لئے_فکر_مند_ماں،
وہ_سب_کی_پسند_نا_پسند_کا_خیال_کر_کے_ہانڈی_پکانے_والی_ماں،
#قصے_کہانیاں_اور_لوری_سنا_کر_سلانے_والی_ماں،
غلط__کاموں_پر_ڈانٹنے_اور_چپلیں_پھینک_کر_ڈرانے_والی_ماں،
اپنی_اولاد_کی_پرورش_میں_گم_صم_رہنے_والی_اور_اپنی_اولاد_میں_کیڑے_نکالنے
اور_نکتہ_چینیاں_کر_کے_دل_ہی_دل_میں_خوش_ہونے_والی_ماں،

اب_اگلی_نسل_کو_شاید_نصیب_ہی_نہ_ہو…

کیونکہ سارا دن کی تھکی ہاری عورت رات کو کیا، کیا کرے گی؟؟
بچے سنبھالے گی، گھر سنبھالے گی، شوہر سنبھالے گی، یا رات کو آرام کرے گی، تاکہ صبح تازہ دم ہو کے ملازمت کی ذمہ داری سنبھال سکے….؟
میری تحریر کئی لوگوں کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہے مگر میں نے حقیقت لکھنے کی کوشش کی ہے، کچھ سمجھانے کی کوشش کی ہے، امید ہے کہیں بھی ضرب لگ گئی تو میری تحریر رائیگاں نہیں جائے گی۔

Leave a reply