پاکستان کیلئے 2 ارب ڈالر کے منصوبے پائپ لائن میں ہیںڈ:پٹی کنٹری ڈائریکٹرایشیائی ترقیاتی بینک

0
37

لاہور:پاکستان کیلئے 2 ارب ڈالر کے منصوبے پائپ لائن میں ہیں،اطلاعات کے مطابق ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر اسد علیم نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے 2 ارب ڈالر کے منصوبے پائپ لائن میں ہیں جو پاکستان کی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوں گے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر رحمان عزیز چن اور نائب صدر حارث عتیق سے لاہور چیمبر میں ملاقات کی اور ان خیالات کا اظہار کیا۔اس موقع پر ایگزیکٹو کمیٹی ممبرمردان علی زیدی، اے ڈی بی کی مس ری ہیروکا، شہریار اے چودھری اور نصرالمن اللہ بھی موجود تھے۔ ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر اسد علیم نے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی ، صحت، آبپاشی اور تعلیم سے متعلق منصوبے پاکستان کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گےانہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سندھ اور پنجاب کی حکومتوں سمیت اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کیے گئے ہیں۔

ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر اسد علیم نے کہا کہ نجی شعبے سے رائے لینے کے لیے کراچی چیمبر ، لاہور چیمبراور پاکستان بزنس کونسل کے ساتھ بھی ملاقاتیں کی گئی ہیں جن کا مقصد یہ جاننا ہے کہ پاکستان میں کن پروجیکٹس کی ضرورت ہے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر میاں رحمان عزیز چن نے کہاکہ لاہور چیمبر 1966 سے پاکستان کی معاشی ترقی میں ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کے کردار کو مکمل طور پر تسلیم کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں ایشین ڈیویلپمنٹ بینک نے پاکستان میں معاشی ترقی کے فروغ اور ملک کے بنیادی انفراسٹرکچر، توانائی، فوڈ سیکیورٹی ، ٹرانسپورٹ نیٹ ورکس، اور سماجی خدمات وغیرہ کو بہتر بنانے کے لیے 37 بلین ڈالرز سے زیادہ صرف کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر پہلے ہی ٹارگٹڈ سبسڈی پر زور دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فارماسیکٹر خود انحصار ہونے کا خواہشمند ہے، ملٹی نیشنل کمپنیاں اس شعبے میں اشتراک کریں جس سے پاکستان کو ٹیکنالوجی بھی ملے گی۔میاں رحمان عزیز چن نے پاکستان میں مکینائزڈ فارمنگ اور سولرانرجی کے شعبے کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان مشکل معاشی دور سے گزر رہا ہے کیونکہ گزشتہ ایک سال میں روپے کی قدر میں 30 فیصد سے زائد کی کمی ہوئی ہے، مہنگائی 13 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ میں تجارتی خسارہ 39 ارب ڈالرز سے تجاوز کر چکا ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر میں تقریباً 10ارب ڈالرز تک کمی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ سنگین معاشی چیلنجز نجی شعبے کی ترقی پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر نے مزید کہا کہ پاکستان کو معاشی اورمالیاتی استحکام اور نجی شعبے کو سہولیات کی فراہمی کے ذریعے کاروباری ماحول بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اقتصادی طور پر مضبوط رہنے کے لیے ویلیو ایڈڈ ایکسپورٹ کے فروغ، توانائی کے شعبے میں نرخوں کا تعین اوربنیادی تبدیلیاں رونماکرنے کی ضرورت ہے۔

میاں رحمان عزیز چن نے کہا کہ ہماری معیشت کی تبدیلی میں نجی شعبے کا کردار اہم ہے جبکہ نجی شعبے کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ فنانس تک رسائی نہ ہونا ہے۔ پاکستان میں نجی شعبے کو دستیاب کریڈیبلٹی جی ڈی پی کا صرف 16 فیصد ہے، جو کہ خطے میں سب سے کم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں ایس ایم ایز کو نجی شعبے کو دستیاب فنانسنگ کا صرف 6.5 فیصد ملتا ہے،یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان میں بینکنگ کا محض ایک روایتی سسٹم موجود ہے جونجی شعبے کو موجودہ معاشی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے خاص مددگار ثابت نہیں ہوتا۔

سینئر نائب صدر لاہور چیمبر نے مزید کہا کہ فنانس تک آسان رسائی نجی شعبے کو آمدنی کے مواقع پیدا کرنے، گڈز اور سروسز کی فراہمی اور لوگوں کا معیار زندگی بہتر بنانے کے قابل بناتی ہے ، اس کے ساتھ ہی حکومت کو انفراسٹرکچر کے حوالے سے بنیادی ضروریات کو پورا کرنے اور ترقی کی راہ میں چیلنجوںسے نمٹنے میں مدد کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے پرائیویٹ سیکٹر آپریشنز کے ذریعے نجی شعبہ کو فراہم کی جانے والی امداد انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

Leave a reply