2045 تک طبعی موت ختم، بوڑھے جوان ہو سکیں گے،جینیاتی انجینئرز کا دعویٰ

انسان بیماری یا طبی موت سے نہیں مریں گے بلکہ صرف حادثات ہی موت کا سب بنیں گے
0
30
janatic science

جینیاتی انجینئرز کا کہنا ہے کہ 2045 تک موت ‘اختیاری’ اور بڑھاپا ‘قابل علاج’ ہوگا۔

باغی ٹی وی: 2045ء تک موت اختیاری ہو جائے گی۔دنیا کے دو نامور جنٹیک انجینئرز Jose Luis cordeiroاور David woodکے مطابق آئندہ 27سالوں میں نہ صرف موت پر اختیار حاصل ہو سکے گا بلکہ بڑھاپے کے عمل کو بھی ریورس کیا جا سکے گا،وینزویلا میں ہسپانوی والدین کے ہاں پیدا ہونے والے ہوزے لوئس کورڈیرو اورکیمبرج (برطانیہ) کےریاضی دان ڈیوڈ ووڈ، جو آپریٹنگ سسٹم ‘سمبین’ کے بانی ہیں، نے حال ہی میں موت کی موت شائع کی ہے-

اپنی نئی کتاب ’’موت کی موت ‘‘میں ان دونوں سائنس دانوں نے لکھا ہے کہ ابدیت یا غیر فانیت اب ایک حقیقت اور سائنسی طور پر ممکن عمل ہے۔ آئندہ 27سال تک میڈیکل سائنس اتنی ترقی کر جائے گی کہ انسان بیماری یا طبی موت سے نہیں مریں گے بلکہ صرف حادثات ہی موت کا سب بنیں گے۔

امریکی ریاست میں شدید آتشزدگی،تاریخی قصبہ جل کر راکھ

بارسلونا میں اپنی کتاب کی تقریب رونمائی پر دونوں سائنس دانوں نے کہا کہ اس نئی جینیاتی جوڑ توڑ Genetic manipulation میںنینو ٹیکنالوجی کو کلیدی حیثیت حاصل ہو گی۔یہ سارا عمل خراب جینز کو صحت مند بنانے، مردہ سیلز کو جسم سے نکالنے کے ساتھ ساتھ تباہ شدہ سیلز کی مرمت وغیرہ پہ محیط و مشتمل ہو گا تباہ شدہ خلیات کی مرمت، اسٹیم سیلز سے علاج اور اہم اعضاء کو تھری ڈی میں ‘پرنٹ’ کرنا شامل ہے۔

Jose Luis cordeiroجس کا تعلق میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ( MIT USA) سے ہے کا کہنا ہے کہ اس نے خود تو کبھی نہ مرنے کا انتخاب کرلیا ہے اور 30سال کے بعد وہ آج سے بھی زیادہ جوان ہو گا ۔عمررسیدگی، DNA Tails یا Telomeres کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے ۔کروموسومز، جن کے اندر یہ Telomeresموجود ہوتے ہیں، – جس میں سرخ خون اور جنسی خلیوں کے علاوہ ہر خلیے میں 23 جوڑے ہوتے ہیں عمر کے ساتھ ساتھ سکڑتے چلے جاتے ہیں اورعمررسیدگی کو ریورس کرنے کیلئے ان کو بڑھانا ضروری ہو گا ۔وقت کے ساتھ ساتھ ان کے سکڑنے اور تباہ وخستہ ہونے میں تمباکو نوشی، شراب نوشی اور فضائی آلودگی کا عمل دخل بہت زیادہ ہے یہ اور ایسے دیگر عناصر Telomeresکی لمبائی کو کم کر دیتے ہیں جس سے بڑھاپے کا عمل تیز ہو جاتا ہے ۔

شادی کے بعد بیوی مرد نکلی،شوہرنے پولیس کو درخواست دیدی

دونوں سائنس دانوں کو یقین ہےکہ دس سال کے اندراندر کینسرجیسی بیماریاں قابل علاج ہوں گی اور یہ کہ گوگل جیسی بڑی بین الاقوامی کمپنیاں ‘طب کے شعبے میں داخل ہوں گی’ کیونکہ وہ ‘یہ سمجھنا شروع کر رہے ہیں کہ عمر بڑھنے کا علاج ممکن ہے،مائیکروسافٹ نے مبینہ طور پر پہلے ہی ایک کریوپریزرویشن سینٹر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جس میں ایک سائنسدان کینسر کے مکمل طور پر قابل علاج ہونے کے امکان پر ایک دہائی کے اندر تحقیق کر رہا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کینسر سیلز غیرفانی ہوتے ہیں لافانی ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ کرہ ارض پر ہجوم ہو جائے، اول تو زمین ہی کافی ہوگی کیونکہ زیادہ بچوں کا رجحان ختم ہو جائے کیونکہ لوگوں کے پاس اتنے بچے نہیں ہیں جتنے ان کے پاس پچھلی دہائیوں اور صدیوں میں تھےلیکن تب تک خلا میں رہنا بھی ممکن ہو چکا ہو گاجاپانی اور کورین اپنی موجودہ شرح پیدائش کے سبب آئندہ دو صدیوں تک ختم ہو چکے ہوں گے-

انجینئر بتاتے ہیں کہ، اگرچہ ‘لوگ عام طور پر اس کے بارے میں نہیں جانتے’، لیکن یہ 1951 میں دریافت ہوا کہ کینسر کے خلیات کیسے لافانی ہوتے ہیں: جب ہینریٹا لاکس گریوا کے کینسر سے مر گئے، سرجنوں نے ٹیومر کو ہٹا دیا اور اسے رکھا اور یہ اب بھی ‘زندہ’ ہے۔

آئی سی سی نے ورلڈ کپ 2023 کے ٹکٹوں کی فروخت کا اعلان کر دیا

اینٹی ایجنگ ٹریٹمنٹ کی لاگت کا موازنہ جدید ترین اسمارٹ فونز سے کیا گیا Cordeiro کہتے ہیں، "پہلے تو یہ مہنگا ہو گا، لیکن مسابقتی مارکیٹ کے ساتھ قیمت بتدریج گرے گی کیونکہ یہ ایسی چیز ہو گی جس سے سب کو فائدہ پہنچے گا ٹیکنالوجی، جب یہ نئی ہوتی ہے، ناقص اور انتہائی مہنگی ہوتی ہے، لیکن یہ بالآخر جمہوری اور مرکزی دھارے میں شامل ہو جاتی ہے اور سستی ہو جاتی ہے۔”

دونوں سائنس دانوں نے یہ سنسنی خیز اعتراف بھی کیا کہ وہ ’’غیر قانونی ‘‘ طور پر گزشتہ دو سال سے یہ ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔یہ کتاب 4 زبانوں میں شائع ہو گی اور اس کی آمدنی اسی کام پر مزید ریسرچ کیلئے استعمال ہو گی۔اور ہم اپنی آمدنیوں سے بیرون ملک جائید ادیں خریدیں گے ؟فرق صاف ظاہر ہے-

رضامندی سے چھ برس تک جسمانی تعلقات قائم کرنے کو "زیادتی” نہیں کہا جا سکتا، …

ان کی پہلی انسانی مریضہ ایلزبتھ پیرش نے ‘بڑھاپے کی علامات دیکھنا شروع کیں اور پوچھا کہ اسے روکنے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے’۔اس کا علاج ‘انتہائی پرخطر اور غیر قانونی بھی ہے’، ووڈ بتاتے ہیں، لیکن اس وقت ٹھیک چل رہا ہے، اس کے کوئی منفی اثرات نہیں ہوئے، اور اس کے خون میں ٹیلومیرس کی سطح ‘پہلے سے 20 سال چھوٹی’ ہے۔

ووڈ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ اسپین ان ٹیکنالوجیز کی دنیا میں ایک مقام حاصل کرے اور یہ ظاہر کرے کہ ہم پاگل نہیں ہیں، یہ صرف اتنا ہے کہ لوگ ابھی تک ان کے بارے میں نہیں جانتےدی ڈیتھ آف ڈیتھ کو بالآخر چار زبانوں میں شائع کیا جائے گا ہسپانوی، انگریزی، پرتگالی اور کورین اور اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی مصنفین کی تحقیق میں ڈال دی جائے گی-

فون پرخاتون پولیس اہلکار کو ہراساں کرنے کے الزام میں قید اور جُرمانہ

Leave a reply