fbpx

کامن ویلتھ گیمز:7 سال سے اس گیم کو جیتنے کی کوشش کررہا تھا ،نوح دستگیر

اتنا وزن اٹھانا آسان نہیں ہوتا، 12 سے 13 سال کی محنت کے بعد یہ کر پایا,نوح دستگیر

برمنگھم میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں گوجرانوالہ کے 24 سالہ پاکستانی ویٹ لفٹر نوح دستگیر بٹ نے گولڈمیڈل جیت کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا-

باغی ٹی وی : پاکستانی ویٹ لفٹر نوح دستگیر بٹ نے برطانیہ میں جاری کامن ویلتھ گیمز میں 109 ویٹ کیٹگری میں مجموعی طور پر 405 کلوگرام وزن اٹھایا۔ اسنیچ میں 173جبکہ کلین اینڈ جرک میں 232کلوگرام وزن اٹھایا جو 109 ویٹ کیٹگری میں کامن ویلتھ گیمز کا نیا ریکارڈ ہے۔

نوح دستگیر بٹ نے 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل جیتنے سے قبل 2018 کے کامن ویلتھ گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔2017 اور 2021 میں منعقدہ کامن ویلتھ ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں چاندی کے تمغے جیتے۔ وہ دو مرتبہ کامن ویلتھ جونیئر ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں بھی کانسی کے تمغے جیت چکے ہیں۔

نوح دستگیر بٹ کا تعلق ویٹ لفٹنگ کی مشہور فیملی سے ہے ان کے کیریئر پر ان کے والد کا گہرا اثر رہا ہے، نوح کے والد غلام دستگیر بٹ ساؤتھ ایشین گیمز میں چار مرتبہ گولڈمیڈل جیت چکے ہیں، نوح بٹ اپنے والد کی نگرانی ہی میں ٹریننگ کرتے ہیں-

کامن ویلتھ گیمز: سری لنکن جوڈو کھلاڑی اور آفیشل ایونٹ سے لاپتہ

نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے نوح دستگیر نے کہا کہ 7 سال سے اس گیم کو جیتنے کی کوشش کررہا تھا اتنا وزن اٹھانا آسان نہیں ہوتا، 12 سے 13 سال کی محنت کے بعد یہ کر پایا۔

ان کا کہنا تھاکہ گھر میں ہی والد صاحب ٹریننگ کراتے ہیں،میرے والد بھی انٹرنیشنل ویٹ لفٹر تھےجبکہ بھائی بھی اس کھیل میں ہے۔ پچھلی بار برانز میڈل لیا تھا مگر اس بار پاکستان کا نام روشن کیاحکومت سے کہنے کی ضرورت نہیں،میں نے اپنا کام کردیا،اب وہ کر کے دکھائیں۔

واضح رہے کہ نوح دستگیر بٹ نے کامن ویلتھ گیمز 2022 میں پاکستان کیلئے پہلا گولڈ میڈل جیتا ہے نوح دستگیر بٹ کا گولڈ کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں پاکستان کا صرف دوسرا گولڈ میڈل ہے، اس سے قبل 2006 میں شجاع الدین ملک نے پاکستان کیلئے ویٹ لفٹنگ میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔

پاکستانی باکسر زوہیب رشید غلطی کے باعث کامن ویلتھ گیمز سے باہر