’31 کو دفاع کا بیان ہوا تو 30 جنوری کو فیصلہ کیسے ہوا؟‘‘چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

0
120
islamabad highcourt

اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ روسٹرم پر گئے اور دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی 3 لوگوں کے ساتھ ایک آڈیو سامنے آئی، شاہ محمود قریشی، اعظم خان اور اسد عمر بھی گفتگو میں شامل ہیں، ایف آئی اے نے اپنی ٹیکنیکل رپورٹ میں بتایا کہ یہ گفتگو کیا ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ایف آئی اے رپورٹ تصدیق کر رہی ہے کہ یہ گفتگو ہے، جس پر پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے جواب دیا کہ سامنے آنے والی آڈیو میں سائفر کے ساتھ کھیلنے کا تذکرہ ہے، وفاقی کابینہ کی منظوری سے ایف آئی اے میں انکوائری رجسٹر ہوئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارتِ خارجہ کی بجائے وزارتِ داخلہ مدعی کیوں تھی؟ بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے اس نکتے پر بہت زور دیا ہے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس پر پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں آگے چل کر اس متعلق عدالت کی معاونت کرونگا، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر نے اکتوبر 2022 میں پہلی شکایت درج کرائی، ستمبر 2023 کو نئے سیکرٹری داخلہ آفتاب درانی نے دوسری شکایت جمع کرائی، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مطلوبہ ضرورت پوری کرنے کیلئے دوسری شکایت دائر کی گئی، 16 اگست 2023 کو ایف آئی اے نے بانی پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ مانگا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، 16 اگست کو بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کیا گیا۔ پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو 19 اگست 2023 کو گرفتار کیا گیا، 3 اکتوبر 2023 کو ملزمان کے خلاف چالان جمع کروایا گیا، 23 اکتوبر کو ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی جو ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دی، 13 دسمبر 2023 کو دوسری بار فردِ جرم عائد کی گئی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکلاء کون تھے؟ پھر ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے مقرر کیے گئے وکلاء کون تھے؟ چیف جسٹس نے مداخلت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مائی لارڈ یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ ملزمان کے اپنے وکلاء کون تھے جن کے وکالت ناموں پر انہوں نے دستخط کیے، پھر وہ وکلاء کون تھے جن کو ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے ملزمان کیلئے مقرر کیا، جسٹس حسن اورنگزیب نے کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے اپنے وکلاء اور ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے مقرر کردہ وکلاء کا تقابلی جائزہ بہت ضروری ہے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کہا کہ 30 جنوری 2024 کو گواہوں پر جرح مکمل ہوئی، 31 جنوری کو ملزمان کا دفاع کا بیان مکمل ہوا، چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ فیصلہ کب ہوا؟ جس پر پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے جواب دیا کہ 30 جنوری کو ہی فیصلہ سنایا گیا، چیف جسٹس نے نقطہ اٹھایا کہ 31 جنوری کو دفاع کا بیان ہوا تو 30 کو فیصلہ کیسے ہوا؟ پراسیکیوٹر نے فاضل جج سے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں میرے پیچھے مشورے دینے والے بہت ہیں، 30 جنوری کو دفاع کا بیان ہوا اور اسی دن فیصلہ ہوا۔ عدالت نے پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی۔

Leave a reply